جنوبی کوریا کے جنگل میں 5 روز قبل لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہ پایا جا سکا، اب تک 18 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی علاقے میں موجود جنگل تاریخ کی بدترین آگ کی لپیٹ میں ہے۔ 12 مقامات پر لگنے والی شدید جنگلاتی آگ نے27 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
قائم مقام صدر ہان ڈک سو کا کہنا ہے کہ جنگل میں لگنے والی آگ جنوبی کوریا کی تاریخ کی بدترین آگ ہے، اس سے ناقابلِ تصور نقصانات ہونے کا خدشہ ہے، ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں آگ پر قابو پانے پر مرکوز کرنی ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگل میں لگنے والی آگ نے تقریباً 43،330 ایکڑ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے 7 ویں صدی کے مندر سمیت متعدد ثقافتی مقامات، کئی فیکٹریاں، مکانات اور گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ سڑکیں اور مواصلاتی نظام بھی معطل ہوگیا ہے۔
21 مارچ 2025ء کو لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ساڑھے 4 ہزار فائر فائٹرز اور 130 ہیلی کاپٹر تعینات ہیں، تاہم تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ بجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیلی کاپٹر گرنے سے پائلٹ ہلاک ہوگیا۔ آگ کی شدت کے باعث ایمرجنسی الرٹ جاری کرتے ہوئے حکومت نےجیلوں سے قیدیوں کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔