آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ان کی روشن کی ہوئی شمع کو ہم کتاب کہتے ہیں

وہ کہا کرتے تھے’’میں اس دور کا منشی نول کشور بننا چاہتا ہوں‘‘۔نیاز احمد مرحوم نے یہ کارنامہ سرانجام کر دکھایا۔ اُن میں اور منشی صاحب میں جو بات مشترک تھی وہ ان کے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوں کی افراط نہیں تھی، وہ سراسر علم کو فروغ دینے کی امنگ تھی۔ لکھنو میں منشی نول کشور کا چھاپہ خانہ چھاپ چھاپ کر کتابیں نہیں نکال رہا تھا بلکہ وہاں سے بڑے قرینے کے ساتھ علم کا ایک لاوا اُبل رہا تھا۔ کون سا موضوع تھا جس کو انہوں نے کتاب میں نہیں ڈھالا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ہندی اور اسلامی ثقافت کو یک جان کردیا۔بالکل اسی طرح نیاز احمد صاحب نے علم کے ایک ایک گوشے میں وہ شمع روشن کی جسے ہم کتاب کہتے ہیں۔ دنیا کا ہر مضمون ان کا عنوان بنا۔ اشاعت کے معاملے میں ان کی دریا دلی کو دیکھ کر اکابرین خود ان کی طرف رجوع ہوئے اور بے شمار دانشوروں اور مدبروں نے خود اپنے طور پر یا ان کی فرمائش پر اپنی تخلیقات ان کے حوالے کیں۔
مجھے وہ دن یاد ہیں جب ہر ریلوے اسٹیشن پر کتابوں کا اسٹال ضرور ہوتا تھا۔ لوگ لمبے سفر پر روانگی سے پہلے ایک دو کتابیں خریدتے تھے۔ ایسے ہی ایک سفر پر چلنے سے پہلے میں نے اسٹیشن پر فروخت ہونے والی کتابوں کا جائزہ لیا ۔ مجھے وہاں تزکِ بابری اور تزک جہانگیری جیسی دو کتابیں نظر آئیں جو کسی نے

بڑے اہتمام سے چھاپی تھیں۔ میں نے ورق پلٹے اور پہلی بار نیاز احمد صاحب اور ان کے ادارے ’سنگِ میل‘ کا نام پڑھا۔ کتابیں بہت سلیقے سے ترتیب دی گئی تھیں اور ادارے کی دوسری مطبوعات کا اشتہار دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ملک میں ایک بڑا اشاعت گھر وجود میں آنے کو ہے۔ وہ آیا اور پھر کبھی رکا نہیں۔
نیاز صاحب کو قدرت نے دو ہونہار بیٹے عطا کئے تھے جو باپ کے ساتھ مل کر پاکستان میں کتابوں کی نہ صرف اشاعت بلکہ ان کی ترویج اور فروخت کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ ان کے بیٹوں اعجاز اور افضال سے میری ملاقات لندن میں بی بی سی کے مشہور ٹھکانے بُش ہاؤس میں ہوئی۔ ہوا یہ کہ ایک بار آج کے بڑے افسانہ نگار انتظار حسین صاحب لندن آئے،ہماری ملاقات ہوئی۔ وہ جانے لگے تو بتایا کہ کسی لمبے سفر پر جا رہے ہیں۔ میں نے راہ میں پڑھنے کے لئے اپنی کتاب جرنیلی سڑک انہیں دی۔ کتاب پڑھتے پڑھتے وہ جب لاہور پہنچے اور نیاز احمد صاحب سے ملاقات ہوئی تو انتظار صاحب نے انہیں میری کتاب کے بار ے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ اس کتاب کی اشاعت کے حقوق لے لیں۔ اس کے بعد اعجاز اور افضال لندن آئے اور انتظار حسین کی سفارش کے بارے میں بتایا۔ کام آسان تھا کیونکہ کراچی میں میرے پہلے ناشر کو کتابیں فروخت کرنے میں دشواری ہورہی تھی۔ میں نے دونوں سے کہا کہ آپ بی بی سی کو خط لکھ دیں تو یوں بھی ہو جائے گا۔ انہوں نے جھٹ اپنے بریف کیس سے سنگِ میل کا لیٹر پیڈ نکالا اور وہیں خط لکھ دیا۔ اس کے بعد میرے اور اشاعت گھر کے مراسم نے ایسی شکل اختیار کی کہ میرا ہر قدم ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ میں نے طے کر رکھا تھا کہ جونہی فرصت ملے گی میں بچوں کے لئے کتابیں لکھوں گا۔اس کے لئے میں نے اردو ورثہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور نیاز صاحب کے اشتراک سے بچّوں کی کتابیں شائع ہونے لگیں۔ کوئی اور ادارہ ہوتا تو مجھ سے ان نئے اخراجات میں اپنا حصہ مانگتا۔ نیاز احمد صاحب نے بہت عمدہ مصور کی خدمات حاصل کر کے دل کش اور دیدہ زیب کتابیں چھاپیں۔
وہ ایک بار برطانیہ آئے تو مجھ سے ایک فرمائش کی۔ کہنے لگے کہ یہاں کوئی گاؤں ہے جہاں دنیا بھر کی سیکنڈ ہینڈ کتابیں ملتی ہیں، مجھے وہ گاؤں دکھا لائیے۔ وہ دنیا کا مشہور قصبہ ’ہے آن وائی‘ تھا جہاں کے دکان دار بند ہونے والی پوری پوری لائبریریاں لے آتے تھے اور ایک خلقت آکر یہ کتابیں خریدتی تھی۔ نیاز صاحب وہاں گئے تو لاکھوں کتابیں یوں فروخت ہوتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے بڑی توجہ سے اپنے مطلب کی کتابیں چنیں اور ساتھ لے آئے۔
میں لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں ریسرچ کر رہا تھا۔ نیازصاحب نے کہا کہ کچھ ایسی پرانی اور نایاب کتابیں بتائیے جو آپ سمجھتے ہوں کہ ازسرنو چھپنی چاہئیں۔ میں نے میر امن کی باغ و بہار کے اُس ایڈیشن کا ذکر کیا جو 1846ء لندن میں چھپا تھا اور میسور کے حیدر علی کی زندگی کے بارے میں لاجواب کتاب حملات حیدری کے بارے میں بتایا جو باغ و بہار کے ایک سال بعد کلکتے سے چھپی تھی۔ نیاز صاحب نے بھاری رقم خرچ کر کے لائبریری سے ان کتابوں کے عکس حاصل کئے اور ان کے خوب صورت ایڈیشن نکال دیئے۔
بات بھاری رقم تک آگئی تو مرحوم کی ایک بڑی خوبی کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ نیاز صاحب مصنف کو اس کی کتاب کی رائلٹی دینے میں نہایت دیانتدار تھے۔ میں جانتا ہوں کہ کتاب شائع ہونے کے بعد وہ مصنف کو اس کا حق دینے کے لئے بے چین رہتے تھے۔ ایک بار انہوں نے میرے ساتھی آصف جیلانی کی لکھی ہوئی کتاب شائع کی۔ کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ وہ آصف صاحب کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ پتہ چلا کہ ابھی تک کتاب کی رائلٹی ادا نہیں کی گئی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ جب نیاز صاحب محترمہ قرۃ العین حیدر کی کتابوں کے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہیں رائلٹی کی خاصی بڑی رقم پیش کی تو انہوں نے بہت متاثر ہو کر کہا کہ مجھے پہلی بار اپنی کتابوں کی رائلٹی مل رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے محترمہ حجاب امتیاز علی کی پرانی اور بھولی بسری کتابیں دوبارہ چھاپنے کے لئے ان سے حقوق مانگے جو انہوں نے فوراً ہی دے دیئے۔ نیاز صاحب نے اسی لمحے ان کی رائلٹی کا لفافہ ان کے سپرد کیا تو انہیں یقین نہیں آیا۔ بتاتے ہیں کہ وہ دیر تک چھوٹی بچّیوں کی طرح خوش ہو کر ہنستی رہیں۔
نیاز صاحب ابتدا میں چھوٹے تاجر رہے ہوں گے، ہم نے ان کے وہ دن نہیں دیکھے لیکن یہ قیاس کرنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ ان کی شخصیت میں بلا کی سادگی اور انکساری رہی ہوگی۔ ایک بار میں اپنی کتاب شیر دریا کی رسم اجرا کے لئے بہاولپور گیا۔ تقریب میں شرکت کے لئے نیاز صاحب بھی لاہور سے آئے۔ میرے میزبانوں نے شہر کے سرکٹ ہاؤس میں قیام کا بندوبست کیا۔ سونے سے پہلے پتہ چلا کہ ہم دونوں کو ایک ہی کمرے میں سونا ہوگا۔ میں نے چاہا کہ نیاز صاحب کے لئے الگ کمرے کا انتظام ہو جائے تو معلوم ہوا کہ کوئی کمرہ دستیاب نہیں۔ نیاز صاحب نے جھٹ برابر والے ڈرائنگ روم کے صوفے پر سونے کا اعلان کر دیا۔ صوفہ آرام دہ نہیں تھا اور میں نے لاکھ اصرار کیا کہ وہ میرے ہی کمرے میں سو جائیں لیکن انہوں نے میری ایک نہ مانی اور اسی تکلیف دہ صوفہ پر سوئے،ان کی خوبیاں آج تک یاد آتی ہیں۔
وقت کروٹیں ضرور لیتا ہے۔ نیاز صاحب کو ایک بڑا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ان کا بیٹا اعجاز بیالیس سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔ اعجازذہین، جفا کش اور کاروبار میں برابر کا شریک تھا ۔وہ اس کام کے نشیب و فراز سے خوب واقف تھا۔ صاف نظر آتا تھا کہ نیاز صاحب کے بعد اعجاز بڑی خوبی سے کام کو آگے بڑھائے گا مگر پھر یہ ہوا کہ وہ جوانی ہی میں چل بسا۔
ہر چند کہ دوسرے بیٹے افضال نے وہ ساری ذمہ داریاں بڑی خوبی سے سنبھال لیں لیکن خود نیاز صاحب سنبھل نہ سکے۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت گرنے لگی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے دفتر آنا کم کردیا۔ اس دوران افضال نے اعجاز کے بیٹے علی کو ساتھ لگا کر اس کی تربیت شروع کی۔ نیاز احمد صاحب نے چوراسی برس کی عمر پائی۔ ان کی اہلیہ اور دو بہوؤں نے آخر لمحات تک ان کی خدمت کی اور انہیں کوئی تکلیف نہ ہونے دی۔ یہ سعادت خوش نصیبوں ہی کے حصے میں آتی ہے۔