آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
مذاکرات کی اس مشق کا انجام تو اقبال نے بہت پہلے بتا دیا تھا ۔ ’’جس معرکے میں ملا ہو غازی‘‘۔ فائدہ یہ ہوا کہ بہت سے نقاب ہٹ گئے، حجاب اٹھ گئے اور گھونگھٹ کھل گئے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں حکومتی اور طالبان کمیٹیاں تشکیل پائیں تو دونوں طرف بے حجابی کا شوق فراواں تھا۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ 1965ء کی لڑائی میں زیڈ اے سلہری کو اعزازی کرنل بنایا گیا تو انہوںنے سپاہیانہ دل ربائی کے ساتھ صحافیوں کو بتایا تھا کہ آپ ’سویلین لوگ‘ فوج کی پیچیدگیاں نہیں سمجھتے۔ 1990ء میں غلام مصطفی جتوئی نگران وزیراعظم بنے تو ایک ہاتھ میں سگار پکڑ کر دوسرا ہاتھ مسلسل سر کے بالوں میں پھیرتے تھے۔ بخشندہ اقتدار کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ ’اسلامی ثقافت‘ کی جھلک دکھانا مقصود تھا تو اصحاب عرفان نے ثمرقند و بخارا کے فرغل اور چوغے زیب تن کیے اور اٹھلا اٹھلا کر قوم کو خوش خبری کی نوید دی۔ دل لگی کے کیا انداز ہیں۔ قوم؟ طالبان کی لغت میں قوم کسے کہتے ہیں۔ پاکستانی قوم نے تو گزشتہ برس 11 مئی کو اپنے رہنما چن لئے تھے۔ یہ خوش خبریاں دینے والے خیر خواہ ’تو کون میں خواہ مخواہ‘۔ مذاکرات کی میز کے دوسری طرف دلچسپ صورت حال ہے۔ پہلے ایک کمیٹی بنی۔ پھر بتایا گیا کہ طالبان کی شوریٰ نے ایک رابطہ کمیٹی بنائی ہے۔ اب پرچہ لگا کہ طالبان شوریٰ

کے ساتھ براہ راست بات چیت ہو گی۔ ایک رکن مولانا عبدالعزیز تھے۔ کچھ دن مژدہ جاں فزا سنایا اور پھر نامعلوم کیوں عقب نشینی اختیار کر لی۔ ایک مولانا یوسف شاہ ہیں۔ کسی کو خبر نہیں کہ مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری ہیں یا طالبان کمیٹی کے رکن ہیں۔ بہرصورت اڑان پہ اڑان بھرتے ہیں۔ نئی حکومتی کمیٹی تو حسب توقع خاموشی کے پیراہن میں ملفوف ہے۔ طالبان کے ترجمان البتہ خوب بول رہے ہیں۔ سچ پوچھئے تو یہی ان کا منصب ہے۔ یہ تقسیم کار آج نہیں، بارہ برس پہلے مرتب ہوئی۔ دہشت گرد دہشت گردی کریں گے اور پاکستان میں بیٹھے ان کے ہم خیال اور خیر خواہ تاویل آرائیوں سے ان کی وکالت کریں گے۔
مولانا سمیع الحق فرماتے ہیں کہ آپریشن کے حامیوں کا ایک بریگیڈ بنا کر وزیرستان بھیج دیا جائے تاکہ ان کا جنگ و جدال کا شوق پورا ہو۔ ارے نہیں، مولانا۔ ملک ہمارا، زمین ہماری، سپاہی اور شہری ہمارے مارے گئے، حملہ آور اجنبی اور کمیں گاہوں میں پوشیدہ۔ مولانا صاحب اپنے مخالفین کا نقطہ نظر بھی سن لیں۔ پاکستان جمہوریت کی وجہ سے بنا یہ کسی جنگجو کی مفتوحہ زمین نہیں۔ کسی کو اپنے شمشیرزن بازو پر ایسا ہی بھروسہ ہے تو شدت پسندوں کو مشورہ دیجئے کہ بریگیڈ تو ایک طرف، وہ اپنے لوگوں کا ایک دستہ پاکستان کے کسی شہر میں بھیج دیں جو نقاب اتار کر آئیں اور چوک میں کھڑے ہو کر صرف یہ اعلان کریں کے ہم نے فلاں فلاں جگہ دھماکہ کر کے مذہب کے نام پرآپ لوگوں کے بھائی، باپ اور بیٹے شہید کئے ۔ پاکستان کے لوگ اپنے خالی ہاتھوں سے ان سورمائوں کا وہ حشر کریں گے کہ تاقیامت یاد رہے گا۔ دوسروں کو وزیرستان جانے کا مشورہ دینا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ آپ کو خود تو دشوار گزار راستوں سے پرہیز ہے۔ سرکاری ہیلی کاپٹر میں معلوم مقام سے نامعلوم مقام تک سفر فرماتے ہیں۔ افغانستان سے سوویت یونین رخصت ہوا تو آپ مجاہدین کے مختلف گروہوں کے درمیان مذاکرات میں شریک تھے۔ بندوق بردار جتھوں میں سرپنچ بننے کا شوق آپ کا قدیم ہے۔ پچیس برس گزر گئے افغانستان آج بھی افغانوں کا ہے۔ اگر کسی نے پاکستان کے بارے میں ایسے ہی فرقہ وارانہ عزائم پال رکھے ہیں تو اس کے دھان بھی سوکھے ہی رہیں گے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ فوج کے ناکوں اور گشت کی وجہ سے طالبان کو نقل و حرکت میں دشواری پیش آتی ہے۔ برسوں سے پاکستان کے ہر شہر ، قصبے میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں ناکے لگے ہیں۔ ہم کم نصیبوں کی تکلیف پر آپ نے کبھی لب کشائی نہ فرمائی۔
ان دنوں تاویلات کے پردے ایک ایک کر کے چاک ہو رہے ہیں۔ ہمیں تو بتایا جا رہا تھا کہ طالبان افغانستان میں اپنی آزادی کے لئے برسرپیکار ہیں اور ہم نے انہیں ازراہ تواضع اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا ہے۔ تو صاحب یہ کون گروہ ہیںجن کے ساتھ ہماری حکومت مذاکرات کر رہی ہے۔ اگر تصادم کی اصل زمین افغانستان ہے یا امریکہ کے ساتھ جھگڑا تھا تو پاکستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات چہ معنی؟ مذاکرات کی یہ مشق شروع ہونے کے بعد پاکستان کی زمین پر دہشت گردی میں کمی کیسے واقع ہوئی۔ ہم راندہ درگاہ نشان دہی کرتے تھے کہ پاکستان کے طول و عرض میں قتل و غارت اور اغوا کی وارداتیں کون کر رہا ہے تو ہم بہتان تراشتے تھے ، اب فرمائیے شہباز تاثیر ، حیدر گیلانی اور پروفیسر اجمل کی بازیابی کے لئے کس سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے۔ پاکستان کے شہریوں کو سیاسی معاملات پر اختلاف رائے کا آئینی حق حاصل ہے۔ انہیں دھمکیاں نہ دی جائیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ طالبان کے ہم خیال اور ہمدرد پاکستان میں جمہوریت کا بستر لپیٹ کر مذہبی پیشوائوں کی آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کی تباہی کا نسخہ ہے۔ حالیہ مذاکرات ناکام ہوں تو بھی پاکستان کو ایک بڑا امتحان درپیش ہو گا اور اگر یہ مذاکرات کامیاب قرار دئیے جاتے ہیں تو جو صورت حال سامنے آئے گی اس میں بھی اہل پاکستان کے لئے کوئی خوش خبری نہیں۔ شدت پسندوں کے ساتھ سمجھوتے کی کسی ممکنہ صورت میں پاکستان کی ریاست، معاشرت اور معیشت تینوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ پاکستان ایک وفاق ہے ۔ پاکستان کے صوبے وفاق کی اکائیاں ہیں۔ پاکستان میں مختلف آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا اصول کارفرما ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں Codified قوانین نافذ ہیں۔ آئین میں مقدمات کی منصفانہ سماعت اور قانونی طریقہ کار کی ضمانت دی گئی ہے۔ منتخب پارلیمنٹ قانون سازی کا اعلیٰ ترین منبع ہے۔ پاکستان سیاسی ، معاشی اور قانونی طور پر بین الاقوامی نظام کا حصہ ہے۔ طالبان کے تصور ریاست میں ان پیچیدہ آئینی معاملات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ پاکستان میں بیک وقت بہت سے معاشرتی نمونے موجود ہیں۔ یہاں پر کراچی کی تعلیم یافتہ اور کاروباری ثقافت بھی موجود ہے اور لاہور کی تہذیبی دنیا بھی۔ زمیندار طبقے کا اپنا رہن سہن ہے اور صنعتی گھرانوں کی اپنی بودوباش ہے۔ ملازمت پیشہ لوگ اپنے طریقے سے زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان میں عورتیں مساوی شہری حیثیت رکھتی ہیں۔پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی آزادی کا تصور موجود ہے ۔پاکستان کی سیاسی ثقافت میں پرامن اختلاف رائے کی روایت موجود ہے۔ پاکستان ایک جدید معاشرتی نمونہ ہے جو انتہا پسندوں کی بالادستی کے نتیجے میں تلپٹ ہو کر رہ جائے گا۔ جہاں تک معیشت کا تعلق ہے، تو ہم بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور سیاحت کو خدا حافظ کہہ دیں۔ پاکستان کے معاشی امکانات ٹیکنالوجی کی منتقلی میں نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کی تخلیق میں شریک بننے سے منسلک ہیں۔ طالبان کے فرسودہ تصور علم میں تحقیق اور تخلیق کی گنجائش ہی نہیں۔ پاکستان کی معیشت بہت اچھی حالت میں نہ سہی، اس میں بہتری کا امکان بہرصورت موجود ہے۔ انتہاپسندوں کے ساتھ تعاون فرما کے ہم معاشی تباہی کو ادارہ جاتی درجہ دیں گے۔ پاکستان ایک غریب ، خوفزدہ ، مفلوج معاشرے کی تصویر ہو گا جہاں مختلف ہتھیار بند گروہ ہمہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ جنگ میں مشغول ہوں گے۔ مولوی یوسف شاہ فرماتے ہیں کہ طالبان نے مذاکرات سبوتاژ کرنے والے عناصر پر آنکھ رکھی ہوئی ہے۔ ایک واقعہ سنئے۔ 1978ء میں بینظیر بھٹو اندرون سندھ کے دورے پر تھیں۔ ہالہ پہنچیں تو پرجوش عوام کے ایک ہجوم نے انہیں حصار میں لے لیا۔ چوبیس سالہ بینظیر بھٹو نے کھلی جیپ میں کھڑے ہو کر ایک تاریخی تقریر کی۔ ’’ضیاالحق سمجھتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے ۔وہ نہیں جانتا کہ میرا ہاتھ بھی اس کے گریبان پر ہے۔‘‘ مولانا یوسف شاہ کو علم ہونا چاہئے کہ اگر طالبان نے پاکستان کے شہریوں پر آنکھ رکھی ہوئی ہے تو تاریخ نے بھی مولانا یوسف پر آنکھ رکھی چھوڑی ہے۔