• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چار برس بعد بھارت کی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل ’’خصوصی حیثیت‘‘ اور اسکے ریاستی سیاسی آئین کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ، ریاست سے لداخ کو علیحدہ یونین ٹیرٹیری تسلیم کرتے ہوئے ستمبر میں انتخابات کے انعقاد کے بعد اس کے بطور عام ریاست (صوبہ) بحال کیے جانے کے صدارتی حکم پر اکتفا کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370کو عارضی حیثیت میں برقرار رکھنے کے باوجود صدارتی حکمنامے کے ذریعہ آرٹیکل 3کے ذریعہ کسی بھی ریاست (صوبے) کے اسٹیٹس کو بدلنے کا آمرانہ رستہ کھول کر نہ صرف صوبائی خود مختاری بلکہ وفاقیت کی نفی کردی ہے۔ بھارتی آئین کی تمام شقوں اور مرکز کے احکامات کا اعلان جموں و کشمیر پہ ویسے ہی ہوگا جسطرح دوسری ریاستوں میں اب بھی متفرق طور پر ہوتا ہے۔بالآخر جن سنگھ کے پرانے آدرش کو جواہر لال نہرو کی ’’غلطیاں‘‘ دور کرتے ہوئے، اس کی وارث بھارتیا جنتا پارٹی نے پورا کر کے جموں و کشمیر کو بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ بنادیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن کشمیری پارٹیوں نے 5 اگست 2019 کے وفاقی اقدامات کو رد کیا تھا، وہ بھی ستمبر میں ہونیوالے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلی ریاستی اسمبلی کیا گل کھلاتی ہے۔ کشمیری پارٹیوں کے فقط تین مسئلے ہیں کہ کشمیریوں کے علاوہ کوئی زمین و جائیداد کا مالک نہ ہو (جو پہلے ہی عملاً ختم ہے) کشمیر میں بیورو کریسی مقامی رہے (جو سیاسی فیصلہ ہے) اور کشمیر کی شہریت صرف کشمیریوں تک محدود رہے (جو اب کھول دی گئی ہے) اور جس سے کشمیر کا نسلیاتی و مذہبی توازن بدل سکتا ہے۔ بھارت کا بڑا سرمایہ دار اور سیاحت کی انڈسٹری خوشی خوشی کشمیریوں کو حصہ دار بنا کر کشمیر کی جنت کو منڈی کے منافع کیلئے کھول دے گی۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہے۔ کشمیری نوجوانوں کیلئے پورے بھارت میں یونیورسٹیاں کھلی ہیں اور وہ دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور برسر روزگار ہیں۔ کشمیر کے عمومی انسانی و سماجی اشارئیے بھارتی اوسط سے زیادہ ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے سے بھاجپا کے ہندو راشٹرایجنڈے کو بہت تقویت ملے گی اور بھارتی سیکولر ازم کے پیمانے (اقلیتوں کے مساوی حقوق اور واحد مسلم اکثریتی ریاست کا خصوصی اسٹیٹس) توڑ دئیے گئے ہیں۔ اب شور مچا بھی ہے تو صرف اس بات پر کہ وفاقیت کو کمزور کیا گیا ہے اور جمہوری فریم ورک سے صوبائی خود مختاری کو منہا کردیا گیا ہے۔ جبکہ کشمیر کی ’’خود مختاری‘‘ کے خاتمے پہ سب ہی کا اتفاق ہے۔ مسئلہ فقط یہ نہیں کہ کشمیریوں کی جداگانہ قومی حیثیت ختم کردی گئی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ بھارتی جمہوریہ بھی اپنے بڑے جمہوری وصف سے محروم ہوچلی ہے اور بدقسمتی سے سیکولرازم کا گاندھئین خواب چکنا چور ہونے جارہا ہے۔ بھارت کے جمہوریت پسندوں اور سیکولر قوتوں کو اسکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اوراگلے انتخابات (اپریل 2024) میں وزیراعظم مودی کیلئے کشمیر کا انضمام ایک وننگ کارڈ کے طور پر کام آئے گا۔

پاکستان نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو رد کردیا لیکن یہ بھولتے ہوئے کہ کبھی اس نے کشمیر کے بھارت سے الحاق اور اس کی خصوصی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اسکے ساتھ ہی معمول کے تعلقات کی بحالی کیلئے 5 اگست کے فیصلوں کی واپسی کی شرط عائد کردی تھی جو اب تک لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے مستحسن فیصلے کے باوجود برقرار ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی گزشتہ فیصلے کی روشنی میں رد کردیا گیا ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ کی نان بائینڈنگ قراردادوں کی روشنی میں۔ چین نے بھی لداخ کے کچھ حصوں پہ اپنے دعویٰ کے باعث اس فیصلے کو رد کیا ہے۔ پاکستان کے موقف کی بنیاد ہمیشہ کی طرح یو این کی قراردادیں ہیں جنکے تحت استصواب رائے کے انعقاد سے پہلے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیری علاقوں سے فوجوں کا انخلا لازمی شرط ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت اب پاکستان کے ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ پہ دعویٰ تو کررہی ہے، لیکن استصواب رائے کی جانب نہ کبھی گئی ہے نہ جائے گی۔ برطانوی راج کی نوآبادیاتی روایات کی امین دونوں ذیلی ریاستیں حق رائے دہی کے استعمال سے آزاد ہونے کے باوجود حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے پہ مائل نہیں۔ بھارت کیلئے کشمیر ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے تو پاکستان کیلئے ’’شہ رگ‘‘۔ یعنی ایک علاقائی قبضہ گیری کا معاملہ جس میں کشمیریوں کی رائے کی کوئی وقعت نہیں۔ پاکستان بھی رائے شماری کا اس حد تک حامی ہے کہ بشرطیکہ کشمیری بھارت سے طلاق لے کر پاکستان سے شادی کرلیں۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے کا یہی مطلب ہے جو کشمیریوں کی آزادی سے انکار پر مبنی ہے۔ 1948 کی کشمیر جنگ کے بعد کشمیر پہ ہونے والی دو جنگوں کے بعد بھی اسٹیٹس کو برقرار ہے جسے بھارت ہر قیمت پر قائم اور پاکستان اپنے حق میں توڑنا چاہتا ہے جو ناممکن ہے۔ ایسے میں نگران وزیراعظم کا اعلان کہ کشمیر کیلئے بھارت سے 300 جنگیں لڑنا پڑی تو لڑیں گے، ایک دیوانے کی بڑھک کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بھارت اب پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے، جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر بھی نہیں، بھارت کی برآمدات پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔ 2045 تک بھارت 30 کھرب ڈالر کی معیشت بننے کی طرف رواں ہے۔ بھارت سے 300 جنگوں کے عزائم پاکستان کی سلامتی اور معاشی استحکام کو خطرے سے دوچار کرسکتے ہیں۔ غالباً، اب خطرہ مشرقی محاذ پر نہیں ہے جو کہ معاشی ترقی کی راہیں کھول سکتا ہے، بلکہ جنوب مغربی محاذ پر ہے۔ طالبان کی فتح سے پاکستان کیلئے افغانستان اسٹریٹجک گہرائی فراہم کرنے کی بجائے ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف میں طالبان کی امارتوں کے قیام کیلئے مختلف طرح کے عناصر متحرک ہوگئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو مشرقی محاذ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا اور کشمیر پر من موہن سنگھ اور جنرل مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی طرز پر کشمیر پر تصادم کی بجائے افہام و تفہیم سے کشمیریوںکیلئے راحت کے اہتمام کا کوئی رستہ نکالنا ہوگا۔ ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف تک سبھی بھارت سے امن و دوستی کے معاہدے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اب کیوں نہیں کی جاسکتیں! کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر میں ریفرینڈم کرواکے انہیں آئینی طور پر پاکستان میں شامل کر کے مساوی شہری حقوق دے دئیے جائیں تاآنکہ کشمیر کا مسئلہ حتمی طور پر حل ہوجائے۔

تازہ ترین