• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جمہوری پارلیمانی نظام کی بنیاد عوام کے ووٹ پر ہوتی ہے۔ جمہوریت کی حکمرانی کا مطلب ہوتا ہے کہ اکثریت کی حکمرانی۔ اگرچہ اس سسٹم کے تحت اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ اقلیت کو حکمرانی مل جاتی ہے اور اکثریت رکھنے والی جماعتیں آپس کی تقسیم اور تفریق کی وجہ سے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مئی 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 32.7 فی صد ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ 67.3 فی صد ووٹ اس کے خلاف پڑے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 67.3 فی صد ووٹ درجن بھر سے زائد جماعتوں اور آزاد امیدواروں میں بٹے ہوئے ہیں جبکہ 32.7 فی صد ووٹ صرف ایک جماعت یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس ہیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی، تحریک انصاف نے 16.92 فی صد اور پیپلزپارٹی نے 15.23 فی صد ووٹ حاصل کئے۔ لہٰذا پاکستان کے آئین اور صدیوں سے رائج جمہوری روایت کے تحت حکمرانی کا حق مسلم لیگ (ن) کو ملا۔یہ بھی ایک دیرینہ روایت ہے کہ پارلیمنٹ دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ حکومت بنانے والی جماعت اور اس کے اتحادی حزب اقتدار کے بنچوں پر بیٹھتے ہیں اور حکومت میں شریک نہ ہونے والی جماعتیں حزب اختلاف کے طور پر الگ بنچ سنبھال لیتی ہیں۔ دستور کے تحت قانون سازی، پالیسی سازی، خارجہ حکمت عملی، اقتصادی منصوبہ بندی، دفاعِ وطن، تعمیر و ترقی اور تمام ملکی امور کی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے۔ حکومت اپنی کارکردگی کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔ آئین میں حزب اختلاف یا اپوزیشن کا کوئی خاص کردار تو متعین نہیں لیکن جمہوری روایت یہی ہے کہ وہ حکومت پر کڑی نظر رکھے۔ اُس کی خامیوں اور کمزوریوں کی گرفت کرے۔ قانون سازی اور پالیسی سازی کے لئے متبادل تجاویز پیش کرے۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں اپوزیشن فعال اور بیدار ہوتی ہے وہاں کسی بھی حکومت کے لئے من مانی کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ تصور جمہوری سوچ اور روایت کے خلاف ہے کہ اپوزیشن کا ملکی نظم و نسق اور پالیسی سازی میں کوئی کردار ہی نہیں ہوتا اور تمام کی تمام ذمہ داری صرف حکمران جماعت کی ہے۔ اپوزیشن کے ارکان بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں اور ان پر لازم آتا ہے کہ وہ ملکی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت حصہ ڈالیں۔ ہمارے ہاں اس باہمی تعاون کی بڑی اچھی مثالیں موجود ہیں۔ اس کا آغاز 1970ء کے انتخابات کے بعد ہوا۔ بارہ سالوں پر محیط آمریت کے باعث ملک دو لخت ہو گیا تو مغربی پاکستان ہی پاکستان قرار پایا۔ اس پاکستان کے پاس کوئی آئین ہی نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو، جو وزیراعظم بھی تھے اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی، نے آئین سازی کا آغاز کیا۔ اس وقت کی اپوزیشن اور بھٹو صاحب کی پیپلزپارٹی میں شدید اختلافات تھے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کی جان کے پیاسے تھے لیکن جب دستور سازی کے عمل کا آغاز ہوا تو ساری جماعتیں سر جوڑ کے بیٹھیں۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں ایک بڑے قومی مقصد کے لئے باہمی تعاون کا آغاز ہوا جس کا نتیجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک متفقہ آئین کی صورت میں نکلا۔ یہ آئین آج بھی ہمارے قومی اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کی علامت ہے۔ اگرچہ دو آمروں نے اس آئین کو روند کر تقریباً بیس سال تک اس ملک کو اپنے شکنجے میں لئے رکھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ یہ آئین سلامت ہے اور آج بھی ملکی امور اسی آئین کے تحت چل رہے ہیں۔ اپوزیشن اور حزب اقتدار کے درمیان تعاون کا یہ جذبہ آئین میں تیرہویں ترمیم کے وقت پھر ابھر کر سامنے آیا۔ اس وقت نواز شریف وزیراعظم اور محترمہ بے نظیر بھٹو قائد حزب اختلاف تھیں۔ دونوں نے سیاسی دشمنی کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے ضیاء الحق دور کی آٹھویں ترمیم کا خاتمہ کیا۔ آئین سازی کے حوالے سے باہمی تعاون کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد سے بائیسویں آئینی ترمیم تک، تمام آئینی ترامیم باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہوئی ہیں۔ قانون سازی میں بھی باہمی تعاون کی مثالیں موجود ہیں جس کی تازہ ترین مثال پی آئی اے کی جزوی نج کاری کا قانون ہے۔ اسی طرح انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی بھی خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی شامل ہیں۔
لیکن اس ساری مثبت صورت حال کے ساتھ ساتھ یہ افسوس ناک سلسلہ بھی جاری ہے کہ اپوزیشن کا ایک حصہ سڑکوں پر احتجاج ہی کو سیاست خیال کرنے لگا ہے۔ بلاشبہ احتجاج ایک جمہوری حق ہے لیکن کیا اس جمہوری حق یا گنجائش کو مستقل حکمت عملی بنا لینا چاہئے؟ سڑکوں پر آنے کا سب سے زیادہ ذکر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کرتے ہیں۔ لگتا ہے انہیں جلسوں، جلوسوں، مظاہروں، دھرنوں اور ہنگاموں کے علاوہ اپنا کوئی اور کردار نظر ہی نہیں آتا۔ بات بات پہ وہ سڑکوں پہ آنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ پانامہ رپورٹ کے حوالے سے بھی وہ یہی نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ ساری دنیا میں اس معاملے کی گَرد بیٹھ چکی ہے۔ لیکن پاکستان میں اس مسئلے نے پوری سیاست کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے، یہ بات اب صاف دکھائی دے رہی ہے کہ پانامہ لیکس کو جواز بنا کر اپوزیشن کا ایک خاص دھڑا وزیراعظم نواز شریف سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے اکثر مبصرین کا خیال تھا اور ہے کہ عمران خان کی جماعت اور اعتزاز احسن کسی بھی صورت کوئی معقول ٹی او آرز نہیں بننے دیں گے۔ حکومت کا مفاد تو اسی میں ہے کہ ٹی او آرز بن جائیں اور معاملہ کسی قابل اعتبار عدالتی فورم کے سپرد ہو جائے تاکہ معاملات حکومت صحیح طریقے سے چلتے رہیں۔ اپوزیشن کی ایک دو جماعتیں بھی نہیں چاہتیں کہ معاملہ سڑکوں پہ جائے۔ انہیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ جب معاملہ پارلیمنٹ سے نکل کر سڑکوں پر چلا جاتا ہے تو بہت کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ماضی کی آمریتوں نے ہمیشہ اسی طرح کی سیاسی افراتفری کو بہانہ بنایا۔ لیکن عمران خان بضد ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو طاہر القادری، مشرف کے ریفرنڈم میں خان صاحب کے ساتھ ساتھ تھے اور جنہوں نے شاہراہ دستور پر دھرنوں کے وقت بھی خان صاحب کا عملی ساتھ دیا وہ ایک بار پھر خان صاحب کی مدد کے لئے پاکستان تشریف لا چکے ہیں۔
معلوم نہیں عمران خان صاحب کے ذہن میں کیا ہے؟ لیکن پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم تو بہت کچھ دیکھ اور بہت کچھ بھگت چکی ہیں۔ آج وہ اپوزیشن میں ہیں لیکن انہیں نہیں بھولنا چاہئے کہ جب معاملات سڑکوں پر آجائیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ پانامہ کی تحقیقات ضرور ہوں لیکن اس کی آڑ میں سیاسی عدم استحکام پھیلانااور حکومت گرانا کس کے مفاد میں ہے؟ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر کئی خطرات کا سامنا ہے۔ افغانستان کا رویہ ٹھیک نہیں۔ بھارت تو ہے ہی روایتی دشمن۔ امریکہ نے بھی اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ لگتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری نے سب کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اس موقع پر اپوزیشن کو کسی قیمت پر بھی افراتفری پیدا نہیں کرنی چاہئے۔ ایک بار پھر یہ نظام پٹری سے اتر گیا تو خان صاحب سمیت کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور بقول چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، خدانخواستہ ملک کی سا لمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
تازہ ترین