آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یک زبان ہیں فقیہانِ شہر ’اس‘ کے خلاف

برادرم یاسر پیرزادہ نے ایسا کیا لکھ دیا کہ خیبر سے کراچی تک علم اور تدبر کے سمندروں میں تلملاہٹ کی لہریں اٹھ رہی ہیں ۔ ایک کے بعد ایک ساونت اور سورما قلم کا نیزہ لہراتا دلیل کی اس کونپل پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ الزام یہ ہے کہ قلم کار نے قائداعظم محمد علی جناح کی توہین کی ہے۔ اس نے گڑے مردے اکھاڑنے کی کوشش کی ہے۔ پچکار پچکار کر سمجھایا جا رہا ہے کہ ’’قائد اعظم کے بارے میں تمہیں جو بتایا ہے، اس پر گندے بچوں کی طرح سوال نہیں کیا کرتے‘‘۔ یاسر پیرزادہ کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک جمہوری اور جدید سیاسی رہنما تھے۔ وہ ایک متحرک ذہن رکھتے تھے اور اپنی زندگی میں انسان دوست اور روشن خیال قدروں پر کاربند تھے۔ قائداعظم کی جو تصویر اضمحلال میں مبتلا معززین نے تراش رکھی ہے وہ اس عظیم شخصیت کا پورے طور پر احاطہ نہیں کرتی۔ قائداعظم کے سیاسی تصورات میں مخصوص سیاسی ضروریات کے لئے قطع و برید کی گئی ہے اور ہم آج کے پاکستان میں قائداعظم کے حقیقی سیاسی تصورات سے انحراف کی سزا بھگت رہے ہیں۔ قائد اعظم نے ایک جدید قومی ریاست کی بنیاد رکھی تھی جس میں روز اول ہی سے یہ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ ملک یہاں کے باشندوں کی جمہوری امنگوں کے مطابق چلایا جائے گا یا اسے مذہبی پاپائیت کے نام پر مٹھی بھر افراد کے سپرد کر دینا چاہئے، جو اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے اس سرزمین کے مستقبل میں اپنی مرضی کا ہل چلاتے رہیں۔
گڑے مردے اکھاڑنے کی اچھی کہی۔ جھوٹ اور ناانصافی متفق علیہ نہیں ہوتی۔ تاریخ کی غلط خواندگی کے عواقب برآمد ہوتے ہیں۔ اجتماعی ناانصافی سے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ جب تک پاکستان کے حالات ناقابل اطمینان ہیں کوئی نہ کوئی سر پھرا یہ سوال اٹھاتا رہے گا کہ ہم سے بانیٔ پاکستان کی تعلیمات سمجھنے میں ایسی کیا کوتاہی ہوئی کہ ہم ایک فلاحی معاشرے کے بجائے پسماندگی کے جال میں گرفتار ہیں۔ ہم ایک جمہوری ریاست کے طور پر اپنی پہچان کیوں پیدا نہیں کر سکے؟ اس سوال کے مختلف جواب دیئے جا سکتے ہیں۔ سیاست مختلف نقطہ ہائے نظر میں پرامن اختلاف رائے کا نام ہے۔ اپنی رائے کو درست قرار دے کر دوسروں سے غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ کرنے سے فکری آمریت کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ یاسر پیرزادہ بلکہ پاکستان کے کسی معقول شہری کے بارے میں یہ احتمال درست نہیں کہ وہ قائد اعظم کی توہین کرے۔ یاسر پیرزادہ نے قائد اعظم سے اتھاہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خود ساختہ مجاوروں کو بے نقاب کیا ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص ہیں اور برسوں سے اپنے قلم کے ذریعے رائے عامہ کی تشکیل میں ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ یاسر پیرزادہ نے پاکستان میں سب سے کم عمر سی ایس پی افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اے پی این ایس نے انہیں 2009-10ء کے لئے پاکستان کے بہترین کالم نگار کے اعزاز سے نوازا۔ چالیس برس کے یاسر پیرزادہ کو گویا کمسن کھلنڈرا نوجوان بتایا جا رہا ہے جب کہ 37برس کے صالح لیڈر نے ایک مذہبی جماعت کی قیادت قبول کی تھی۔ یاسر نسبتاً نوجوان سہی، اس کے قلم کی کاٹ ایسی خارا شگاف ہے کہ فقیہان شہر اس کے خلاف یک زبان ہیں۔ رہا خاندانی میراث سے انحراف کا الزام تو ہر نسل اپنے شعور کی روشنی میں اپنی علمی، تخلیقی اور تمدنی راہیں تراشتی ہے۔ مردہ پروردن مبارک کار نیست۔ کیا سید محمود نے سرسید احمد خان سے انحراف نہیں کیا تھا۔ اکبر الٰہ آبادی نے اپنے صاحبزادے عشرت کے خیالات کا گلہ کیوں کیا تھا۔ کیا جسٹس جاوید اقبال اپنے محترم والد کے جادہ ٔ خیال سے کلی طور پر متفق ہیں؟ کیا حیدر فاروق مودودی اپنے والد مکرم کے خیالات سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔ یاسر پیرزادہ سے یہ اصرار کیوں کہ وہ سنت ابراہیمی ترک کر دیں اور اپنا شعور پرکھوں کی دہلیز پر رہن رکھ دیں۔ ایک چنوتی انہیں یہ دی گئی کہ ’’اگر وہ برابر کی سطح پر آکر بات کرنا چاہتے ہیں تو ڈر ہے کہ وہ مشکل میں پھنس جائیں گے‘‘۔معاشرتی حفظ مراتب کے پیمانے اور ہیں جب کہ علمی اور تمدنی مکالمے میں احترام کے تقاضے دوسرے ہیں۔ یہاں انسانی مساوات کے بنیادی اصول کو تسلیم کرتے ہوئے دلیل کو احترام دیا جاتا ہے چنانچہ تمدنی مکالمے میں شخصی احترام یکطرفہ نہیں ہوتا۔ دلیل کی دنیا میں عمر، تجربہ اور حسب نسب کو دخل نہیں ہوتا۔ 22برس کا آئن اسٹائن سائنسی کانفرنسوں میں شریک ہوتا ہے تو بڑے بڑے اہم سائنسدان پوری توجہ سے اس کے افکار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہا گیا کہ ’مولویوں کے جلیل القدر خانوادے کا یہ چشم و چراغ مولوی کے حوالے سے اپنے اندر کد رکھتا ہے‘‘۔یاسر پیرزادہ تو نہایت مؤدب شخص ہے جو اپنے آبأواجداد سے عقیدت کے علاوہ بزرگوں کے عمومی احترام میں مثالی رویہ رکھتا ہے۔ آئیے ایک واقعہ سنتے ہیں۔ روزنامہ انقلاب نے 16اپریل 1948 ء کی اشاعت میں خبر دی کہ وزیر آبادکے چوک لاہوری دروازہ میں علماء نے پردہ کے موضوع پر ایک جلسہ منعقد کیا۔جلسے کے اختتام پر ایک قرارداد پیش کی گئی’’مسلمانان وزیرآباد کا یہ جلسہ بیگم لیاقت علی خان اور ان کی دوسری مغرب زدہ ساتھیوں کی ان تقریروں کی پرزور مذمت کرتا ہے جو انہوں نے 3اپریل کو لاہور میں کیں۔ اس جلسے کی رائے میں، اس قسم کی تقریریں اسلامی تعلیمات سے جہالت و بے خبری اور اینگلو محمڈن مردوں کی انگیخت اور سازش کا نتیجہ ہیں‘‘۔اس قرارداد میں ’’اینگلو محمڈن‘‘ کی اصطلاح محض اتفاقیہ نہیں تھی۔ دو ہفتے بعد 3مئی 1948ء کو بیرون باغ موچی دروازہ لاہور میں مسلم لیگ (شریعت گروپ) کے ایک جلسے کی صدارت عبدالستار نیازی کر رہے تھے۔ ایک مقرر ابراہیم علی چشتی کے الفاظ تھے ’’پاکستان کے مسلم عوام اینگلو محمڈن نوابوں اور سرمایہ دار کمیونسٹوں کے زور دار شکنجے میں کچلے جا رہے ہیں‘‘۔ عورتوں کے حقوق کے بارے میں قائد اعظم اور لیاقت علی خاں کے خیالات واضح ہیں۔ دونوں نے کہیں اور کبھی عورتوں کو عضو معطل بنانے کی حمایت نہیں کی۔
یہ فیصلہ تو آپ خود کر لیں کہ ’’اینگلو محمڈن ‘‘ کا خطاب کسے دیا جا رہا تھا۔ آج کل اس اصطلاح کو ’’لبرل فاشسٹ‘‘ کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔ 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں قائداعظم کی تقریر سے غیر جمہوری حلقوں کو بہت تکلیف ہوئی تھی۔ چنانچہ 20 روز بعد مفتی شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جو 3ستمبر 1947ء کو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ یہ بیان قائد اعظم کے ارشادات کی لفظ بہ لفظ تکذیب تھا۔ ’’میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائداعظم کی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہون احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریئے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علمائے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم یا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی‘‘ قائد اعظم اپنی تقریر میں فرما چکے تھےکہ’’ مذہبی نہیں سیاسی حوالے سے وقت گزرنے کے ساتھ (پاکستان میں) ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی حوالے سے نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کے ذاتی اعتقاد کا معاملہ ہے بلکہ سیاسی معنوں میں، ریاست کے شہری کے طور پر‘‘۔ چنانچہ مفتی شبیر احمد عثمانی نے اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ خواہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں مسلمان مسلمان رہے اور ہندو ہندو‘‘۔ قائداعظم کی اصل توہین تو ان افراد اور گروہوں نے کی جو قیام پاکستان کے بعد بھی قائداعظم کی ذات اور سیاست پر انگشت نمائی کرتے رہے۔ یہ فہرست طویل بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی تیرہ چشم حلقے قائد اعظم پر حیلے بہانے سے حملہ آور ہوتے رہے۔ پاکستان کی ’نظریاتی اساس‘ کے خود ساختہ علمبرداروں کی ان کوششوں کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔