شاعر، ادیب اور محقّق،شاہ انصار الٰہ آبادی کا شمار، اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے، جن کی پوری زندگی جہد ِ مسلسل سے عبارت تھی۔ اُن کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ معتبر ہے۔ پاکستان میں نعت نگاری کو فروغ دینے والوں میں شاہ انصار الٰہ آبادی کا نام نہایت اہم ہے۔
وہ شاعری میں درجۂ استادی پر فائز تھے۔ ان کے16مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے، جب کہ بعداز مرگ ’’کلیاتِ انصار الٰہ آبادی‘‘ شائع ہوئی، جسے علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے بہت پذیرائی ملی۔ ’’کلیات ‘‘ کی تعارفی تقریب کے موقعے پر ’’پیام ِ انصار ‘‘ کے نام سے ایک یادگاری مجلّہ بھی شایع کیا گیا، جس میں مشاہیرِ علم و ادب نے انھیں بھرپور انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعدازاں شاہ انصار الٰہ آبادی کے گراں قدر ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ’’ادبستان ِ انصار ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا گیا، جس کے پلیٹ فارم سے گاہے بہ گاہے ادبی تقریبات اور محافل ِ نعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
شاہ انصار الٰہ آبادی، اُن مستند قلم کاروں میں سے ایک تھے، جواپنے عہد کے عظیم دینی اسکالرز، سیاسی اکابرین اور عہد ساز دانش وَروں کے درمیان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عوام کی فلاح و بہبود اور دین و مذہب کے فروغ کے لیے بروئے کار لائے۔ اُنھوں نے زندگی کی مختلف جہتوں کو اپنی فکر کا محور بنایا۔نیز، ایک مضبوط، غزل گو اور نظم گو کی حیثیت سے بھی خود کو منوایا۔ انہوں نے پاکستان ہجرت کے بعد خود کو مسلک ِ اہلِ سنت کے فروغ کے لیے وقف کردیا تھا،جس کے لیے دینی و مذہبی شاعری کو زندگی کا ماحصل بنا کر اپنی حیات کا ایک ایک لمحہ حمد نگاری، نعت نویسی، منقبت و سلام اور مرثیہ گوئی کی تخلیق میں گزارا۔
شاہ انصار الٰہ آبادی نے گیارہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اورسب سے پہلے مولانا ابو نصر خلیق گجراتی سے استفادہ کیا۔ بعدازاں، امیر مینائی، جلیل مانک پوری اور علامہ شفق عماد پوری سے بھی اصلاح لی۔ شاہ انصار الٰہ آبادی سچّے عاشق ِ رسولؐ تھے ۔شاہ صاحب شاعر ہی نہیں ’’شاعر گر‘‘ بھی تھےکہ اُن کے لاتعداد شاگرد تھے، جو بعد میں اُن کے ارادت مندوں میں شامل ہوگئے اور علم و ادب کا یہ عہد کم و بیش ایک صدی پر محیط رہا۔شاہ انصار الٰہ آبادی، صاحبِ شریعت بھی تھے اور صاحب ِ طریقت بھی۔ انہوں نے پوری زندگی شریعت ِ محمدی ؐ کے مطابق گزاری اور طریقت کے اصولوں کی پاس داری بھی کی۔
اپنے والد ِ بزرگوار، مولانا سیّد میر مشرف حسین کے بعد درگاہ ِ سیّد صاحب کے سجادہ نشین مقرر ہوئے، جو چودہ سلسلۂ عظام سے صاحب ِ اجازت و خلافت بزرگ تھے۔ نسبی طور پر شاہ صاحب کا تعلق خاندانِ اہل ِ بیت سے تھا۔ وہ ایک باعمل سیّد تھے، جنہوں نے اپنی زندگی خدمت ِ خلق اور حقوق اللہ کے ساتھ، حقوق العباد کی بھی ادائی میں گزاری اور ہمیشہ اتحاد بین المسلمین پر زور دیا۔تب ہی اُن کے دربارِ گوہر بار سے لاکھوں افراد نے استفادہ کیا اور اپنی زندگی سدھاری۔قصّہ مختصر، اُن کی علمی و ادبی اور روحانی خدمات ، لائق ِ تحسین ہی نہیں، قابل ِ تقلید بھی ہیں۔
شاہ انصار الٰہ آبادی، یگانۂ روز گار شاعر تو تھے ہی، علم کا بحرِبیکراں بھی تھے۔ منکسر المزاجی، اُن کی شخصیت کا طرّۂ امتیاز تھا۔چہرے کے نقش و نگار سے حیا جھلکتی تھی۔ ہمیشہ دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے۔ سفید شیروانی اور سفید ٹوپی اُن پر خوب جچتی تھی۔ جس دَور میں برصغیر کے ممتاز شعراء، اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی اور نوح نوناروی کا طوطی بول رہا تھا، اُس دَور میں جگہ بناناکوئی عام بات نہیں تھی۔اسی طرح جیّد علمائے کرام، مولانا عبدالحامد بدایونی، مفتی عبدالسلام باندوی، مولانا ناصرجلالی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا محمد شفیع اوکاڑوی اور مفتی ظفر علی نعمانی جیسے علماء کے درمیان بیٹھنا، اُن کی بصیرت افروز گفتگو میں شامل ہونا اور ان علماء کا اہم امور پر شاہ صاحب سے مشاورت کرنابھی یقیناً بڑی فضیلت کی بات تھی۔
وہ ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے، انہیں وقتی شہرت اور ظاہری نام و نمود سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ گرچہ قیامِ پاکستان سے قبل، بھارت کے شہر، الٰہ آباد میں نوابی ٹھاٹ باٹ سے شاہانہ زندگی گزاری، لیکن ہجرت کے بعد پاکستان آئے، تو حکومتِ پاکستان کی طرف سے قطع اراضی کی پیش کش نہ صرف ٹھکرادی، بلکہ اپنی زمینوں کا کلیم تک حاصل نہ کیا اور تادم ِ مرگ، اورنگ آباد کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر رہے۔
تاہم، اس کے باوجود ضرورت مندوں کی ہمیشہ مالی معاونت کی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک دردمند دل سے نوازا تھا۔ شاہ انصار الٰہ آبادی نے کم و بیش 95برس کی عمرپائی، اب وہ ہمارے درمیان نہیں، لیکن اُن کی نگارشات انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔
معروف شاعر و ادیب، پروفیسر سحر انصاری نے شاہ انصار ؔ الٰہ آبادی کو اِن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’’مزاج کی شائستگی، گداز قلب اور درد مندی انہیں اُن منزلوں تک لے گئی، جہاں عشق ِ رسول ؐ اور ذکر ِ رسولؐ، اسلوب ِ حیات کا ایک جزو بن جاتا ہے۔ انہوں نے نعت گوئی میں وہ مقام حاصل کیا کہ نعتوں اور مناقب پر مشتمل 16مجموعے پیش کردیئے۔‘‘ معروف محقّق، خواجہ رضی حیدر کہتے ہیں، ’’شاہ انصار الٰہ آبادی، فنا فی النعت تھے، انہوں نے نعتیہ محافل کے انعقاد اور شعراء کو نعت گوئی کی جانب توجّہ مبذول کروانے میں اپنے شب و روز ایک کردیئے تھے۔
تنظیمی اعتبار ہی سے نہیں، انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔‘‘ ادیب، ڈاکٹر عزیز احسن کے مطابق، ’’غزل گوئی میں تو دعویٰ، بلا دلیل بھی ممکن ہے، بلکہ بیش تر متغزّلین کی شاعری، دعویٰ ہائے بے دلیل سے بَھری پڑی ہے، لیکن نعت میں، بلادلیل دعوے، کوئی بھی محتاط شاعر نہیں کرتا۔ شاہ صاحب کی شاعری کے بارے میں تو یہ تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اُن کا کوئی بھی دعویٰ، خالی از دلیل ہوگا۔ شاہ صاحب کے کلام کی داخلی شہادتیں اتنی قوی دلیلیں رکھتی ہیں کہ اُن کا ہر قول، سچ ہی ماننا پڑتا ہے۔‘‘
شاہ انصا ر الٰہ آبادی کے مجموعۂ کلام سے چند منتخب اشعار
اللہ اللہ، عظمت و فیضانِ ربّ العالمین
اِک اِک ذرّہ ہے، صد احسانِ ربّ العالمین
نعت گو کے ذہن میں، کیا آئیں اُس کی مدحتیں
جس پہ خُود قربان ہو، قرآنِ ربّ العالمین
…………………
نظر اُٹھے مِری کیسے، رُخِ نبی ؐ کی طرف
اندھیرا دیکھ نہیں سکتا، روشنی کی طرف
قدم قدم پہ نظر آیا مجھ کو جادۂ حق
طواف میں جو تخیّل کیا، نبیؐ کی طرف
……………
کمال ِ ذہن ِ مشیت کے ترجماں ہیں، علی ؓ
حضور ِ سیّد ِ عالم کی جان ِ جاں ہیں،علی ؓ
ہر ایک لفظ میں تشریحِ، آیۂ قرآں
علوم ِ حق و صداقت کی داستاں ہیں، علی ؓ
………………
نبوّت کی خوشبو ہیں، خاتونِ جنّت
کہ جنّت کی خوشبو ہیں، خاتونِ جنت
چمن، آلِ اشرف کا، مہکے نہ کیسے؟
شرافت کی خوشبو ہیں، خاتونِ جنت
…………
واللہ کیسی آنکھ کے تارے حسین ؓ ہیں
نور ِ خدا نظر ہے، نظارے حسین ؓ ہیں
اسلام کے سفینے کی موجیں، نہ پوچھیے
سرکارؐ بحرِ نُور ہیں، دھارے حسین ؓ ہیں