• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دس سال تک حکومت کرنے کا منصوبہ بنانے والے عمران خان آج جیل میں ہیں۔مقدمات کی فہرست اتنی طویل ہے کہ آئندہ کئی ماہ ضمانت پر بھی ان کی رہائی کے امکانات نہیں۔القادر کرپشن کیس کے بارےمیں ماہرین اور ان کے حامی بھی سمجھتے ہیں کہ اس کیس میں انہیں میرٹ پر سزا ہوگی اور وہ سزا ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک بحال رہے گی۔اس کے علاوہ سانحہ نو مئی کے مقدمات،توشہ خانہ اور باقی کرپشن کے مقدمات اپنی جگہ ہیں۔بہرحال آج سے دو سال قبل جب عمران خان سے کہا جاتا تھا کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا اور ’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی نہیں‘‘۔اس پر وہ بہت اعتماد سے جواب دیتے تھے کہ اس ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کو میرے متعلق سب کچھ پتہ ہے ،اس لئے میں کسی سے بلیک میل نہیں ہوتا ۔وہ سمجھتے تھے کہ انہیں دس سال تک تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔اس حوالے سے وہ جنرل فیض اورجنرل باجوہ کو اپنا سب سے قیمتی اثاثہ سمجھتے تھے۔عمران خان طاقت کے نشے میں اس حد تک مست تھے کہ انہوں نے اپنے دور حکمرانی کے دوران اپنے ہر مخالف پر مقدمات درج کرائے ،انہیں جیلوں میں ڈلوایا۔نہ کسی سیاستداںکو چھوڑا اور نہ ہی میڈیا مالک کو۔جس پر کوئی مقدمہ بھی نہیں بن سکتا تھا،اس پر نجی پلاٹ کا مقدمہ درج کراکے جیل میں ڈلوادیا ۔یہ تو عدالت میں جاکر پتہ چلا کہ اس مقدمے میں نہ سرکار کا کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی شکایت کنندہ ہے۔بہرحال عمران خان بطور وزیراعظم 180میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتے چلے جارہے تھے اور اپنے سامنے آنے والے ہر سیاسی مخالف کو بے رحمی سے کچل رہے تھے۔2018کے عام انتخابات ،جس کے نتیجے میں وہ وزیراعظم بنے تھے،اس کی شفافیت کا یہ عالم تھا کہ عمران خان کو جتوانے کیلئے مسلم لیگ ن کے تین درجن سے زائد ٹکٹ ہولڈرز سے آخری رات ٹکٹ ریٹرنگ افسر کو جمع نہ کروانے کا کہا گیا۔ایسا صرف اس لئے کیا گیا تاکہ ان حلقوں میں مسلم لیگ ن کسی اور امیدوار کو ٹکٹ نہ دے سکے۔یوں ان 38حلقوں میں مسلم لیگ ن کا کوئی امیدوار ہی نہیں تھا۔یہ لیول پلئینگ اس وقت مسلم لیگ ن کو نصیب ہوئی تھی۔اور یاد رہے کہ ان حلقوں میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ چھوڑ کا آزاد لڑنے والے تمام امیدوار الیکشن ہار گئے تھے مگر ان کی شکست کا مارجن تحریک انصاف کے امیدواروں سے بہت معمولی تھا۔یعنی اگر مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ان امیدواروں سے واپس نہ کرایا جاتا تو مسلم لیگ ن کا پارٹی ووٹ بھی انہی امیدواروں کو پڑتا اور یوں مسلم لیگ ن کے پاس 2018کے انتخابات میں 38سیٹیں زیادہ ہوتیں اور یوں مخصوص سیٹوں کا مارجن بھی بڑھ جاتا۔لیکن اس وقت کسی نے نہیں کہا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو آخری رات زبردستی کرکےحکومت نہیں لینے دی گئی۔پنجاب حکومت کا معاملہ آیا تو راتوں رات تمام آزاد امیدواروں کو تحریک انصاف کا اسکارف پہنا دیا گیا اور یوں پنجاب حکومت بھی عمران خان کو دے دی گئی۔

آج جب وقت کا پہیا الٹا چل رہا ہے تو تحریک انصاف اور ان کے ہمنواؤں اور ہمارے کچھ جمہوریت پسند دوستوں کی چیخیں آسمانوں پر ہیں۔آج تحریک انصاف کے سربراہ کے مستقبل کو لے کر بہت چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں۔مگر یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں عمران خان کی واپسی نا ممکن ہے۔سانحہ نو مئی عمران خان کا اپنی سیاست پر ایک خودکش حملہ تھا۔شایدوہ اب تک یہ احساس ہی نہیں کرپارہے کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی ۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے جانے کے بعد ان کیلئے ادارے میں نرمی پیدا ہوجائے گی۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔عمران خان کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس کا فیصلہ ایک یا دو افراد کو نہیں بلکہ ادارے کوکرنا ہے۔ادارہ نومئی کو ایک منظم بغاوت تصور کرتا ہے۔یاد رہے کہ کور کمانڈر لاہور اور دو متعلقہ جی او سیز کا کیرئیر ختم ہوگیا۔کرنل اور بریگیڈئیر رینک کے کئی افسران کو فارغ کردیا گیا۔ایسے میں ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کیلئے نرمی کرلیں ؟ادارے پر تنقید کرنا،بطور وزیراعظم اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے آرمی چیف کو ہٹانا یا لگانا،ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی میں رکاوٹ ڈالنا،کسی آرمی چیف کا نام لے کر اختلاف کرنا۔ان سب باتوں کو بھلایا جاسکتا ہے اور بھلایا بھی گیا ہے۔لیکن ادارے میں دراڑ ڈال کر ادارے میں بغاوت کا ماحول بنانے کی کوشش کرنا ،سنگین ترین جرم ہے۔سانحہ نو مئی آئندہ کئی دہائیوں تک تحریک انصاف اور عمران خان کا پیچھا کرتا رہے گا۔عین ممکن ہے کہ چند سال بعد آنے والے سپہ سالار اور ڈی جی آئی ایس آئی کا سانحہ نو مئی کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن اس سے بھی سخت ہو۔کیونکہ ادارے کی یاداشت بہت مضبوط ہوتی ہے۔اس لئے آج جو کچھ تحریک انصاف کے ساتھ ہورہا ہے،یہ کسی جماعت کی حمایت یا تحریک انصاف کی مخالفت میں نہیں ہورہا ۔بلکہ یہ سب کچھ سانحہ نومئی کے ذمہ داران کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کیا جارہا ہے اور اس عمل میں اگر کسی نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو وہ بھی سانحہ نو مئی کے ذمہ داران کا ساتھی ہی تصور کیا جائے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین