تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے قافلے پر حملے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسرائیلی نیوز چینل کے مطابق نیتن یاہو کے قافلے پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے ایک اسرائیلی شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
امریکا نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی قیادت سے بات چیت پر رضا مندی ظاہر کردی۔
لبنان کا فلائٹ آپریشن جزوی بحال ہوگیا، 9 ملکوں کی فضائی حدود مزید بند رہے گی، ایران، امارات، قطر، بحرین، کویت، عراق، شام، اردن، اسرائیلی فضائی حدود مکمل بند ہے، لبنان کے بیروت ایئرپورٹ سے جزوی بحالی میں 34 پروازیں آپریٹ کی گئیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائی ریڈار کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد عالمی پروازوں کا متبادل روٹس کا استعمال بڑھ گیا۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کا آپریشن جاری ہے، ایرانی میزائل امریکی بحری بیڑے تک نہیں پہنچ سکا۔
اسرائیلی میڈیا نے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد کی شہادت کا بھی دعویٰ کردیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دانشمند رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت آنے والی صدیوں تک قوم کو یاد رہے گی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں امریکی ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کو 4 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا،
چین نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کو ایران کی خود مختاری اور سلامتی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق بیت شمس کے علاقے میں اسرائیل کے نیو کلئیر میزائل سمیت حساس تنصیبات ہیں، ایرانی میزائل حملے میں ایک عمارت تباہ ہوگئی۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی پرگہری تشویش ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح تہران کے خلاف فضائی حملوں کے ایک نئے سلسلے میں ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق حملے میں ایک F-4 اور ایک F-5 طیارہ اس وقت تباہ کیا گیا جب وہ پرواز کی تیاری کر رہے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ جس مدد کا آپ انتظار کر رہے تھے، وہ آ چکی ہے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر کام مکمل کریں۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔