• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افطار کا اپنے گھر پر اہتمام کیا ، وفاقی کابینہ کے رکن طلحہ برکی ،سلیم بخاری ،بیدار بٹ ،سینئر بیوروکرٹ محسن عباس، پرویز بشیر ،خالد فاروقی ،اعجاز نقوی، گوہر بٹ ،امجد شیرازی ایڈووکیٹ، قونصل جنرل ترکی درمس بستاگ، قونصل جنرل ایران مہر مواحد فار، ڈپٹی قونصل جنرل چین مسٹر کاؤ، پولیٹکل افسر چین مسٹر فین، پولیٹکل افسر جاپان موچی زوکی، ڈی جی خانہ فرہنگ ایران مسعودی، کلچرل قونصلر فرانس مسٹر فیبرک، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد، ملک ریاض رکن پنجاب اسمبلی ، ڈاکٹر امجد مگسی صدر پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن پنجاب یونیورسٹی کچھ دانش ور حضرات نے شرکت کی۔ برٹش ہائی کمیشن کے مسٹر بین وارنگٹن کچھ دیر سے پہنچ سکے تو وہ اجتماعی گفتگو کا حصہ نہ بن سکے۔ حالیہ ٹرین ہائی جیکنگ کا واقعہ ایساہے کہ جس سے ہر انسانیت دوست شخص سکتے کی کیفیت میں آ گیا ہے۔ اس افطار میں موجود کچھ دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کی، اس واقعہ سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے جذبات کو شدید زک پہنچائی جائے جب کہ ریاست کو احساس دلایا جائے کہ جیسے وہ غیر فعال ہو چکی ہے۔ آخر عوام اور حکومت کو اس ذہنی کیفیت میں لانے کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں ؟ دہشت گردوں کے سربراہ اور ان کے آقا یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست میں اتنی طاقت موجود ہے کہ وہ سخت ترین کارروائی کرکے اپنی بھرپور طاقت اور مکمل عملداری کا مظاہرہ کر سکتی ہے، کوئی مکمل فوجی آپریشن کر سکتی ہے، جب وہ یہ جانتے ہیں تو حالات کو اس نہج تک کیوں پہنچا دینا چاہتے ہیں اور اسی سوال کا جواب تلاش کرنا چاہئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ دہشت گردوں کے سربراہ اور ان کے بیرونی آقا یہی چاہتے ہو ںکہ باقاعدہ فوجی آپریشن کا اعلان کیا جائے، پھر ظلم و ستم کا ایک جھوٹا بیانیہ تراشا جائےاور اسکے بعد وہ دنیا بھر میں پاکستان کی ریاست اور فوج کو بدنام کرنے کیلئے اسی طرح سے نکل کھڑے ہوں جیسے اندرا گاندھی نے انیس سو اکہتر میں کردار ادا کیا تھا، اب خدا نخواستہ ویسا سانحہ تو ہونے کا کوئی امکان نہیں مگر پاکستان کو بیک فٹ پر دھکیل دینے کیلئے یہ ایک حربہ ضرور ہو سکتا ہے۔ اس لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اب اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلی جائیں، بس دو امور پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہئے، اول تو جو کارروائی ہو اس میں آئین کی عمل داری کا مکمل طور پر بندوبست ہو ، تابع آئین ہو اور کسی بھی ریاستی کارروائی کی سربراہی صوبائی حکومت کے پاس ہو اور یہ حقیقی معنوں میں ہو نا کہ صرف زبانی کلامی۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب سے پاکستان نے اپنے تزویراتی امور کے ساتھ ساتھ چین سے معاشی شراکت داری قائم کی ہے اس وقت سے ان علاقوں میں امن و امان کے حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔ اب جب چین آٹھ میں سے دوسری جدید سب میرین پاکستان کے حوالے کرے گا، ان آٹھ میں سے چار چین میں تیار ہونگی اور چار ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اظہار کے طور پر پاکستان میں تیار کی جائینگی ، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں اس تمام کے غیر معمولی اثرات مرتب ہونگے۔ پاکستان ویسے ہی گزشتہ پانچ سال میں اپنی فوجی ضروریات کا اکیاسی فیصد سامان چین سے خرید رہا ہے تو ایسی صورتحال میں اس بڑھتی ہوئی دوستی کو زک پہنچانے کیلئے حقوق یا کسی بھی نام پر دہشت گردی کا سہارا بھی ضرور لیا جائے گا اور پاکستان سے کوئی اسٹرٹیجک طور پر نا درست قدم اٹھانے کے حالات پیدا کئے جائیں گے اب یہ فیصلہ سازوں کا کام ہے کہ وہ کتنی باریک بینی اور معاملہ فہمی سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ کی جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مريم نواز کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا۔ بظاہر معاملہ چھوٹا ہے مگر جس پر گزر رہی ہے اس کیلئے کل کائنات ہے۔ دو چار روز قبل ٹریفک اشارے پر رکا، اخبار میں چھپی تصویر کی بدولت لوگ چہرہ شناس ہو جاتے ہیں۔ ایک پھل فروش غور سے دیکھ کر پہچان گیا تو بولا آپ میری بات سن لیں گے؟ سائیڈ پر ہو گیا اور بولا جی فرمائیں میرے لہجے میں سوالیہ انداز تھا۔ جناب پھل فروشوں کو نئی ریڑھیاں حکومت پنجاب کی جانب سے مہیا کی جا رہی ہیں، بہت مثبت اقدام ہے مگر بہت سارے کئی مہینوں سے ان نئی ریڑھیوں کے منتظر ہیں، پرانی ریڑھیاں سرکاری لوگ لے جاتے ہیں اور واپسی کیلئے کہتے ہیں کہ اے سی صاحب سے مل لو، ہمیں چپڑاسی نہیں گھاس ڈالتا اے سی سے کس نے ملنے دینا ہے؟ بہت سارے ریڑھی بانوں کے سامنے انکی ریڑھیوں کو توڑ بھی دیتے ہیں، حکومت تک ہماری آواز پہنچا دیںکہ جب تک ہمیں نئی ریڑھیاں مہیا نہیں کردی جاتیں، اس وقت تک پرانی ریڑھیوں کو مت چھیڑيں اور جلد از جلد نئی ریڑھیاں مہیا کردیں کیوں کہ ہم دیہاڑی دار لوگ ہیں اگر ایک دن کی بھی دیہاڑی ٹوٹ جائے تو اس دن کا فاقہ بھی بچوں کا نصیب بن سکتا ہے۔ میں اس کے دکھڑے سن کر واپس آتے ہوئے سوچتا رہا کہ اس معاملہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ذاتی طور پر نوٹس لینا چاہئے اور اس پروجیکٹ میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

تازہ ترین