• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں انٹرنیٹ کی سُست رفتار سے سب پریشان

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے بچہ، بڑا، کاروباری افراد اور طالب علم سب ہی پریشان ہیں۔

فری لانسرز کہتے ہیں کہ انٹر نیٹ کی رفتار کم ہونے سے انہیں اسائنمنٹ وقت پر دینے میں مسائل کا سامنا ہے۔

وقت پر اسائمنٹ نہ دینے سے کئی فری لانسرز کی پروفائل بھی بند ہو چکی ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ انٹرنیٹ کے مسائل حل نہ ہوئے تو فری لانسرز کے کلائنٹ بنگلادیش، بھارت یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب انٹرنیٹ سروس کی سست رفتار کے خلاف درخواست پر پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

عدالت نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزر کے وکیل کا مؤقف تھا کہ انٹرنیٹ کی بندش اور رفتار سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات ہیں اور کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔

جسٹس وقار احمد نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حکومت مان نہیں رہی کہ انٹرنیٹ سلو کیا گیا ہے؟ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی آئندہ سماعت پر تفصیل پیش کریں۔

قومی خبریں سے مزید