• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محترم عرفان صدیقی اچھا لکھتے ہیں ۔ان کی تحریر میں جدت افکار بھی ہوتی ہے اور ندرتِ الفاظ بھی ۔تاہم ان جیسے سنجیدہ کالم نگار سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی دوسرے کے بارے میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے حقائق سے دانستہ چشم پوشی اور پہلو تہی کریں گے۔

روزنامہ جنگ کے اپنے کالم 11جولائی 2023 بعنوان ”یہ منصف کب کٹہرے میں آئیںگے“میں انہوں نے جماعت اسلامی کا حوالہ دیتے ہوئے حقائق کو یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔مثلا ًانہوں نے تحریر کیا ، کہ اگست 2016میں جماعت اسلامی نے نواز شریف کیخلاف کارروائی کیلئے پہلی پٹیشن دائر کی۔

اس طرح انہوں نے دانستہ اس حقیقت کو چھپایا کہ جماعت اسلامی نے صرف نوازشریف کے خلاف نہیں پانامہ لیکس میں شامل 436افراد کے خلاف عدالت عظمی ٰسے رجوع کیا تھا ۔محترم عرفان صدیقی صاحب پر اچھی طرح واضح ہے کہ جماعت اسلامی ہر دور میں ہر حکومت کی ہر طرح کی کرپشن کے خلاف رہی ہے ۔ہم کبھی احتساب میں پک اینڈ چوز کے قائل نہیں رہے ۔ہم نے کرپشن کے خلاف محترم قاضی حسین احمدؒ صاحب کے دور امارت سے تحریک احتساب شروع کی تھی جو محترم سید منور حسن ؒ صاحب کے دور امارت میں بھی جاری رہی ۔محترم سراج الحق صاحب نے کرپشن فری پاکستان تحریک شروع کی تو پاکستان کے طول و عرض میں سینکڑوں جلسوں ،ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں کرپشن فری پاکستان کا ماحول بنتا گیا ۔حقیقت میں کرپشن کیخلاف بات کرنے اور علم بغاوت بلند کرنے کا حق بھی صرف جماعت اسلامی ہی رکھتی ہے اس لئے کہ پی پی پی ،پی ٹی آئی ،ن لیگ سمیت کسی کا دامن بھی کرپشن سے پاک نہیں ۔یہ صرف جماعت اسلامی ہے جس کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ،سینیٹرز ،وزراءمیئر کراچی عبد الستار افغانی، ناظم کراچی نعمت اللہ خان سمیت کسی فرد پر کرپشن کا کوئی جھوٹا الزام بھی نہیں ۔چونکہ جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان کی تحریک چلارہی تھی اس لئے جب پانامہ لیکس سامنے آئی تو جماعت اسلامی نے پانامہ لیکس کے خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ قومی احتسابی اداروں نے اپنا کام نہیں کیا جس کیلئے ان سے پوچھ گچھ کی جائے اور ان کو کہا جائے کہ ذمہ داران کا تعین کرکے ان کو قرار واقعی سزا دیں ۔محترم عرفان صدیقی صاحب کی یہ بات بھی حقائق کے منافی ہے کہ تین دن بعد پانچ بڑے اعتراضات لگا کر” اسے ناکارہ ،فضول ،کھوکھلی ،لایعنی ،غیر سنجیدہ اور اوچھی قرار دے کر واپس لوٹا دیا گیا“ ۔ اس طرح کی کسی بات کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔جماعت اسلامی پاکستان نے 436افراد کے خلاف تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے عدالت عظمیٰ سے یہ مطالبات کئے تھے کہ ۔

(الف)چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو دیگر ججز پر مشتمل ،تین رکنی کمیشن بنایا جائے جو پانامہ لیکس میں شامل 436 افراد کے اثاثوں کی تحقیقات کیلئے پیش رفت کرے۔

(ب)یہ کمیشن ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے سکتا ہے جو آف شور کمپنیوں اور ان کے اکاؤنٹس کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لے ۔

(ج)اس کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ آف شور اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی ،ترسیل اور پھر اکاؤنٹس سے رقوم کی منتقلی ،ترسیل کو بیرون ملک جائیدادیں خریدنے اور دیگر سرمایہ کاری کی غرض سے استعمال کرنے کے بارے میں تصدیق کرے ۔

(د)کمیشن ریسپا نڈنٹ کو ہدایت کریگاکہ وہ ناقابل واپسی مختار عام دے ،تاکہ تحقیقات کا عمل آگے بڑھ سکے ۔

مورخہ 7نومبر 2016ءکو پانامہ لیکس کیس میں جماعت اسلامی پاکستان کے وکیل نے جماعت اسلامی کی دستوری درخواست نمبر 28/2016ء میں اضافی TORSپر مبنی متفرق درخواست دائر کی۔

متفرق درخواست میں کہا گیا کہ جماعت اسلامی نے اس سے قبل دستوری درخواست نمبر 28دائر کی تھی ۔درخواست میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کئی کمیشن بنے اور ان کی سفارشات بھی موجود ہیں لیکن بوجوہ ان کا کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ۔اس لئے اب انکوائری اور ٹرائل کیلئے ایک ایسے کمیشن کا قیام ضروری ہے کہ پانامہ پیپرز میں جن کے نام آئے ہیں ،جو غیر قانونی اقدامات کے مرتکب ہوئے ہیں ،ضروری ہے کہ حقائق سے پردہ اٹھایا جائے۔جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست میں کہا کہ....

1۔کمیشن کی کارروائی عوام کیلئے اوپن ہونی چاہئے ۔2۔کمیشن کو کم ازکم 25دن میں تفتیش مکمل کرلینی چاہئے ۔3۔پانامہ لیکس کے معاملے میں انکوائری کمیشن کو تیز تر ٹرائل کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے وکلاءنے زور دیا کہ عدالت تمام 436افراد کیخلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے ۔لیکن عدالت نے کہا کہ ہم اتنا پنڈورا باکس نہیں کھول سکتے ۔

دلائل سننے کے بعد آخر میں بنچ نے جماعت اسلامی سے سب کے احتساب کے حوالے سے درخواست کے بارے میںپوچھا جس میں جماعت اسلامی کا موقف تھا کہ یہ بنچ اس کیس کے بعد اس درخواست کی سماعت کرے لیکن بنچ کے اتفاق نہ کرنے پر جماعت اسلامی نے بنچ کی صوابدید پر چھوڑ دیا جس پر بنچ نے جماعت اسلامی کی پرانی درخواست کو الگ کرکے چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوادیا۔یہی درخواست اب اتنے عرصہ بعد دو رکنی بنچ کے زیر سماعت ہے ۔

9جون 2023ءکودوبارہ پانامہ کیس کی سماعت ہوئی ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب اس سماعت پر خود موجود تھے جماعت اسلامی کی طرف سے اشتیاق احمد راجہ ،ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے ۔اس موقع پر رفاقت حسین شاہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے بھی اپنے موقف کا اظہار کیا ۔2رکنی بنچ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کی۔

یہ ہے اس کیس کی اصل صورتحال....ہم اب بھی ہر دور اور ہر فرد کی کرپشن کیخلاف عدالتی، قانونی، پارلیمانی اور عوامی جنگ لڑرہے ہیں۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ ان شاءاللہ کرپشن کے خلاف یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے!

(صاحبِ مضمون نائب امیر جماعت اسلامی ہیں)

تازہ ترین