• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس میں دو رائے نہیں کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل پر تاریخ ساز فیصلہ دے کر پاکستان کی عدلیہ کو صحیح رخ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کایہ فیصلہ مختصر ہے‘ امید ہے کہ جلد اس سلسلے میں تفصیلی فیصلہ بھی جاری ہو گا کیونکہ ابھی کچھ ایشوز پر رائے نہیں دی گئی ہے۔جس طرح سپریم کورٹ کا دیا گیا یہ فیصلہ عدلیہ کی تاریخ میں تاریخ ساز ہے۔ اسی طرح بھٹو بھی ایک تاریخ ساز شخصیت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سارے حقائق سامنے لائے جائیں کہ بھٹو نے پاکستان کے لئے کیا کیا قربانیاں دیں۔ اس سلسلے میں کن کن عالمی قوتوں سے ٹکرایا۔ اس سلسلے میں کئی حقائق جو ابھی تک ظاہر نہیں کئے گئے وہ میرے علم میں ہیں ۔ سپریم کورٹ نے جو مختصر فیصلہ دیا ہے اس کے کچھ نکات میں یہاں پیش کررہا ہوں مگر اس سے پہلے میں اس بات کا ضرور ذکر کروں گا کہ یہ اعزاز صدر آصف علی زرداری کو جاتا ہے کہ وہ جب پچھلی بار صدر بنے تو انہوں نے بھٹو کی پھانسی کا ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا کہ اس کیس کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے کہ بھٹو کی یہ سزا آئین اور قانون کے مطابق تھی یا اس وقت کے حکمراں کے کہنے پر دی گئی۔ اس کیس کے فیصلے میں چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ریفرنس میں 5سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا یہ ٹرائل آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق تھا؟ چیف جسٹس کی رائے یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں ملا نہ ہی ٹرائل آئین اور قانون کے مطابق ہوا‘ ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ٹرائل اور سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کے دوران بھی بنیادی حقوق کو مدنظر نہیں رکھا گیا لہٰذا چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا اور ان کو دی گئی سزا آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔ دوسرا سوال ۔ کیا یہ فیصلہ عدالتی نظیر ہوسکتا ہے؟ چیف جسٹس کے مطابق پوچھا گیا دوسرا سوال واضح نہیں تھا لہٰذا اس لئے اس کے بارے میں رائے نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس میں قانونی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ تیسرا سوال :رائے آئینی تقاضے پورے کئے بغیر ذوالفقار علی بھٹو کو سزا دی گئی۔ چوتھاسوال:کیا شواہد سزا سنانےکیلئے کافی تھے؟ چیف جسٹس نے رائے دی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی سزا آئین کے بنیادی حقوق کے مطابق نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے آخر میں کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے لہٰذا تفصیلی رائے بعد میں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے قابل احترام چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی فل بینچ نےجو مختصر فیصلہ دیا ہے وہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں چودہویں کاچاند ہے جسے آئندہ نسل بھی بڑے احترام کے ساتھ یاد کرے گی۔ امید کرنی چاہئے کہ جلد جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل سپریم کورٹ تفصیلی فیصلے کا بھی اعلان کردے گی۔ بھٹو کی پھانسی کےخلاف بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جب تک اس اپیل کی سماعت جاری رہی کچھ دلچسپ حقائق سامنے آئے مگر یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بھٹو کی گرفتاری سے پہلے بھی کچھ دلچسپ حقائق سامنے آئے ۔ ایک واقعہ اس طرح ہوا کہ پنجاب کی ایک انتہائی اہم سیاسی شخصیت کراچی آئی‘ اس دن میں اور میرے دوست ایک سینئر صحافی کے ساتھ کراچی پریس کلب کی کینٹین میں لنچ کررہے تھے کہ اچانک اس دوست صحافی نے اپنا چہرہ میری طرف کرکے آہستہ سے کان میںکہا کہ جلد کھانا کھالو ہمیں ایک اہم جگہ جانا ہے لہٰذا ہم دونوں نے کھانا جلد ختم کیا اور پریس کلب سے باہر آئے‘ رکشہ پکڑا او ر باتھ آئی لینڈ آئے جہاں پنجاب کی وہ شخصیت ایک بنگلے میں تھی‘ ہم نے اپنے نام اندر بھیجے اور جلد ہمیں بڑی عزت کیساتھ اندر بلایا گیا‘ ایک بڑے کمرے میں وہ اہم شخصیت ہمارا انتظار کررہی تھی‘ ہمیں اندر آتا دیکھ کر وہ شخصیت احتراماً کھڑی ہوگئی۔ اس نے پہلے تو میرے دوست سے ہاتھ ملایا بعد میں مجھ سے ہاتھ ملانے سے پہلے میرے دوست نے میرا تعارف کرایا کہ یہ ممتاز صحافی ہیں اور سندھی ہیں یہ سن کر انتہائی پرتپاک انداز میں مجھ سے ہاتھ ملایا مگر انہوں نے میرے ہاتھ نہیں چھوڑے اور کہنے لگے کہ تو آپ صحافی بھی ہیں اورسندھی بھی ہیں یہ کہہ کر انہوں نے میرے ہاتھ اور زور سے پکڑے اور کہنے لگے کہ آپ صحافی ہیں اور سندھی بھی ہیں تو بھٹو کی جان بچانے کیلئےآپ اپنا کردارا دا کریں‘ اس کے بعد ہم بیٹھ گئے۔ اس مرحلے پر پنجاب کی اس شخصیت نے بات شروع کی اور کہنے لگے کہ میں جنرل ضیاء کی کابینہ کے وزیروں اور جنرلوں پر زور دیتا رہا ہوںکہ بھٹو کو پھانسی نہ دیں‘ بھٹو کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے‘ اس طرح آپ پاکستان کے ساتھ زیادتی نہ کریں‘ خود آپ بھی پچھتائیں گے مگر میری کوئی بات نہیں سنتا تھا لیکن ہفتہ پہلے ایک جنرل مجھ سے ملنے آیا اور کہا کہ جنرل ضیاء الحق کا ایک اہم پیغام لیکر آپ کے پاس آیا ہوں۔ پیغام یہ ہے کہ جنرل صاحب بھٹو کو پھانسی نہ دیکر اسے رہا کرنے پر راضی ہوگئے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم بھٹو کو جیل سے آزاد کرکے ایک جہاز میں بٹھائیں گے جو اسے کسی اور ملک میں جاکر چھوڑے گا اوروہ پھر پاکستان واپس نہیں آئے گا‘ اس شخصیت نے بتایا کہ جیسے ہی اسے یہ پیغام ملا تو وہ دوسرے دن یہاں آگیا‘ یہاں آتے ہی انہوں نے کہا کہ اس نے بیگم نصرت بھٹو کو ٹیلی فون کیا اور اسے بتایا کہ وہ لاہور سے محض ان سے ملنے آیا ہے کیونکہ بھٹو صاحب کے بارے میں ایک مثبت ڈولپمنٹ ہوئی ہے یہ سن کر بیگم نصرت نے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود 70 کلفٹن جاکر محترمہ سے ملنا چاہتے تھے مگر بیگم نصرت بھٹو نے مجھ سے یہاں میری رہائش گاہ کا ایڈریس معلوم کیا اور کہا کہ وہ فوری طور پر ان سے ملنے آرہی ہیں‘ اس کے بعد بقول ان کے پون گھنٹے کے اندر بیگم نصرت کی گاڑی آکر میرے بنگلے کے سامنے رکی اور بیگم نصرت بھٹو تیز تیز قدم اٹھا کر میرے کمرے میں داخل ہوئیں اور معلوم کرنے لگیں کہ کیا مثبت ڈولپمنٹ ہوئی ہے۔ انہوں نے سارا قصہ بیان کیا تو بیگم نصرت بہت خوش ہوئیں‘ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگےاور کہنے لگیں کہ وہ فوری طور پر پنڈی جارہی ہیں اور جیل میں بھٹو صاحب سے ملاقات کرکے انہیں آپ کا یہ پیغام دوں گی‘۔ (جاری ہے)

تازہ ترین