آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
ہوا یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ محمد رفیع کی آواز سریلی ہوتی گئی۔ آخر میں ان کی آواز میں اتنی مٹھاس آگئی کہ بعض دوسرے گلوکاروں کے مزاج پر گراں گزری ہوگی پھر ایک عجب واقعہ ہوا۔ رفیع اور لتا منگیشکر میں جھگڑا ہو گیا۔ جولوگ رفیع صاحب کو جانتے ہیں وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کسی سے لڑائی جھگڑا بھی کریں گے۔سنتے آئے ہیں کہ انہیں کبھی غصّہ نہیں آیا۔ چھان بین کی تو پتہ چلا کہ ایک بار آیا تھا۔ کسی اسٹوڈیو کی راہداری سے گزر رہے تھے ایک پروڈیوسر کے دفتر کے سامنے پہنچے تو دیکھا پروڈیوسر طلعت محمود کو ڈانٹ رہا ہے اور ان سے بدتمیزی کر رہا ہے، رفیع صاحب سے نہیں رہا گیا۔ اس کے دفتر میں گئے اور کہا کہ آئندہ طلعت صاحب سے بدتمیزی کی تو تمہاری کسی فلم میں کبھی نہیں گاؤں گا، پروڈیوسر نے ہاتھ جوڑ لئے۔
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لتا اور رفیع میں جھگڑا ہوگیا۔ یہاں اس کہانی میں ایک شخص کا ذکر کرنا ہی پڑے گا۔وہ تھے رفیع صاحب کے سالے ظہیر صاحب جن کا مزاج اپنے بہنوئی کے برعکس تھا۔ وہ قدم قدم پر ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ظہیر صاحب کہیں گئے ہوئے تھے اس روز رفیع کے ایک بیٹے ان کے ساتھ ریکارڈنگ اسٹوڈیو گئے۔ گانے کے بعد پروڈیوسر نے نوٹوں کا ایک لفافہ بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ بے چارہ خاموشی سے جیب میں رکھ کر گھر آگیا۔

لفافہ کھولا گیا تو اس میں طے شدہ رقم کے بجائے آدھے پیسے رکھے تھے۔ بیٹا چلا پروڈیوسر سے جھگڑا کرنے لیکن رفیع صاحب نے اسے سختی سے روک دیا اور کہا کہ اب جانے دو۔ تم نہیں جانتے اس لائن میں کیسے کیسے لوگ کام کرتے ہیں۔(یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رفیع صاحب نے اپنے کسی بیٹے کو گلوکار نہیں بننے دیا)۔ان کا تو یہ حال تھا کہ ایک بار کسی پروڈیوسر سے گانے کا معاوضہ طے ہوا۔ اس میں کچھ وقت گزر گیا اور اس دوران معاوضے کے نرخ بڑھ گئے۔ پروڈیوسر نے اسی مناسبت سے رفیع صاحب کو زیادہ پیسے بھیجے۔ محمد رفیع برہم ہوگئے اور اصرار کرنے لگے کہ فالتو رقم واپس کرو۔ ایسے میں ان کا لتا سے اختلاف ہوگیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں ان کے سالے ظہیر مرحوم کا ہاتھ تھا۔ پہلے تو یہ جھگڑا ہوا کہ سب سے زیادہ گانے کس نے گائے ہیں۔ گنیز بُک آف ریکارڈ میں لتا منگیشکر کا نام چھپ گیا۔ اس پر کہیں سے شور اٹھا۔ رفیع صاحب یا ان کے سالے کا اصرار تھا کہ سب سے زیادہ گانے محمد رفیع نے گائے ہیں۔ غالباً دو ایک دوسرے گلوکارو ں نے بھی اعتراض کیا یہاں تک کہ گنیز بُک والوں نے تفتیش شروع کردی۔ سنا ہے کہ اگلے برس لتا کی جگہ کسی دوسری گلوکارہ کا نام شائع ہوا۔ اس پر بدمزگی ہوئی پھر لتا نے رائلٹی کا سوال اٹھایا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جب پروڈیوسر کسی گانے سے خوب دولت کما رہے ہوں تو اس میں سے گلوکار کو بھی ایک حصہ دیں۔ یاسمین کا کہنا ہے کہ محمد رفیع نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ جب طے شدہ رقم ادا کردی گئی تو مزید کا مطالبہ درست نہیں۔ ان کے بیٹوں نے سمجھایا لیکن وہ اڑ گئے۔ نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ لتا منگیشکر نے اعلان کردیا کہ وہ محمد رفیع کے ساتھ کبھی نہیں گائیں گی۔ ان کے اس اعلان کی تصدیق تو سب ہی نے کی لیکن یہ بھی سنا گیا کہ لتا جی نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ جو سازندہ رفیع کے ساتھ ساز بجائے گا وہ اسے اپنے اسٹوڈیو میں نہیں آنے دیں گی۔ سنا ہے کہ اس پرسازندوں نے ہاتھ جوڑ لئے کیونکہ اپنے وقت کی اتنی بڑی گلوکارہ کے ساتھ بجانے پر پابندی لگ گئی تو ان کے گھروں میں فاقے ہو جائیں گے۔
یہی نہیں، اب درپردہ دوسرے مرد گلوکاروں کو آگے بڑھانے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اچانک ہر گانا کشور کمار گانے لگے۔ پروڈیوسروں پر کسی کا زور چلنے لگا۔ رفیع منظر سے غائب ہونے لگے۔ اب جو واقعہ میں بیان کرنے والا ہوں وہ خود نوشاد صاحب نے مجھے سنایا۔ایک روز محمد رفیع اداس اداس نوشاد صاحب کے گھر آئے ۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ کہنے لگے کہ یہ نئے نئے فلم ساز مجھ سے کتّوں بلّیوں کی آوازیں نکالنے کو کہتے ہیں پھر تقریباً روتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے گانا نہیں آتا، میں بے سُرا ہوں۔ اس پر نوشاد صاحب حیران رہ گئے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا گراموفون کھولا اور رفیع صاحب کے مشہور گانے انہیں سنانے شروع کئے۔ وہ گانے سناتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ دیکھئے یہ آپ گارہے ہیں۔ محمد رفیع سر جھکائے سنتے رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے۔اس دوران گانے سے ان کا جی اچاٹ ہوگیا۔ ویسے بھی کہتے ہیں کہ حج کرنے کے بعد ان کی گانے کی طرف رغبت نہیں رہی۔ یاسمین نے یہ سب نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ برطانیہ میں ان کے دو شو کامیاب نہیں رہے۔ اس کا رفیع صاحب کو دکھ تھا لیکن وہ یہ کہہ کر خود کو سمجھاتے تھے کہ میں نے بہت زیادہ گانے سنا دیئے ہیں، اب لوگوں کا جی بھر گیاہے پھر بھی وہ لندن کے ویمبلے سینٹر میں اپنا ایک بڑا شو کرنا چاہتے تھے لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔
لتا منگیشکر نے اپنے مشہور البم شردھانجلی میں رفیع کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے سب سے زیادہ گانے محمد رفیع کے ساتھ گائے۔ یہ کہنے میں شاید انہوں نے دیر کر دی۔ مشہور میوزک ڈائریکٹر او پی نیّر کہا کرتے تھے کہ رفیع نہ ہوتے تو میں بھی نہ ہوتا۔ جس روز رفیع کے انتقال کی خبر نشر ہوئی اداکار شمی کپور ممبئی سے باہر کسی تیرتھ کو گئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے انہیں راستے میں روکا اور بتایا کہ آپ کے گیت ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔ وہ بھی دل تھام کے بیٹھ گئے۔ رفیع کے اہل خانہ کو پرسا دینے کے لئے فلمی صنعت کے سارے ہی سرکردہ لوگ دوڑے دوڑے آئے۔ ان میں لتا منگیشکر پیش پیش تھیں۔ اس روز آنے والوں کی فہرست بہت ہی طویل ہے کیونکہ ایسا ہیرے جیسا فرشتہ صفت شخص ممبئی جیسی فلم انڈسٹری میں اب کہاں سے آئے گا۔ اب میوزک ڈائریکٹر کس گلوکار سے کہیں گے کہ یہ طرز ہم سے سنبھل نہیں رہی، اس کاکوئی اُپائے بتائیے اور کون ان بندشوں کو لمحہ بھر میں سنوار دے گا۔ نو وارد اورکم وسائل والے پروڈیوسروں کے لئے اب کون کارِخیر سمجھ کر بلامعاوضہ گائے گا اور دن بھر کا تھکا ہارا کون دادا اور نانا اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ مل کر کھیلے گا اور انہیں سلانے کے لئے لوریاں گائے گا۔پھر یہ ہوا کہ رفیع صاحب کا مرنا غضب ہو گیا۔ ان کے گھرانے پر کسی کی ایسی نظر لگی کہ موت نے ان کا گھر ہی دیکھ لیا۔ دل کا مرض تو شاید سارے کنبے کو ورثے میں ملا تھا۔ سب سے پہلے ان کے بیٹے حامد پر دل کا دورہ پڑا وہ اٹھائیس برس کا تھا۔ وہ تو سنبھل گیا لیکن رفیع صاحب کا اٹھارہ برس کا نواسا فیروز ٹریفک کے حادثے میں چل بسا۔ اس کے بعد خالد پر دل کا دورہ پڑا۔ اسی دوران رفیع صاحب کی بیگم کے سینے میں درد اٹھا۔ ان کا بائی پاس آپریشن ہوا۔ جنوری چورانوے میں حامد پر دوبارہ دل کا دورہ پڑا اور وہ چالیس برس کی عمر میں مرگیا۔ چار سال بعد بیگم رفیع گزر گئیں۔ ان کے آٹھ ماہ بعد سعید کار کے حادثے کا شکار ہوا۔ اٹھانوے میں خالد کاروبار کے سلسلے میں مغربی افریقہ گئے ہوئے تھے۔ وہاں وہ اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ان کو بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اس کے بعد شکر ہے کہ اب وہ منحوس سائے ہٹے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا لندن کے نہرو سینٹر میں رفیع کی یاد میں ایک تقریب تھی جس میں ان کے ہر عمر کے پوتے اور پر پوتے آئے ہوئے تھے۔اس روز ان کے لئے میرے دل سے دعا نکلی۔ آج رفیع کا جو نغمہ میرے ذہن میں گونج رہا ہے وہ شاید عرصے تک گونجے گا۔’’ تم مجھے یوں بھُلا نہ پاؤ گے۔ جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے، سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے‘‘۔