کاروباری ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دکھائی دے رہا ہے۔
کاروبار کے دوران 288 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس 59 ہزار 374 پوائنٹس ہو گیا۔
گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر 100 انڈیکس 59 ہزار 86 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ملک میں سونے کی قیمت معمولی اضافے کے بعد آج پھر کم ہو گئی۔
نیپرا نے عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے بھی آراء طلب کرلی ہیں۔
گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 51 ہزار 207 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
اضافے کے باعث مختلف بینچ مارکس کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ایک سال میں پیٹرول 48.61 فیصد، ڈیزل 101.18 فیصد مہنگا ہوا۔
وزارت تجارت کے ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی اونچی اڑان جاری ہے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کو 2 دوست ممالک سے 5 ارب ڈالرز سے زائد کی فراہمی کی یقین دہانی مل چکی ہے۔
صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔
گزشتہ ہفتے کے آخری روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران پاکستان میں ایرانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔
مہنگی ایل پی جی فروخت کرنے والے ڈیلرز اور دکان داروں کے خلاف آج سے آپریشن ہوگا۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ایک کلو ایل پی جی سرکاری نرخ سے 200 روپے زائد میں فروخت ہو رہی ہے۔
ضلع بھر میں ایل پی جی کی قیمت 530 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
پی ایس ایکس میں گزشتہ کاروباری ہفتے میں 100 انڈیکس 1308 پوائنٹس کم ہو کر 150398 پر بند ہوا۔
وائس چیئرمین آل پاکستان پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن نعمان بٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپنا خدشہ بتادیا۔