پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر واقع کپڑوں کی دکان پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے۔
لکی مروت میں پولیس وین کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار دکان پر دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔
واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں گھریلو ناچاقی کے باعث دو مختلف واقعات میں خواتین کے قتل کے الزام میں اِن کے شوہروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئر لائنز کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک میں آن لائن ادویات کی غیرقانونی تشہیر اور فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے متعدد ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کو بلاک کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم رہنے کا امکان ہے۔
واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 مسافر زخمی ہو گئے جبکہ ملزمان فرار ہو گئے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پاک فوج، رینجرز، اسلام آباد اور پنجاب پولیس تعینات، اسلام آباد میں ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کردیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر سارنگ رکشے میں اہلیہ کے ساتھ جا رہے تھے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا رات گئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ، جون تک جاری تمام جاری ترقیاتی کاموں کو مکمل کرنے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
کابینہ ڈویژن نے ریڈ زون میں واقع تمام وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی اداروں سے متعلق اہم نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت میں 21 اپریل کو عدالتی کام معطل رہے گا۔ وفاقی آئینی عدالت کے اعلامیہ کے مطابق ریڈ زون کی بندش کے باعث اسلام آباد میں سماعتیں نہیں ہوں گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کردی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پہلی باراسمبلی احاطے سے باہر بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس 22 اپریل کو سہ پہر3 بجے پشاور کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا۔
سفارتی اور دفاعی ماہرین نے ہرمز کی ناکا بندی کے خاتمے کے بغیر مذاکرات کو مشکل قرار دیدیا۔
بہاول وکٹوریہ اسپتال کےڈاکٹر فرخ زیدی کےمطابق، 4 سالہ علیشا اور 6 سالہ احتشام پہلے ہی دم توڑ چکے تھے، جبکہ ان کا 40 سالہ والد انوار الحق دورانِ علاج اسپتال میں چل بسا۔