• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو مجھ جیسے کرکٹ کے جنونی کیلئے یہی بات کافی ہے کہ پاکستان میں برسوں بعد چمپئنز ٹرافی ہو رہی ہے اور زیادہ خوشی ہوتی اگر اس کی ابتدا ہماری ٹیم کی جیت سے ہوتی بہت سوں کیلئے تو بھارت سے جیتنا ٹرافی جیتنے کے برابر ہے مگر ظاہر ہے یہ جذباتی پن دونوں ملکوں میں پایا جاتا ہے، یقین جانیں اگر ہم نے 1992 کا ورلڈ کپ نہیں جیتا ہوتا تو یہی قوم عمران خان اور دیگر کرکٹرز کے گھروں پر پتھراؤ کر رہی ہوتی خیر اس چمپئنز ٹرافی میں ہماری ’بیڈ لک‘ تو اسی دن شروع ہوگئی تھی جب اس فارمیٹ کا سب سے ہونہار کرکٹر صائم ایوب ایک دو ماہ پہلے زخمی ہوکر اپنی جگہ نہ بنا سکا۔ اس کو ٹیسٹ میں کھیلانے کی کیا ضرورت تھی اس بحث کو رہنے دیں۔ سوال ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں آہی گئی اگر نہیں آئی تو بھارتی ٹیم، اس کے باوجود کہ ہر بھارتی کرکٹر کی خواہش تھی کہ وہ یہاں آتا۔ ظاہر ہے نہ آنے کی بڑی وجہ ’سیاسی‘ ہے ’سیکورٹی‘ نہیں اور اسی لیے کسی اور نے نہیں خود سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی نے کہا تھا۔ ’’کرکٹ اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے‘‘۔

آئیں اس حوالے سے آپ کو ایک دلچسپ واقعہ سناتا ہوں یہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا دوسرا دور تھا، پاکستان کی ٹیم کو بھارت کا دورہ کرنا تھا مگر وہاں کی انتہا پسند تنظیم نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کی ٹیم کو بھارت میں قدم نہیں رکھنے دے گی اور ثبوت کے طور پر انہوں نے دہلی کی وکٹ کو بھی نقصان پہنچایا جس سے ظاہر ہے دورہ کھٹائی میں پڑگیا۔ میں ان دنوں بین الاقوامی نیوز ایجنسی اے ایف پی میں کام کرتا تھا۔ ایک دن میں نے وزیر کھیل مشاہد حسین سید صاحب کو فون کیا اور پوچھا، ’’مشاہد صاحب، سادہ سا سوال ہے ٹیم جا رہی ہے یا نہیں۔ وہ کچھ لمحہ کیلئے خاموش ہوئے اور پھر بولے ’’جا رہی ہے‘‘ میرے لیے یہ خبر اس تناظر میں بہت بڑی تھی۔ انہی دنوں عمران جو سیاست میں آگئے تھے کراچی میں تھے میں نے فوراً عمران کا ردعمل لیا انہوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ پھر خبر چلا دی جو دنیائے کرکٹ کی بڑی خبر بن گئی اور تھوڑی دیر میں واجپائی صاحب کا جو اس وقت وزیر اعظم تھے، مثبت ردعمل سامنے آگیا جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ دلچسپ بات بعد میں مشاہد صاحب نے یہ بتائی کہ جب میرا فون گیا تو اس وقت تک فیصلہ نہیں ہوا تھا اور جب وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو میاں صاحب نے پنجابی میں پوچھا بقول مشاہد صاحب، ’’میں تھوڑی بہت میاں صاحب کی نفسیات کو سمجھتا تھا تو میں نے جواب دیا، ’’میاں صاحب ٹیم کو جانے دیں کچھ نہیں ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوا اور بھارت میں کرکٹ شائقین نے شاندار استقبال کیا۔‘‘ مگر جس شیوسینا نے دھمکی دی تھی آج عملاً وہ برسر اقتدار ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو پتا ہے کہ ’کرکٹ جوڑنے کا، عوام کو قریب لانے کا کام کرتی ہے، لہٰذا نہ سیکورٹی خدشات کا معاملہ ہے نہ بھارتی ٹیم کو کوئی خطرہ۔ یہ بی جے پی کا سیاسی فیصلہ ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک کبھی بھارت کی ٹیم کے ساتھ یہاں کوئی نا خوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ البتہ سری لنکا کی ٹیم کے ساتھ غالباً 2009 میں ایک افسوسناک واقعہ لاہور میں ٹیسٹ میچ کے دوران ہوا تھا جو ہماری انٹلیجنس ناکامی تھی۔

دہشت گردی کے اس واقعہ نے گہرے اثرات چھوڑے اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کر دئیے گئے وہ بڑا مشکل وقت تھا اور اپنے دفاع کیلئے ہم دنیا کو یقین بھی نہ دلا پا رہے تھے۔ تاہم اس مشکل صورتحال میں خود سری لنکا نے ہمارے دفاع میں موقف اپنایا اور بعد میں اپنی ٹیم بھی بھیجی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اور کھلاڑیوں نے ساتھ دیا اور پھر آہستہ آہستہ ٹیموں نے آنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی نے بھی اہم کردار ادا کیا جب پاکستان نے پی ایس ایل کے ذریعے آئی پی ایل کے مقابلے میں اپنا برینڈ متعارف کرایا اور یوں بین الاقوامی کرکٹ پاکستان واپس آئی۔ ویسے بھی ہمارے یہاں خوشیوں کے بہت زیادہ مواقع نہیں آتے بس اللہ کرے یہ ٹورنامنٹ بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے اختتام پذیر ہو۔

اب اس ضمن میں کیا کروں کہ ہمارے یہاں وزارت داخلہ کرکٹ چلا رہی ہے اور اب تو وہ میڈیا کے معاملات میں بھی عملی طور پر متحرک ہے جس کی ایک مثال پیکا ہے جس کے بعد اب کنٹرول FIA کے پاس آگیا ہے۔ بھارت میں پاکستان کے حوالے سے کرکٹ اور سیاست میں ایک ہی فیصلہ ہے کہ وہاں نہیں جانا مگر وہ اپنی ٹیم کی تشکیل میں رد و بدل یا تبدیلی نہیں کرتے جبکہ ہمارے یہاں معاملہ دوسرا ہے۔ کرکٹ میں اتنی سیاسی مداخلت ہوئی ہے، بورڈ میں تبدیلی سے لے کر ٹیم میں تبدیلی تک جو ہوا وہ تو ہونا ہی تھا۔ بس اس وقت سے ڈریں جب کوئی وزیر یا مشیر خود ٹیم میں شامل نہ ہو جائے۔ اب فہیم اشرف کس کی ’پرچی‘ پر ٹیم کا حصہ بنے ہیں، وہاب ریاض پنجاب میں کس کے قریب رہے۔ اور تو اور ہمارے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وزیر داخلہ بھی ہیں۔ جہاں دہشت گردی کی صورتحال کے پی سے لے کر پارا چنار اور بلوچستان تک اتنی سنگین ہو وہاں بہتر ہوتا کرکٹ بورڈ کا چیئرمین کوئی پروفیشل ہوتا۔ ہماری ایک اور بدقسمتی یہ بھی ہے کہ نہ جیت ہضم ہوتی ہے نہ شکست برداشت۔ 2017میں بھارت کو فائنل میں شکست دی تو سال بھر جشن مناتے رہے۔ 1992میں ورلڈ کپ جیتے تو غیر سیاسی ذہنوں نے کپتان کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کر لیا سیاست میں پی پی پی کو ختم کرنا تھا تو پروجیکٹ ’شریف‘ لانچ کر دیا۔ نتیجہ سامنے ہے نہ ہم کرکٹ میں بڑی کامیابی حاصل کر پا رہے ہیں نہ ہی سیاست میں آگے بڑھ پا رہے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں اور پھر دیکھتے ہیں نتائج کیا نکلتے ہیں۔

تازہ ترین