متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی کے 25 ٹاؤنز نے ریٹائر ملازمین کو اون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بہادر آباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ استحصال ہوتا ہے، وفاقی حکومت کا بھی قصور ہے۔
فاروق ستار کا کہنا ہے کہ 2016ء کے بعد ایم کیو ایم سے بلدیاتی اداروں کی ذمے داری جاگیرداروں کو دے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 سال کی بدترین بدعنوان ترین حکمرانی ہے، ایک وائٹ پیپر کی تیاری ہے، رمضان کے بعد وائٹ پیپر شائع کریں گے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے ریٹائر ملازمین کے واجبات 2017ء کے بعد سے ادا نہیں ہوئے، 18ویں ترمیم کے بعد کے ایم سی کے واجبات کی ادائیگی صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ان شہری اداروں کے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں؟ ہمارا کوٹہ بوگس ڈومیسائل والوں کو دیا جا رہا ہے، اگر ریٹائرمنٹ فنڈ کے پیسے آپ کھا گئے ہیں تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ سندھ کے دیگر اضلاع کے لوگوں کو ڈومیسائل پر کراچی میں نوکریاں مل رہی ہیں، وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ذمےداری ہے کہ یکساں قانون ہو۔