جنوبی بھارت کی کناڈا فلموں کی اداکارہ اور سابق رکن پارلیمنٹ دیویا اسپاندنا المعروف رامیا نے آوارہ کتوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے مؤقف کا موازنہ انسانی رویّوں سے کرتے ہوئے ایک وائرل سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے سڑکوں پر پھرنے والے آوارہ جانوروں سے پیدا ہونے والے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والی ریاستوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر زور دیا۔
سابق لوک سبھا رکن (بھارتی پارلیمنٹ) اور اداکارہ رامیا نے آوارہ کتوں اور عوامی سلامتی سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ مشاہدے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سخت سماجی مماثلت بھی پیش کی، جس پر آن لائن بحث و مباحثہ شروع ہوگیا ہے۔
انسٹاگرام پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے 43 سالہ اداکارہ نے کہا کہ میں مرد کے ذہن کو نہیں پڑھ سکتی، یہ بھی نہیں جان سکتی کہ وہ کب ریپ کردے گا، تو پھر کیا تمام مردوں کو جیل میں ڈال دینا چاہیے؟
ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے سڑکوں پر آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں کے آزادانہ پھرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ بائیک سواروں اور پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
حالیہ سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ سابقہ احکامات کے باوجود کئی بلدیاتی ادارے اور ریاستی حکومتیں آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن میں ناکام رہی ہیں، جبکہ شاہراہوں کو مویشیوں اور دیگر جانوروں کے کھلے عام پھرنے کا مسئلہ حل کیا گیا۔