مظفرآباد(نامہ نگار) آل جموںو کشمیر جمعیت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں اتحاد کیلئے اصولی طور پر اتفاق ہوگیا، مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری شاہ لام قادر نے مفتی اعظم کشمیر امیر مرکزیہ مفتی محمد رویس خان ایوبی سے رابطہ کیا اور میرپور کے ضمنی انتخاب میں ہونے والے اتحاد کے تسلسل میں تجدید پر بات چیت کی ۔ ممبر قانون ساز اسمبلی و امیدوار سٹی مظفرآباد کامسلم لیگ نے نمائندہ کی حیثیت سے عوامی جرگہ کے ہمراہ مرکزی جنرل سیکرٹری آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام مولانا قاضی محمود الحسن اشرف اور ڈویژنل امیر مولانا قاضی منظور الحسن امیدوار حلقہ سٹی مرکزی سیکرٹری اطلاعات علامہ عطااللہ علوی ، سے مرکز اہل سنت جامعہ داراعلوم الاسلامیہ میں تفصیلی ملاقات اور جمعیت کی طرف سے اتحاد/ معاونت کے لئے پیش کردہ تمام نکات سے مکمل اتفاق کیا ۔ تفصیلات کے مطابق آل جموںو کشمیر جمعیت علماء اسلام کے امیدواران کی طرف سے براہ راست انتخاب میں شرکت نہ کرنے کے فیصلہ کے بعد اہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے تعاون حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا، لیکن کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے جمعیت نے اضلاع اور حلقہ جات سے تجاویز اور آراء حاصل کیں، جس میں تمام اضلاع اور حلقہ جات میں کثرت رائے سے مسلم لیگ ن کے حق میں آمدہ آرا کی روشنی میں جمعیت کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ درج ذیل آٹھ نکات پر آئندہ پانچ سال کے لئے اتحاد کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔ ریاست میں پہلے سے نافذ اسلامی احکامات اور قوانین کا مکمل تحفظ اور دستور کی روشنی میں اسلامی نظام کے لئے اقدامات اور مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق موثر اقدامات۔ ۲۔عقیدہ ختم نبوت ، ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ناموس صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کے تحفظ و تقدس کے لئے قانون سازی اور خلفائے راشدین ، صحابہ کرام و اہل بیت کی تعظیم و تکریم کے لئے اسلامی تعلیمات اور ملکی پالیسی کے مطابق موثر اقدامات۔۳۔سیرت النبیؐ اور سیرت خلفاء راشدین کو نچلی کلاسز سے ڈگری کی سطح تک کی کلاسز میں شامل کرنے اور آزاد کشمیر یونیورسٹی میں سیرت النبیؐ اور پنجاب یونیورسٹی و ہزارہ یونیورسٹی کے طرز پر شعبہ علوم اسلامیہ کا قیام۔۴۔ریاستی تشخص کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات اور تعمیر و ترقی کے لئے خصوصی اقدامات اور ترقیاتی بجٹ میں غیر ترقیاتی بجٹ کے مساوی اضافہ ۔۵۔شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے اہلیت اور میرٹ اور اچھی شہرت کے حامل ماہرین شریعت کی تعیناتی و تقرری ۔۶۔نصاب تعلیم کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ بنانے کے لئے ماہر علماء کرام کی مشاورت سے ترتیب و تدوین نیز پرائمری، مڈل اور میٹرک سطح پر قرآن کریم ناظرہ مع التجوید نصابی تعلیم میں شامل کرنے اورمیٹرک بورڈ کے امتحانات میں قرین کریم کے سو نمبرات مقرر کرنے کے لئے حکمت عملی (واضح رہے اس حوالہ سے وفاقی حکومت بھی اصولی فیصلہ کر چکی ہے۔)۷دینی مدارس اور مساجد کی تعمیر و ترقی میں ترقیاتی بجٹ میں رقم مختص کرنے اور دینی مدارس کے فضلاء کو عصری تعلیمی اداروں کے فضلا کے مساوی حقوق و مراعات دینے نیز پرائمری مڈل اور سیکنڈری تعلیمی اداروں کے بطور معلم قرآن و معلم اسلامیات و عربی کی تعیناتی کے لئے منصوبہ بندی ۔۸۔اسلامی نظریاتی کونسل، علماء مشائخ کونسل، پبلک سروس کمیشن، مرکزی زکوٰۃ کونسل ، سمیت تمام آئینی اداروں اور صوابدیدی مناصب پر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر موثر نمائندگی۔ مسلم لیگ کے مرکز ی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی ممبر قانون ساز اسمبلی نے منگل کو مرکز سواد اعظم اہل السنتہ و الجماعت آزاد کشمیر جامع مسجد میں ایک بڑے وفد کے ہمراہ ملاقات کر کے جمعیت کی طرف سے انتخاب میںتعاون اور مولانا قاضی منظور الحسن سے اپنے حق میںدستبرداری کی بات کی جس کی روشنی میں متفقہ طور پر طے ہوا کہ افتخار گیلانی جمعیت اور مسلم لیگ سٹی کے مظفرآباد سے مشترکہ اُمیدوار ہونگے اور جمعیت و مسلم لیگ کے تمام اراکین بیرسٹر افتخار گیلانی کی بھرپور مہم چلائیں گے۔ جبکہ جمعیت اور مسلم لیگ کا یہ آغاز اصولی طور پر آئندہ پانچ کے لئے ریاست بھرکے لئے ہو گا۔ جس کا حتمی اعلان مسلم لیگ اور آل جموں وکشمیر جمعیت علماء اسلام کے قائدین مشترکہ طور پر کریں گے تاہم سردست مظفرآباد ڈویژن سے آغاز کا باقاعدہ اعلاج آج سے کر دیا گیا ہے۔ آل جموں وکشمیر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ناظم عمومی مولانا قاضی محمود الحسن اشرف نے مسلم لیگی وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا آل جموں وکشمیر جمعیت علماء اور مسلم لیگ بر صغیر کی سب سے قدیم جماعتیں ہیں۔مسلم لیگ کے ساتھ ہمارا موجودہ اتحاد بھی شراکت اقتدار کے لئے نہیں بلکہ نظام مصطفی کے قیام اور اسلام کی بالادستی کے لئے ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ریاست جموں وکشمیرمیں مسلم لیگ سردار سکندر حیات اور راجہ محمد فاروق حیدر کی قیادت میں اسلام اور نظریہ پاکستان کی روشنی میں جمعیت علماء اسلام کی طرف سے پیش کردہ نکات کے لئے مخلصانہ طور پر عملی اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا جمعیت علماء اسلام کے ضلعی اور حلقہ کے ذمہ داران نے مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد/تعاون آرا کی روشنی میں جمعیت کی طرف سے مسلم لیگ نے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا ہے اور ریاست بھر میں مسلم لیگ کے اُمیدواروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ تاہم ہر حلقہ میں مسلم لیگی امیدوار جمعیت کے مقامی ذمہ داران سے ان کی عزت نفس کو ملحوظ رکھتے ہوئے رابطہ کے پابند ہونگے جبکہ مسلم لیگی اُمیدواران کے رابطہ کرنے پر جمعیت کے اراکین مشینری جذبہ کے تحت ان کے حق میں کام کریں گے۔