کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دکھائی دے رہا ہے۔
کاروبار کے دوران 288 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس 59 ہزار 374 پوائنٹس ہو گیا۔
گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر 100 انڈیکس 59 ہزار 86 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا احساس ہے۔
ملک میں سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد ایک مرتبہ پھر گر گئی۔
کاروباری ہفتے میں ہنڈریڈ انڈیکس 3807 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 40 ہزار 636 روپے ہوگئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی زرعی اجناس کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مسلسل محنت سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے حدف کی طرف اپنا سفر جاری رکھیں گے۔
تینوں رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت درآمد کردہ گاڑیوں پر ایک سالہ ملکیت منتقلی کی پابندی بھی ختم کی جائے۔
چین کی جانب سے اکتوبر کے لیے بیشتر ایندھن کی برآمدات روکنے کے فیصلے نے بھی عالمی منڈی میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کار بھی صورتحال کے مطابق اپنی سرمایہ کاری کو سمت دے رہے ہیں۔
عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 30 ڈالرز کم ہو کر 4161 ڈالرز فی اونس ہو گیا۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کے ذکر کے بغیر یہ کامیابیاں ادھوری ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کے مطابق بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پی ایس ایکس بینچ مارک 100 انڈیکس اس اضافے کے بعد کاروبار کے اختتام ایک لاکھ 69 ہزار 969 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 43 ڈالرز اضافے کے بعد 4191 ڈالرز فی اونس ہو گیا۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل آئی سسٹم لگانا لازم ہو گا۔
وفاقی مالی خسارے کے لیے 7 ہزار 20 ارب روپے کی فنانسنگ درکار ہوگی۔