• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان کواپنے کسی ایسے سیاسی مستقبل سے دلچسپی نہیں جہاں اُنکی ذات مبارکہ پوری شدومد سے موجود نہ ہو۔ اس بات سے متفق نہیں کہ عمران خان کا موروثی سیاست سے اجتناب بمطابق اصول یا ضابطہ ہے۔ عمران خان کا پہلا المیہ، زندگی کا موثر حصہ شیش محل میں گزرا، سوائے اپنی شکل کے کبھی کچھ دیکھ نہیں پائے، اپنے علاوہ کسی دوسری ذات میں دلچسپی نہیں۔ دوسرا المیہ، سیاست میں آنا انتہائی مجبوری ضرور تھی مگر حکومتی اسرار و رموز اور سیاسی باریکیوں سے نابلد تھے۔ زندگی بھر نہ کسی تنظیم کا حصہ رہے نہ تجربہ تھا اور نہ ہی ایسی صلاحیت کی افزائش ہو پائی۔ سیاست ایک ایسی سائنس جہاں سیاسی کیڑا ’’آئیڈیلزم‘‘ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ باقی سیاست تفریحِ طبع اور گلیمر کے حصول کے سوا کچھ نہیں۔ آئیڈیلزم ہمیشہ نظریہ یا کسی مقصد کا محتاج ہوتا ہے۔ نظریاتی سیاست بندے کی ذات کو منہا رکھتی ہے جبکہ عمران خان کی سیاست ذات کے گرد گھومتی ہے۔ بلاشبہ آج کی عمومی سیاست مکمل طور پر سیاستدانوں کی ذاتِ مبارکہ کی تزئین و زیبائش تک محدود ہے۔

میرا سیاست سے تعارف، ذہنی نشو ونما سے پہلے ہو چکا تھا۔ جب شعور آیا تو طلبہ سیاست کا حصہ تھا۔ دوران طالب علمی دیوانہ وار اسلامی جمعیت طلبہ کیلئے اپنے آپکو وقف رکھا۔ نظریاتی سیاست کا اعجاز کہ ذات منہا رہتی ہے۔ نظریہ کی سحر انگیزی مبہوت رکھتی ہے۔ 70 کی دہائی نظریاتی جنگ و جدل ،بحث و تمحیص، تعلیمی اداروں میں چار سُو چھائی تھی۔ کیا زمانہ تھا کہ شاید ہی کوئی ہو جو اپنی ذات کی نمود و نمائش یا کسی عہدے ومقام میں دلچسپی رکھتا ہو۔ افراد اپنی تنظیم سے جذب و شوق کیساتھ پیوستہ تھے۔ یہ ایک علیحدہ اکیڈمک بحث، وطن عزیز میں آج تک یہ گتھی سلجھنے سے قاصر کہ مقبول سیاست اور مثالی تنظیم دونوں اکٹھے نہیں پنپ سکتے، پاکستان میں مقبول سیاست تنظیموں کو گھائل رکھتی ہے۔ نظریات پر استوار سیاست میں پاکستانی لیفٹ تنظیموں کی مدح سرائی نہ کرنا، بددیانتی ہو گی ۔میرے وقت کا لیفٹ نہ صرف آئیڈیلزم میں کسی طور کمتر نہ تھا۔ انکا تنظیمی انتظام و انصرام کئی مدوں میں جمعیت سے ملتا جلتا تھا۔ انکی نظریاتی COMMITMENT اور تنظیمی نظم و نسق کا دل و جان سے قائل تھا۔ لیفٹ کی تحریکوں کے مسائل بھی اسلامی تحریکوں سے مختلف نہ تھے۔ ’’مقبول کامیاب سیاست‘‘ کیلئے انکو بھی ’’انتخابی سیاست‘‘ کیلئے اکثر ایسے مفاہمتی امیدوار چُننا پڑتے تھے جو انکے نظریاتی معیار پر پورے نہیں اُترتے تھے۔ ماضی کی سیاست میں آئیڈیلزم آج عہد جوانی کا ایک گم گشتہ دور معلوم ہوتا ہے۔ میری بد قسمتی عرصہ 11سال کے طویل عرصہ بعد، 1991ءمیں جب پاکستان واپس آیا تو مملکت لیفٹ اور رائٹ، نظریاتی مملکت یا سیکولر ریاست جیسی نظریاتی مباحث سے چھٹکارا حاصل کر چکی تھی۔ دوسری طرف نظریاتی پارٹیاں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں سرگرداں تھیں۔ نظریاتی سیاست کی بجائے مفادات کی سیاست، آئیڈیلزم کی بجائے عملیت پسندی ڈیرے ڈال چکی تھی۔ مقبول سیاست نئے زمینی حقائق کی اسیر اور اسی کےمطابق استوار ہو چکی ہے۔ آج نظریاتی بحث ایک عیاشی ہے کہ مملکت کا نظام، طرز حکومت، اسکے وجود کو خطرات لا حق ہیں۔ آج کی ترجیح نظریاتی مباحث نہیں، 73 کا آئین بچانا کہ شاید مملکت بچ جائے۔ نظریاتی بحث تب ہی جائز اگر مملکت اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی؟

10 اکتوبر 2022 کو عمران خان نے میانوالی سے اکلوتی نشست جیتی تو انکی سیاست کو جیسے ’’تنکے کا سہارا‘‘ مل گیا۔ 1996 میں سیاست میں وارد ہوئے تو سیاسی پذیرائی نہ مل سکی۔ اگرچہ 1992 کا ورلڈ کپ اور 1994 شوکت خانم ہسپتال جیسے کارنامے موجود ، اپنا اثر نہ جما سکے۔1997 اور 2002 کے الیکشن میں تضحیک آمیز شکست ہوئی کہ سیاسی وجود بن کھلے مرجھانے کو تھا ۔ دونوں الیکشن میں ’’آدھا فیصد‘‘ کے لگ بھگ ووٹ پڑے ہونگے ۔ ایسے موقع پرایک نشست کی جیت عمران خان کی ڈوبتی سیاست کیلئے گویا کہ ’’شہتیر کا سہارا‘‘ بنی۔ اس جیت کو یقینی بنانے کیلئے مجھے ایک سال میانوالی منتقل ہونا پڑا۔ وہاںاسلامی جمعیت سے حاصل تربیت اور تجربہ انتخابی مہم اور کارکنوں کو منظم کرنے میں استعمال کیا ۔ عمران خان کے’’قومی ہیرو امیج‘‘ کی پذیرائی میانوالی میں کچھ زیادہ تھی۔ البتہ سرزمین میانوالی سے تعارف واجبی سے بھی کم تھا۔ میانوالی سے تعلق اور دھرتی کے سپوت کا امیج پروموٹ اور مستحکم کیا۔ جب میانوالی کی نشست جیتے تو عمران کیلئے ناقابل یقین تھا۔ بعد ازاں عمران متعدد موقعوں پر میانوالی کی جیت کو اپنی سیاسی زندگی کا اہم سنگ میل قرار دیتے رہے۔ آنیوالے دنوں میں سیاسی وجود ایک نشست کی جیت کو قرار دیتے۔

جیت کے چند دن بعد ہی عمران کیساتھ ایک لمبے سفر پر گا مزن تھا ۔ ناقابل بیان خوشی سے لبریز عمران کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میری حقیر کوششوں کو کس طرح سراہیں اور کن کن القابات سے نوازیں۔ ایک دن وفور جذبات سے سرشار، لجاحت کیساتھ حکم داغا کہ ’’جس تدبر اور تنظیم سے تم نے میانوالی کا انتخابی معرکہ سر کیاہے، میری خواہش ہے کہ تحریک انصاف کو منظم کر و ، تنظیم سازی میں میری مدد کرو‘‘۔ برسبیل تذکرہ، اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت کے بعد میں نے خود سے ایک عہدکیا تھا، کسی پاکستانی سیاسی جماعت یا انتخابی سیاست کا حصہ نہیں بنوں گا۔ شعوری فیصلہ تھا، الحمدللہ آج تک اس پر کاربند ہوں۔ باوجودیکہ عمران کی شخصیت سے متاثر اور قلبی لگاؤ، تحریک انصاف جوائن کرنے میں لمحہ بھر دلچسپی نہ رہی۔ البتہ عمران خان کی سیاسی نابالیدگی یا کم فہمی کی وجہ سے قدم بہ قدم انکے سیاسی معاملات میں جبراً طوعاً وکرہاً، دخل جاری رکھا۔ عمران خان کی جذباتی اپیل کے باوجود، میں کسی طور تحریک انصاف کی عملی سیاست کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ البتہ منظم سیاسی جماعت اور مقبول سیاست بارے اپنی نپی تلی رائے گوش گزار کر دی، میں نے اسکو اسلامی اور کمیونسٹ تحریک کے تناظر میں مختصر جواب دیا کہ ’’پاکستانی‘‘ سیاست کے دو ماڈل ہیں ایک جماعت اسلامی اور دوسرا بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی، بلاشبہ جماعت اسلامی ملک کی سب سے منظم جماعت ہے مگر بد قسمتی سے مقبول سیاسی حمایت سے تہی دامن ہے جبکہ پیپلز پارٹی واجبی تنظیم کیساتھ عوامی جماعت ہے۔ میری سکہ بند رائے، جماعت اسلامی کی مقبولیت میں حائل منظم تنظیمی نظام ہے۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی مقبول سیاست موثر تنظیم میں رکاوٹ ہے۔ عمران کو کتنی بات سمجھ آئی، بد قسمتی سے آج عمران خان کے پاس مقبول سیاست آئی تو منظم یا نیم منظم سیاسی پارٹی سے وہ کوسوں دور ہیں۔ عمران کی ایک بد قسمتی اور بھی، انکی سیاست کا استعمال ان کی ذات کے علاوہ تحریک انصاف میں اور کوئی نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے احتیاط سے پارٹی کو ایسے استوار کیا ہے کہ انکی ذات کو منہا کریں تو پارٹی ناقابل استعمال رہے۔

تنگ آمد بجنگ آمد، تحریک انصاف بحکم الیکشن کمیشن بروز ہفتہ ( کل) پارٹی الیکشن کا انعقاد کر رہی ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ پارٹی کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو گا۔ تفصیل، یار زندہ صحبت باقی، ان شاء اللہ باقی آئندہ۔

تازہ ترین