• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدقسمتی سے آج کے دَور میں تعلیم محض حصولِ معاش کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ اب طلبہ درسی نصاب پڑھنے سے قبل مستقبل میں اس کے معاشی فوائد سے متعلق سوالات کرتے ہیں اور عموماً تاریخ کا مضمون طلبہ کے اِس معیار پر پورا نہیں اُترتا۔

حالاں کہ اہلِ علم کے نزدیک تاریخ، حصولِ علم و دانش کے علاوہ انسانوں کے لیے غورو فکر کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے کہ اس کا مطالعہ انسان کو سچ، جھوٹ اور اچھے، بُرے میں تمیز سِکھاتا ہے۔پھر یہ کہ اپنی تاریخ سے ناواقف قومیں درحقیقت خلا میں معلّق کسی بے جان جسم کی طرح ہیں، جن کا کوئی ماضی ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل۔

ہماری دوسری مشکل یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کا مطالعہ محض امتحانات کی تیاری ہی کے لیے کیا جاتا ہے۔وہ دَور اب گزر چُکا، جب تحریکِ پاکستان میں حصّہ لینے والے بزرگ، بچّوں کو یہ قصّہ آنکھوں دیکھے حال کی صُورت بتایا کرتے تھے اور ریڈیو، ٹیلی ویژن بھی خاص خاص مواقع پر اسے دُہراتے رہتے تھے۔

تاریخ سے دُوری نے ہمارے ذہنوں پر بہت سے منفی اثرات بھی مرتّب کیے ہیں۔اِسی پس منظر میں آج موقع ہے کہ ہم تحریکِ پاکستان کی اساس،یعنی دو قومی نظریے پر بات کریں، جسے معاشرے کے کچھ نام نہاد افراد ایک’’ ناکام نظریہ‘‘ قرار دینے کے درپے ہیں۔

’’قوم‘‘ سے مُراد لوگوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے، جن کی زبان، تاریخ، ثقافت اور رسومات یک ساں ہوں۔ قوم کی اِس تعریف کی بنیاد پر دیکھا جائے، تو ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، کیوں کہ ان کی تاریخ، ثقافت اور رسومات ایک دوسرے سے یک سَر مختلف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قائدِ اعظم، محمّد علی جناح نے کئی بار واضح طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو الگ الگ قومیں قرار دے کر دو قومی نظریے کی تائید کی۔ 

تاریخ کے طلبہ کے ذہن میں یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو قومی نظریہ برّ ِعظیم میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کے دَوران کہاں تھا، تو اس کے کئی جوابات ممکن ہیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمانوں نے اپنے دَور میں غیر مسلم رعایا کے حقوق کا پورا خیال رکھا اور اُنھیں کسی قسم کے احساسِ محرومی کا شکار نہ ہونے دیا،جس کی مثال راجا بیربل، کوٹ بھاٹ اور ادھے شیری جیسے اہم درباری ہیں، جو مسلمان بادشاہوں کے قریب تھے۔

ایک اندازے کے مطابق مغل دورِ حکومت میں ہندو درباری امراء کی تعداد31 فی صد سے زاید تھی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ برّعظیم میں مسلمان حُکم رانوں کے علاوہ بہت سے ایسے آزاد علاقے بھی تھے، جہاں ہندوؤں کی حکومت تھی، جو اُنھیں احساسِ محرومی سے بچائے رکھتی تھی۔

مگر دو قومی نظریے کی ابتدا کی کھوج لگائی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں کی خوشامد میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو خُود سے کم تر ثابت کرنے کے لیے اپنی قومیت کو کچھ ایسا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ قائدِ اعظم اور علّامہ اقبال جیسے رہنما بھی، جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ہندوستانی قوم پرست رہنماؤں کے طور پر کیا تھا، دو قومی نظریے کی طرف مائل ہو گئے۔

جنگِ آزادی 1857ء کے بعد جن مسلمان اکابرین نے قوم کی اصلاح کا بیڑہ اُٹھایا، اُن کے سرخیل سَر سیّد احمد خان تھے، جنھیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ جنگِ آزادی کے بعد جب انگریزوں نے اسے بغاوت کا نام دے کر ساری ذمّے داری مسلمانوں پر ڈالنا چاہی، تو ہندوؤں نے انگریزوں کی اِس مہم میں اُن کا پورا ساتھ دیا اور خُود کو اس بغاوت سے الگ کر کے مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کے اس محاذ میں شامل ہوگئے۔

انگریزوں ہی کی ہلا شیری پر اپنی سیاسی جماعت’’انڈین نیشنل کانگریس‘‘ کی بنیاد رکھی، جسے برطانوی حکومت نے ہندوستانیوں کی ترجمان جماعت سمجھنا شروع کردیا۔ سر سیّد احمد خان اِن حالات کا مسلسل جائزہ لے رہے تھے اور اُن کی رہبرانہ بصیرت نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ ہندو سیاست میں آنے کے بعد، اکثریت میں ہونے کے سبب برطانوی حکومت کے قریب ہوجائیں گے اور مسلمان اقلیتی بنیادوں پر سیاست میں بہت پیچھے رہ جائیں گے اور اپنے اِسی مشاہدے کی بنیاد پر اُنھوں نے مسلمانوں کو کانگریس سے الگ رہ کر اپنی ایک علیٰحدہ شناخت بنانے کا نہ صرف مشورہ دیا، بلکہ تعلیمی اور سیاسی تحریکوں کے ذریعے اس پر عمل بھی شروع کر دیا۔ سرسیّد کے ان ہی خیالات نے دو قومی نظریے کی راہ ہم وار کی۔

اِس نظریے کی ترویج میں دوسری اہم منزل مسلمانوں کی اپنی سیاسی جماعت’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کا قیام تھا، جہاں سے مسلمانانِ ہند نے کانگریس سے الگ ہو کر آزادی کے سفر کا آغاز کیا۔ مسلم لیگ کے قیام کی ایک بڑی وجہ شملہ وفد کی کام یابی تھی، جو سر آغا خان سوئم کی قیادت میں برّعظیم کے مسلمانوں کے مسائل اور اُن کے حل کی تجاویز لے کر وائسرائے ہند سے ملا اور اِس وفد کو خاطر خواہ پذیرائی بھی ملی۔ 

برطانوی حکومت کو مسلمانوں کی الگ حیثیت کا ادراک ہوا اور ان کے مطالبات تسلیم بھی کیے گئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود، مسلمان اکابرین ابھی تک اپنے حقوق کی جنگ میں برطانوی سام راج کے خلاف ہندو، مسلم اتحاد کے قائل ہونے کے ساتھ، مسلم لیگ اور کانگریس کے سیاسی اتحاد کے پُرجوش حامی تھے۔1909ء سے1935ء تک برطانوی حکومت نے ہندوستان کی حکومت چلانے کے لیے تین ایکٹ پاس کیے اور ہر ایکٹ بنانے سے قبل ہندوستانی سیاسی رہنماوں سے تجاویز مانگی جاتی تھیں۔

ہندو لیڈر، بشمول گاندھی، عوامی جلسوں میں تو مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ کرتے، مگر حکومت کو تجاویز دیتے وقت اُن کی ہندو ذہنیت حاوی ہو جاتی اور وہ مسلم اقلیت کے حقوق کا تذکرہ تک کرنا بھول جاتے۔اس کے برعکس، اِن ایکٹس کی تیاری کے دَوران قائدِ اعظم نے نہ صرف مسلمانوں کے حقوق پر پہرا دیا، بلکہ اکثریتی طبقے کی بھی رہنمائی کی۔

1935 ء کے ایکٹ کے تحت جب1937ء میں11صوبوں میں عام انتخابات ہوئے، تو کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوئی اور اُس نے سات صوبوں میں اکیلے حکومت بنائی۔کانگریس کا یہ دورِ حکومت برطانوی سام راج کے خلاف ہندو، مسلم اتحاد کے حامی رہنماوں کے لیے ایک بھیانک خواب اور دو قومی نظریے کی ترویج کا سب سے بڑا سبب بن کر سامنے آیا۔

برّعظیم میں مسلمانوں کی حکومت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ہندوؤں کو اقتدار ملا اور اس موقعے پر اُنھوں نے اپنی روایتی تنگ نظری اور انتہا پرستی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ کانگریس کی مسلم مخالف پالیسیز میں’’بندے ماترم‘‘ ترانے کو سرکاری حیثیت دینا، گائے کا ذبیحہ ممنوع قرار دینا، مساجد کی بے حرمتی کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کو مذہب کی تبدیلی پر مجبور کرنا جیسے اقدامات اِس جماعت کے چہرے سے مسلم دوستی کا نام نہاد نقاب اُتارنے کو کافی تھے۔

گویا، یہ اِس امر کی ایک چھوٹی سی جھلک تھی کہ اگر انگریزوں کے جانے کے بعد اکثریتی بنیادوں پر حکومت ہندوؤں کو مل گئی، تو وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ کانگریس کی یہ حکومت سر سیّد جیسے رہنماؤں کے شکوک و شبہات کو بھی سچ ثابت کر رہی تھی، جسے اُس دَور کے مسلمان کُھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اب اِس کے سِوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مسلمان خود کو ہندوؤں سے الگ کر کے صرف اپنے بہتر مستقبل کی فکر کریں۔

مسلم لیگ نے قائدِ اعظم کی قیادت میں اِس موقعے سے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور کانگریس کی سیاست سے بددِل مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع کیا اور محض تین سال بعد 23مارچ1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے دَوران مسلمانوں کے لیے ایک الگ مُلک کے قیام کی قرارداد منظور کی۔

ہندو اور برطانوی پریس اِس مطالبے سے اِتنا گھبرائے کہ خُود ہی اسے’’قرار دادِ پاکستان‘‘ کا نام دے دیا۔ اِس قرارداد کی منظوری کے بعد مسلمانوں کی منزل بالکل واضح تھی اور اِن مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی جنگ کرنے والے رہنما بھی ہندوستانی قومیت سے مایوس ہو کر دو قومی نظریے کے پوری طرح قائل ہو چُکے تھے۔

1857ء اور1940ء کے عرصے کے دَوران وقوع پذیر ہونے والے تاریخی واقعات کے اِس مختصر سے جائزے سے ہمیں تحریکِ پاکستان کی اساس، دو قومی نظریے کے ارتقا اور اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔اب ایک اور سوال، جس کا جواب انتہائی ضروری ہے، وہ یہ کہ کیا 1971ء میں بنگلا دیش کا بننا دو قومی نظریے کی ناکامی ہے۔

جواب واضح ہے کہ ایسا کہنا ہرگز درست نہیں۔ اگر بنگلا دیش کا قیام دو قومی نظریے کی ناکامی ہوتا، تو آج وہ ایک آزاد اسلامی مُلک نہ ہوتا، بلکہ کسی اور مُلک کا حصّہ ہوتا۔ دو قومی نظریہ آج بھی اُسی طرح اہم ہے، جس طرح ایک سوسال پہلے تھا۔