• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی کا انتخابی عمل 90 دن میں مکمل کرنے کا مطالبہ

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے ملاقات میں جماعت اسلامی نے انتخابی عمل 90 دن میں مکمل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں عام انتخابات، نئی حلقہ بندیوں، انتخابی فہرست اور الیکشن ضابطہ اخلاق کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے مشاورتی عمل جاری ہے۔

ای سی پی نے آج جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفود کو مشاورت کےلیے طلب کیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر سے گفتگو میں جماعت اسلامی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مشاورتی عمل پہلے شروع کرنا چاہیے تھا، آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کا عمل 90دن میں مکمل ہونا ہے۔

جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کا آغاز کردیا ہے، انتخابی شیڈول کا اعلان بھی کرنا چاہیے تھا تاکہ ابہام کو دور کیا جائے۔

دوران مشاورت جماعت اسلامی کے وفد نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں آئین اور قانون کے مطابق ادا کرے، خیبر پختونخوا میں نگراں کابینہ بھی سیاست میں ملوث ہوگئی ہے۔

ای سی پی چیف کے روبرو جماعت اسلامی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی مداخلت اور احکامات پر خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔

جماعت اسلامی وفد نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو قبل از وقت تحلیل نہیں کرنا چاہیے تھا، پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔

چیف الیکشن کمشنر سے مشاورت کے دوران جماعت اسلامی کےو فد نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو عوامی نمائندگی سے محروم نہ رکھا جائے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

جماعت اسلامی کے وفد نے مطالبہ کیا کہ ہر قسم کے مافیاء کو انتخابی دھاندلی سے روکا جائے، تمام اہل ووٹروں کے اندراج، اخراج اور درستگی کو فوری یقینی بنایا جائے۔

ای سی پی میں مشاورت کے دوران سیاسی جماعت کے وفد نے تجویز دی کہ الیکشن پراسس سے متعلق تمام فارم اُردو میں ہونے چاہئیں، سیا سی جماعتوں کے الیکشن اخراجات کی بھی حد مقرر کی جائے۔

قومی خبریں سے مزید