یہ میری زندگی کے پرانے دور کی داستان ہے۔ ادوار کا آنا اور گزر جانا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ مگر ہم سب کا یکساں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے ادوار بھول جاتے ہیں۔ اپنی زندگی کے ناقابل فراموش ایک دور کا قصہ میں آپ کو سنا رہا ہوں۔ قدرت نے بڑے ہی نایاب سافٹ ویئر میرے بھیجے میں لگا دیئے ہیں۔ جو ادوار میرے کام کے نہیں ہوتے، وہ ادوار میں بھول جاتا ہوں۔ ناپسندیدہ ادوار کو بھلانے کیلئے مجھے کسی قسم کی کوئی محنت کرنی نہیں پڑتی۔ میری زندگی کا ایسا دور جس نے مجھے دکھ دیئے نہ سکھ دیئے۔ میں بھول جاتا ہوں، اس کام کیلئے میرے ذہن میں خودکار سافٹ ویئر لگا ہوا ہے۔میری زندگی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب میں اپنی زندگی ڈاکٹروں کے احکامات اور مشوروں کے عین مطابق گزار رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ تمہارے سر میں پڑے ہوئے بھیجے کی حالت قابل ستائش نہیں ہے۔ تم نے سیاستدانوں کی اس قدر تقریریں سنی ہیں کہ تمہارے بھیجے میں خاصا خلل پیدا ہو چکا ہے۔ تم اب کہیں کے نہیں رہے ہو۔ کسی کام کے نہیں رہے ہو۔میں نے افسردہ ہوتے ہوئے ڈاکٹروں سے پوچھا تھا، کیا میں لاعلاج مرض کا شکار ہوچکا ہوں؟ڈاکٹروں نے بھاری بھر کم فیس لینے کے بعد بتایا تھا۔ نہ سیاستدان تقریریں کرنے سے باز آئینگے، اور نہ تم سیاستدانوں کی تقریریں سننے سے باز آئو گے۔ تمہاری نفسیات نے گھاٹے کاسودا کیا ہے۔ تم اپنے آخری ایام پاگل خانے میں گزارو گے، یا پھر ماہر قلب ڈاکٹروں کی نگہداشت میں اپنے آخری ایام گزارو گے۔ڈاکٹروں نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ سیاستدان نہ تقریریں کرنے سے باز آئے، اور نہ میں ان کی دانشورانہ تقریروں سے حکمت کے موتی چننے سے باز آیا۔ نتیجہ عین ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق نکلا۔ سیاست کے بیش بہا موتی چنتے چنتے آدھی پاگل ہو جانے والی قوم کو پاگل خانے بھیجنا امکان سے باہر تھا۔ جیلوں کی طرح پاکستانی پاگل خانے بھی پاگلوں سے بھر چکے ہیں۔ کئی ایک مثالیں ہیں۔ ایک پاگل خانے میں دس پاگلوں کی گنجائش تھی۔ وہاں ایک ہزار پاگل پڑے ہوئے ہیں۔ دھکم پیل میں مجھے بھی کئی ایک چھوٹے بڑے پاگل خانوں کی سیر کرائی گئی۔ مجھے کہیں بھی جگہ نہیں ملی۔ تشخیص کے دوسرے مرحلے میں مجھے دل کے امراض ماہر ڈاکٹروں کے حوالے کر دیاگیا۔ میرے ظاہری اور باطنی وجود کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا، بہت بوجھ ڈال رکھا ہے تم نے دلِ ناتواں پر۔ دل کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے تم نے ۔بہت ہوچکا ۔ باقی ماندہ زندگی تمہیں بھاگتے دوڑتے ہوئے گزارنی پڑے گی۔ تب سے میں نے بھاگتے دوڑتے اپنی قیمتی اور نایاب زندگی گزارنی شروع کر دی تھی۔ میری زندگی کو چار چاند لگنا شروع ہوگئے تھے۔ پیاسے کو پانی پلانے کے لئے میں دوڑتے ہوئے جاتا اور گلاس میں صاف ستھرا پانی بھر کر دوڑتے ہوئے آتا اور پیاسے کو پانی پلاتا۔ میرا یہ عمل دیکھنے والوں کو بہت پسند آتا۔ میری واہ واہ ہو جاتی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ مجھے درویش سمجھنے لگے، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ میں درویش وغیرہ نہیں تھا۔ میں تو ڈاکٹروں کی ہدایات اور مشوروں پر عمل کر رہا تھا۔ میں درویش وغیرہ نہیں تھا۔ میں پیدائشی جھوٹا تھا۔ اور مرتے دم تک جھوٹ بولتا رہونگا۔ میں ڈاکٹروں کی نصیحت پر اسلئے بھی عمل کررہا تھا تاکہ کچھ عرصہ مزید زندہ رہ سکوں اور اس ملک میں جھوٹ کا بول بالا کرتا رہوں۔ ڈاکٹروں نے وضاحت کیساتھ کہہ دیا تھا کہ میں جب تک بھاگتا دوڑتا رہوں گا تب تک زندہ رہونگا۔ زندہ رہنے کا مزہ خود بھی چکھوں گا اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا مزہ چکھائوں گا۔اسلام آباد میں بھاگنے دوڑنے کیلئے مجھے سب سے اچھی جگہ مارگلہ کی پہاڑیاں لگتی تھیں۔ میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر دوڑتا رہتا تھا۔ وہاں پر میری طرح کے بہت سے لوگ مجھے بھاگتے دوڑتے دکھائی دیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک ادھیڑ عمر کے لحیم شحیم شخص نے دوڑتے ہوئے مجھ سے پوچھا تھا کیا تم کسی کے پیچھے لگے ہوئے ہو، یا کوئی تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے کہ سر پٹ دوڑ رہے ہو؟ دوڑتے ہوئے میں نے جواب دیا تھا نہ میرے پیچھے کوئی لگا ہوا ہے، اور نہ میںکسی کے پیچھے لگا ہوا ہوں ڈاکٹروں کے احکامات کی بجا آوری کرنے کیلئے میں دوڑ رہا ہوں۔لحیم شحیم شخص نے پوچھا کیا کہا ہے ڈاکٹروں نے تم سے؟میں نے کہا ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جب تک دوڑتے رہو گے زندہ رہونگے۔ دوڑنا چھوڑ دو گے، فوراً مر جائو گے۔بعد لحیم شحیم شخص بہت دیر تک کھلکھلاتا رہا اور میرے قریب دوڑتا رہا۔ مجھے تعجب ہوا۔ سچ جانئے تو مجھے لحیم شحیم شخص کا اس طرح ہنسنا اچھا نہیں لگا۔ وہ مجھے بیہودہ شخص سجھائی دیا۔ میں نے پوچھا تم ڈاکٹروں کے باوا آدم ہو؟وہ اور زور شور سے ہنسنے لگا۔ ہنستے ہنستے اس نے کہا، میرے پاس وہ چیز ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے۔میں نے اسے ڈانٹتے ہو ا کہا دیکھو، تم بندے کے بندے رہو، افلاطون بننے کی کوشش مت کرو۔ قدرت نے تمام بندوں کو ایک مٹی سے بنایا ہے۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ میرے پاس ہے۔ تم اگر کسی کھوسٹ سیا ستدان کو ووٹ دے سکتے ہو، تو میں بھی کسی سڑیل بونگے سیاستدان سردار اور اس کی اولاد کو ووٹ دے سکتا ہوں۔ ایسی کونسی چیز ہے جوتمہارے پاس ہے اور میرے پاس نہیں ہے؟فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے لحیم شحیم شخص نے کہا میرے پاس کامن سنس (Common Scnse) ہے۔ تمہارے پاس کامن سنس نہیں ہے۔مجھے غصہ آیا تھا۔ دوڑتے ہوئے اور دانت پیستے ہوئے میں نے کہا تھا دیکھو تم پھر افلاطون بننے کی کوشش کر رہے ہو۔ تم مجھے اپنے جیسے احمق لگتے ہو۔اچانک لحیم شحیم شخص دوڑتے دوڑتے رک گیا۔ میں بھی دوڑتے دوڑتے رک گیا۔ میں نے لحیم شحیم شخص کی طرف دیکھا۔ لحیم شحیم شخص نے کہا تم دوڑتے رہو۔ بیٹھے رہو۔ سوتے رہے۔ روتے رہو۔ ہنستے رہو۔بہرحال ایک دن تمہیں مرنا ہے۔ میں دنگ رہ گیا۔ لحیم شحیم شخص نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔ اب میں نوے برس کی عمر کی دہلیزپر کھڑا ہوں۔ نہ چل سکتا ہوں نہ دوڑسکتا ہوں، نہ روسکتا ہوں، اور نہ ہنس سکتا ہوں۔ مگر زندہ ہوں۔ کسی کھڑوس سردارکو ووٹ دے سکتا ہوں۔