آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
چند دنوں میں پڑوسی ملک ہندوستان میں لوک سبھا کے انتخابات کا طویل عمل شروع ہو جائے گا۔ مختلف سروے بتاتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کافی بھاری تعداد سے جیت جائے گی اور اس کے نامزد امیدوار نریندر مودی وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ انتخابات پاک ہند تعلقات میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں اور تاریخی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع کرنا غلط نہیں ہو گا کہ بی جے پی کے دور میں پاک ہند تعلقات کافی بہتر ہو جائیں گے۔ بھارت کے اس الیکشن میں پانچ سو تینتالیس سیٹوں پر7 اپریل سے شروع ہو کر 12 مئی تک ووٹ ڈالے جائیں گے اور اس کے نتائج کا اعلان 16مئی کو کیا جائے گا۔دنیا کے اس سب سے بڑے الیکشن میں ساڑھے اکیاسی کروڑ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا اس پر تین ہزار پانچ سو کروڑ روپے خرچ آئے گا اور سیاسی پارٹیاں تیس ہزار پانچ سو کروڑ روپے یا تقریباً پانچ بلین ڈالر خرچ کریں گی۔ اس پہلو سے یہ امریکہ کے بعد دوسرا بڑا مہنگا الیکشن ہوگا ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی یہ انتخاب نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے تحت اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔ دوسری طرف انڈین نیشنل پارٹی اور اس کا یونائیٹڈ پروگریسو الائنس ہے۔ اس وقت لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک سو بارہ اور کانگریس کی دوسو

ایک نشستیں ہیں۔ ابھی تک لگائے جانے والے تخمینوں کے مطابق کانگریس پارٹی نصف سیٹیں ہار جائے گی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی ہوگی۔ مشرقی پنجاب کا اکالی دل بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی قدامت پرست مذہبی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اسے ہندو بنیاد پرست نظریاتی پارٹی راشٹریہ سیوک سنگھ کا سیاسی فرنٹ سمجھا جاتا ہے۔ راشٹریہ سیوک سنگھ اس سے پہلے انیس سو اکاون میں بھارتی جنتا سنگھ کے نام سے ایک پارٹی بنا چکی تھی جس کا نام بدل کر جنتا پارٹی بن گیا تھا جس کو انیس سو اسّی میں ختم کردیا گیا اور اس کی جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی بنائی گئی۔ اسے انیس سو چوراسی کے انتخابات میں صرف دو نشستیں ملی تھیں اور تب تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی جب تک اس نے ہندو بنیاد پرستوں کو متحرک کرنے کے لئے رام جنم بھومی (رام کی جائے پیدائش) کی تحریک چلا کر ایودھیا میں بابری مسجد گرا کر رام مندر بنانے کا بیڑا نہیں اٹھایا تھا۔ انیس سو چھیانوے میں یہ تیرہ دن کے لئے حکومت میں آئی تھی لیکن پھر نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ اس نے انیس سو اٹھانوے سے لے کر دو ہزار چار تک حکومت کی اور اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم رہے۔
یہ تاریخی حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ ہندوستان میں اسی زمانے میں ہندوبنیاد پرستی کا ابھار آیا جب پاکستان میں ضیاء الحق کی اسلامائزیشن زوروں پر تھی۔اسی زمانے میں ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی مقبول ہونا شروع ہوئی اور پاکستان میں مسلم لیگ (ن) نے پر پرزے نکالے۔ اس مماثلت کے باوجود دونوں پارٹیوں میں ایک بنیادی فرق ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈرشپ درمیانے طبقے سے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ نریندر مودی کے والد چائے کا ٹھیلہ لگاتے تھے۔ ہندوستان میں بہت شروع میں زرعی اصلاحات کردی گئی تھیں جس کی وجہ سے سیاست میں درمیانے طبقے کے اوپر آنے کے امکانات روشن رہے۔ ہندوستان کے بہت سے وزرائے اعظم (من موہن سمیت) درمیانے طبقے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ پاکستان میں جاگیردار اور سرمایہ دار ہی اس مقام تک پہنچتے ہیں۔
قطع نظر ذاتی پس منظر کے ہر پارٹی کسی نہ کسی طبقے کے مفاد کی علمبردار ہوتی ہے۔ نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی بڑے صنعت کاروں کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔ نریندر مودی نے گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سرمایہ نواز پالیسیاں تشکیل دیں اور شاید اسی وجہ سے ان کے صوبے میں کافی سرمایہ کاری ہوئی۔ اس وقت گجرات صوبے کی ترقی کو ماڈل اور نریندر مودی کو ہیرو سمجھا جا رہا ہے لیکن نریندر مودی کے زمانے میں ہی سب سے بڑے ہندو مسلم فسادات ہوئے جن میں ایک ہزار لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ نریندر مودی کے ناقدین ان کو مسلم کشی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک تنگ دل ہندو کے علاوہ کچھ نہیں۔ نریندر مودی اس سے نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے زمانے میں پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کئے جائیں گے۔
پچھلی مرتبہ جب بی جے پی حکومت میں آئی تھی تو اس نے دو وعدے کئے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ کشمیر کی علیحدہ ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان کا صوبہ بنائے گی اور دوسرے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرے گی۔ عملی طور پر اس نے ان دونوں وعدوں پر عمل نہیں کیا بلکہ بہت سے لوگوں کی توقع کے خلاف اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت حد تک سلجھایا۔ وہ بذریعہ بس لاہور آئے اور انہوں نے اکیس فروری انیس سو ننانوے میں لاہور اعلامیہ پر دستخط کرکے تاریخ کا ایک نیا باب تحریر کیا تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اب بی جے پی حکومت میں آتی ہے اور نریندر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کا پاکستان کے بارے میں کیا رویہ ہوگا؟ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ متحارب ملکوں کی قدامت پرست پارٹیاں باہمی سمجھوتے کر لیتی ہیں جبکہ آزاد خیال پارٹیاں ایسا نہیں کر پاتیں۔ روس اور چین کی کمیونسٹ حکومتوں کے ساتھ امریکہ کی ری پبلکن پارٹی تو سمجھوتے کرتی رہی لیکن اگر وہی کچھ ڈیموکریٹک پارٹی کرنے کی کوشش کرتی تو اسے کمزور اور غدار قرار دیا جاتا تھا (اور ہے)۔پاکستان میں پیپلزپارٹی اور ہندوستان میں کانگریس پارٹیوں کا بھی یہی مسئلہ ہے لہٰذا یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وہ سمجھوتہ جو بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی کر سکتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کانگریس کے من موہن سنگھ نہیں کر سکتے۔ بی جے پی کو حب الوطنی کی سند کی ضرورت نہیں ہے جبکہ کانگریس کو ہے۔مزید برآں بی جے پی بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی نمائندہ ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خود بھی بڑے سرمایہ دار ہیں۔
اس لئے ان کے درمیان قدر مشترک ہے لہٰذا بی جے پی کی حکومت قائم ہوتے ہی پاک ہند تجارتی تعلقات میں پیشرفت شروع ہو جائے گی۔ شاید یہی کچھ سوچ کر پاکستان حکومت نے ہندوستان کو موسٹ فیوریڈ نیشن کا درجہ دینے کا اعلان نہیں کیا۔