اقتدار قائم ہوتا ہے اور پھر کسی نہ کسی روز ماضی میں منتقل ہو جاتا ہے۔ مگر سیاسی جماعت کی مقبولیت یا پاکستان کے سیاسی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یوں کہہ لیجئے کہ سیاسی رہنما کی مقبولیت کا ماضی ہونا کوئی امر لازم نہیں ہے۔ بلکہ سیاسی رہنما کی مقبولیت در حقیقت اس کے اپنے دور میں کئے گئے اقدامات کی بدولت زندہ رہتی ہے اور اسکی کامیابی صرف اس میں نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مخالفين کے ساتھ کس حد تک بد زبانی کر سکتا ہے یا آج کل سوشل میڈیا پر کروا سکتا ہے۔ بد زبانی کی بنیاد پر حاصل کی گئی حمایت پانی کے بلبلے کی مانند ہوتی ہے کہ کسی وقت بھی وقت ِآخر کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اس لئے حکمران اور اس کی منتخب کردہ ٹیم کی حقیقی معنوں میں یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو عوام کے سامنے پیش کرے اور نا صرف یہ کے انکی افادیت بیان کرے بلکہ ان کی افادیت پر عوام کو قائل بھی کر لے۔ جب حال ہی میں وفاقی کابینہ میں نئے اراکین کو شامل کیا گیا تو یہ انتخاب اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ مسلم لیگ ن اپنے سیاسی ہاتھ پاؤں مضبوط کر رہی ہے اور ان افراد کو حکومتی چہرہ بنایا جا رہا ہے کہ جن کے متعلق مسلم لیگ ن کے حلقوں میں پسندیدگی کے جذبات ہیں کیوں کہ وہ ان کو صرف دوران اقتدار میں ہی نہیں بلکہ تکالیف کے زمانے میں بھی ساتھ کھڑا دیکھتے آئے ہیں۔ عطاء تارڑ مسلم لیگ ن اور حکومت کا پیغام پہنچانے کیلئے بہت محنت میں جتا ہوا ہے اور اب نئے اراکین میں سے کچھ ایسے چہرے ہیں کہ جو اس پیغام کو پہنچانے میں مزید متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری پرویز مشرف کی آمریت کے دور میں ایک ایسی آواز تھے جو اسلام آباد میں جمہوریت کیلئے ہر تکلیف سے ٹکرانے کیلئے تیار رہتی تھی۔ اقبال جھگڑا، سینیٹر مشاہد اللہ خان مرحوم اور میں اکثر اس مسلم لیگ ن کے دفتر میں ہی ملاقات کیا کرتے تھے جو ڈاکٹر طارق فضل نے ان پر آشوب حالات میں مسلم لیگ ن کو دیا ہوا تھا۔ وہ نہ صرف اسلام آباد کے مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں ایک محبت آمیز نام ہے بلکہ سارے پاکستان میں جہاں کہیں بھی مسلم لیگ ن کے کارکنان موجود ہیں وہ ان سے شناسا ہیں۔ اس وجہ سے ان کی وفاقی کابینہ میں شمولیت سے حکومت کو تو جو فائدہ ہوگا سو ہوگا مگر مسلم لیگ ن کےکا رکنان کو بھی بہت تقویت نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ افسر شاہی سے زیادہ سے زیادہ بہتر کام لینے کیلئے کوئی افسر شاہی کو سمجھنے والا شخص موجود ہونا چاہئے اور اس موجودگی کا مطلب افسر شاہی کی تذلیل نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں سے ممکنہ حد تک فائدہ اٹھانا مقصود ہو۔ یہ شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ بننے کے چند روز بعد کی بات ہے کہ میں، سعید مہدی اور حاجی شکیل کے ہمراہ رائے ونڈ میں قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے ہمراہ تھا تو شہباز شریف ڈاکٹر توقیر شاہ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں نواز شریف سے پہلی بار ملاقات کروانے لائے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر توقیر شاہ کو اپنا پرنسپل سیکرٹری جس کو سیکرٹریوں کا پرنسپل کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا،مقرر کیا تھا۔ ڈاکٹر توقیر شاہ جب تک پنجاب میں اس منصب پر فائز رہے انہوں نے افسر شاہی کو مکمل طور پر مستعد رکھا اور اسکے ساتھ ساتھ سیاسی افراد کو بھی یہ احساس بھرپور پر کرائے رکھا کہ یہ ایک سیاسی حکومت ہے۔ پھر جب انکو جنیوا میں ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا تو اس وقت انہوں نے اپنی صلاحیت سے پاکستان کیلئے کاروباری حوالے سے بھی بہت کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کی وفاقی کابینہ میں موجودگی سے امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ افسر شاہی کی استعداد کار میں بہت بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ کھیل داس کوہستانی سے میری پہلی ملاقات 2013 میں ہوئی، لاہور میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹس تقسیم ہو رہے تھے اور وہ اسی سلسلے میں لاہور آئے ہوئے تھے۔ اس بار ان کو ٹکٹ تو نہ مل سکا مگر جن لوگوں کی کمٹمنٹ ہوتی ہے ان کو اس سے سرو کار نہیں ہوتا ہے کہ انکو کوئی عہدہ ملا یا نہیں اور کھیل داس کوہستانی بھی اسی اصول پر کاربند رہے اور مسلم لیگ ن کیلئے ایک چہرہ بنتے چلے گئے۔ مجھے ان سے بہت امید ہے کہ وہ پاکستان میں غیر مسلموں کیلئے ویسے حالات قائم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے کہ جیسے حالات کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا۔ شہباز شریف جلا وطنی کاٹنے کے بعد جب وطن لوٹے تو ان کا قیام حمزہ شہباز کی ڈیفنس والی رہائش گاہ پر تھا۔
میں ان سے ملاقات کی غرض سے پہنچا تو وہاں پر میری پہلی بار ملاقات طلحہ برکی سے ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ طلحہ برکی حقیقی معنوں میں ایک ایسا نمائندہ ہے کہ جو کارکن کے طور پر متحرک ہوا اور آج وفاقی کابینہ کا رکن ہے۔ اس دوران مسلم لیگ ن پر خاص طور پر گزشتہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں بہت پر آشوب دور قائم کر دیا گیا تھا اور ایسے دور میں ہی وفاداری کا پتا چلتا ہے اور اس وفاداری کے امتحان میں طلحہ برکی کامیاب رہا۔ ایک اور معاملہ کا ذکر پر گفتگو تمام کروں گا اور یہ واضح رہے کہ میں کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہا ہوں مگر ہم نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی دیکھا کہ ایک لاہور کے اور دو کراچی کے ایسے صاحبان مسلم لیگ ن کے خلاف گفتگو کرتے ہر وقت نظر آتے ہیں کہ جن کو مسلم لیگ ن نے ہی عہدے دیے تھے اور وہ شامل بھی اچھے وقت میں ہوئے تھے مگر اب جب کسی وجہ سے وہ عہدے لینے میں کامیاب نہیں ہوئے تو مخالفت پر کمر کس لی ہے۔ دعا ہے کہ اس کابینہ سے بعد میں کوئی ایسا نہ بنے۔