ہم نے پوری انسانی تاریخ میں، عظمت کی پہچان اور گہرا پنہاں راز عاجزی، انکساری، فروتنی، تواضع اور حلیمی میں پایا ہے۔ انسانی تاریخ میں عظمت کا شاہکار منظر نامہ ہمیں اس وقت نظر آیا ہے جب حالت یتیمی و مسکینی سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والابے سروسامانی میں چھپ چھپا کر رات کی تاریکی میں، اپنے گھر سے نکل جانے والامکی مہاجر، ایک عظیم الشان فاتح اور حکمران کی حیثیت سے دس ہزار جانثار قدسیوں کے ساتھ اپنے اسی شہر میں داخل ہو رہا ہے، جہاں سے ایک دہائی قبل جبر ودھونس کے ساتھ نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا، لیکن حالت یہ ہے کہ اس عظیم فاتح کی گردن اونٹ کے کجاوے تک جھکی ہوئی ہے۔ بدترین دشمن، بلکہ دشمنوں کا سردار بھی اس عظمت کو دیکھ کر پکار اٹھتا ہے کہ ’’یہ کیسی عظیم الشان بادشاہت ہے۔‘‘ مگر لِسان راستباز گویا ہوتی ہے۔ ’’ارے نادان! یہ بادشاہت نہیں نبوت ہے۔‘‘ ظاہر بین نظروں والا چند ہی لمحوں بعد آواز نبوت سن لیتا ہے۔ جب ایک جانثار پکارتا ہے کہ ’’آج تو بدلے لینے کا دن ہے۔‘‘ عظیم الشان فاتح کی نگاہ بلند ہوتی ہے اور حکم رحمت صادر ہوتا ہے کہ پرچم سپاہ اس غیر ذمہ دار جوشیلے جانثار سے واپس لے لیا جائے، پھر باضابطہ طور پر اعلان کروایا جاتا ہے کہ ’’آج تو معاف کر دینے کا دن ہے۔‘‘ یہ کیسی عظمت ہے کہ دکھیوں کے دکھ سن کر جس کی اپنی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔
یہ کیسا مہربان انسان ہے جو بچوں کے ساتھ معصوم سا بچہ اور بوڑھوں کے ساتھ بزرگ بن جاتا ہے۔ یہودی بوڑھا ہے تیز چل نہیں پاتا۔ راہ چلتے تیز قدم آہستہ ہو جاتے ہیں۔ بوڑھے یہودی کو کراس نہیں کرتے۔ یہ کیسی مروت ہے کہ مبادا کہیں بوڑھے یہودی کا دل نہ دکھ جائے کہ میں تو کمزور و لاغر ہوں اور یہ شخص مضبوط و توانا ہے۔ ساتھیوں کو جاتی ہوئی نماز کا خیال ہے اور خوداس شخص کو شرف انسانی اور اکرام انسانی کا احساس و لحاظ۔یہ کیسا بات کا پکا اور قول کا سچا انسان ہے کہ ملک شام میں ایک شخص محض اتنا کہہ جاتا ہے کہ ’’یہیں ٹھہرو میں آ رہا ہوں۔‘‘ اور یہ بھلا مانس تین دن تک خیمے گاڑے وہیں پڑائو کیے رکھتا ہے اور بھول جانے والے کو اتفاقاً آنے پر بھی لعن طعن کرتا ہے نہ ملامت سے شرمندگی دلاتا ہے۔یہ کیسا دوست ہے کہ اپنے جعلی دوستوں کی بے وفائی کو جان لینے کے باوجود Publically انہیں برا بھلا نہیں کہتا کہ لوگ کیا کہیں گے، یہ کہ یہ شخص پہلے ان کا ساتھی تھا اور اب اپنے ساتھ چلنے والوں میں بھی کیڑے نکال رہا ہے۔ جو اپنے مخلص ساتھیوں اور دوستوں سے کہہ رہا ہے۔ ’’دیکھو میرے سامنے کسی کی برائی نہ کیا کرو۔ میں نہیں چاہتا کہ میں جب دنیا سے جائوں تو میرا دل کسی سے کھٹا ہو۔‘‘
یہ شاہکار انسان کسی کی اچھائی کو پرکھنے کیلئے معیار کیسا بتلاتا ہے ’’یہ دیکھو کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کتنا اچھا ہے۔‘‘ اس کی شریک حیات اس کے متعلق کیا کہتی ہے؟، اس سوال کے پوچھے جانے پر کہ آپ کو دنیا کے زندہ و موجود لوگوں میں سب سے پیارا کون ہے؟ بے دھڑک اپنی زوجہ محترمہ کا نام لیتا ہے۔ ’’عائشہؓ‘‘ پوچھنے والا شاید کسی اور کا نام سننا چاہتا ہے سو سوال:دہراتا ہے کہ ’’عائشہ کے بعد کون؟‘‘ جواب ملتا ہے ’’عائشہ کا باپ‘‘ وہ باپ جس کی ابتدائی نیکیوں اور احسانات کو اتنا کچھ خزانہ نبوت سے عطا کرنے کے باوجود وہ آج تک نہیں بھولا۔ ’’اپنے ساتھ اچھائیاں کرنے والوں کو بہتر بدلہ دینے کے لئے میں نے زندگی بھر کاوش کی ہے،لیکن ابوبکرؓ کی نیکیوں کا بدلہ میں پھر بھی نہیں دے سکا۔ اب قیامت کے روز خدا سے کچھ لے کر یہ بدلہ اتاروں گا‘‘۔ اور وہ عظیم خاتون، سیدہ خدیجہؓ، جس نے کسمپرسی کے حالات میں دست تعاون بڑھایا اور ساتھ نبھایا اس کے احسانات کو آپؐ زندگی کی آخری سانسوں تک نہ بھول سکے۔ کسی نے ذکر وفا کیا جب تو زباں پر اسی کا نام آیا۔ اس کی یادوں میں بیٹھتے تو دل بھر آتا۔ بصیرت الٰہی سے دیکھنے والی آنکھیں موتی بکھیرنے لگتیں، اس سے تعلق خاطر رکھنے والی کوئی خاتون ملنے آجاتی تو چادر نبوت اس کے قدموں میں بچھ جاتی۔
کیا مل سکتی ہے اُس دور کے پورے سماج سے وفا کی ایسی کوئی اور ایک مثال؟ جس سال سیدہ خدیجہؓ اور سیدنا ابوطالب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، اس مودب، حلیم اور قدردان انسان نے، اس سال کا نام ہی ’’عام الحزن‘‘ یعنی ’’غم کا سال‘‘ رکھ دیا۔ یہ سب تو اپنے تھے وہ تو بیگانوں کی نیکیوں اور اچھائیوں کو کبھی نہ بھول پایا۔ جناب ورقہ بن نوفل سے لے کر شاہ حبشہ جناب نجاشی تک کسی مسیحی کا، مسیحی ہونا بھی اس کی اچھائیوں کو کم نہ کروا سکا۔ کوئی بدطینت شخص ہی اس منظر نامے کو بھول سکتا ہے۔(جاری ہے)