• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

آگے چل کر نہر ایک قدرے کھلے علاقے میں بہنے لگی یہاں عمارتوں کی دیواروں پر جرمن زبان میں لاتعداد پوسٹر چسپاں تھے اس کھلے محلے کے بیچ میں بہتی ہوئی نہر کی ایک جانب کچھ کاریں پارک تھیں جبکہ دوسری جانب کچھ لوگ آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے گپ شپ میں مشغول تھے اس اثنا میں میں نے کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا تو کچھ لمحوں تک وہی علاقہ دکھائی دیا جہاں سے لانچ نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا گویا ہم گھوم پھر کر وہیں پہنچنے کو تھے جہاں سے چلے تھے کچھ ہی دیر بعد لانچ کنارےپر کھڑی تھی ڈرائیور نے آخری بار بھونپو بجایا اور پھر انجن بند کر دیا پھٹ پھٹ کی دم توڑتی آواز سنائی دی اور پھر فضا میں سکون سا پیدا ہو گیا مسافر اپنی نشستوں سے اٹھے اور ایک ایک کر کے باہر کو جانے لگے دروازے پر بلانڈ دوشیزہ نے اپنے چہرے پر الوداعی مسکراہٹ بکھیر ی اور پھر نئے مسافروں کیلئے اپنی مسکراہٹ تیز کرنے لگی۔باہر نکلتے ہی ایک نوٹس بورڈ قسم کی چیز پر نظر پڑی جس کے گرد مسافروں کا جمگھٹا تھا قریب جاکر دیکھا تو اس پر متعدد انسانی تصویریں چسپاں تھیں جن میں سے ایک میری بھی تھی اور یہ وہی تھی جو لانچ میں میرے داخل ہونے پر اتاری گئی تھی مسافر پاس کھڑے ایک شخص کو کچھ رقم ادا کرتے اور اپنی تصویر حاصل کرکے رخصت ہو جاتے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور بے دلی سے تصویر حاصل کرکے سڑک پر آ گیا اس جاہل پریس فوٹو گرافر کو میری طرح کشتی کے سبھی مسافروں پر اپنے اپنے ملک کی اہم شخصیت ہونے کا گمان گزرا تھا۔

یہاں سے گھومتا گھومتا کالور شراٹ کی جانب نکل گیا جہاں بے پناہ رونق تھی اس علاقے میں کچھ دیر چہرے پڑھنے کے بعد میں نے جوڈن پریس شراٹ کا رخ کیا اس گلی میں یورپ کے عظیم مصور ریمرانت کا گھر ہے جسے حکومت نے اسی صورت میں محفوظ کیا ہوا ہے جس صورت میں وہ اس کے انتقال کے وقت تھا یہاں عظیم ایمرانت کا بستر اور دیگر اشیاء اس طرح سجی سجائی دھری تھیں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ابھی دروازہ کھلنے پر وہ اندر داخل ہو گا اور اپنے کمرے میں اجنبی لوگوں کی موجودگی پر حیرت سے ٹھٹک کر رہ جائے گا ادھر سے فراغت پاکر میں نے کچھ وقت رائل میوزیم اور میونسپل میوزیم میں گزارا اس اثنا میں شام ہو چکی تھی اور اب میرے قدم تھاربک پلان چوک کی طرف رواں تھے جس کے گردونواح میں شبینہ زندگی عروج پر تھی!

رات کے بارہ بجے کے قریب میری گاڑی ہالینڈ کے ایک قصبہ آپل دارن (APELDOORN) کے اسٹیشن پر کھڑی تھی اور میں اپنا سامان پلیٹ فارم پر دھرے اس قصباتی اسٹیشن کا جائزہ لے رہا تھا اس چھوٹے سے نیم تاریک فارم کے ایک کونے میں چھوٹا سا سنیک بارتھا جہاں چقندر ایسی رنگت والی ایک بھاری بھر کم ولندیزی عورت سفید اپرن پہنے چیزیں سمیٹنے میں مشغول تھی۔ گاڑی میںسے چند مقامی لوگ اترے جو دوسرے شہروں میں کام کاج سے فارغ ہو کر اب رات گئے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ سنیک بار والی موٹی عورت کو غالباً انہی کا انتظار تھا مگر ان میں سے کوئی بھی کافی پینےکیلئے یہاں نہیں رکا تھا وہ صرف ہاتھ کے اشارے سے WISHکر کے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔ پلیٹ فارم پر دھرے بینچ خالی نظر آ رہے تھے ریلوے کا ایک مقامی ملازم کیپ ہاتھ میں لئے جمائیاں لیتا ہوا ایک بینچ کی جانب بڑھ رہا تھا سنیک بار سے ذرا آگے ایک اسٹال تھا جو بند پڑا تھا میں نے ارد گرد نظر دوڑائی تو سب مسافر جا چکےتھے اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے رینگ رہی تھی میں نے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک سوٹ کیس اٹھایا اور بیگ گلے میں لٹکا کر پلیٹ فارم سے باہر نکل آیا۔ گیٹ پار کرتے ہی آپل دارن کا قصبہ میری نگاہوں کےسامنےتھا بستی کے در و دیوار چاندنی کی جھیل میں ڈوبے ہوئے تھے میری نظروں کے عین سامنے ایک سڑک روشنی کی مدہم سی لکیر کی طرح دورتک پھیلتی چلی گئی تھی دونوں طرف کی دکانیں بند تھیں اور ہو کا عالم تھا یوں لگتا تھا کسی داستان کے جادوگر نے اس بستی پر سحر کیا ہوا ہے بائیں ہاتھ پر ایک ریستوران تھا جس کے نیون سائن میں ہالینڈ کی مشہور زمانہ بیئر HEINEKENکی تصویر اجاگر تھی ذرا فاصلے پر ٹیکسی سٹینڈ اور دائیں جانب بس اسٹینڈ تھا مگر یہاں بھی سناٹوں کا راج تھا۔ مجھے یہاں ایک تو ایسے قصبوں کی رومانیت اور دوسرے ارشد کی کشش لائی تھی ارشد جو لاہور میں پھر اس کے بعد امریکہ میں میرا ہمسایہ تھا اب کچھ عرصہ سے اپنی بیوی ایلس کے ساتھ یہاں مقیم تھا۔ وہ امریکہ آنے سے کچھ عرصہ قبل ہالینڈ میں رکا تھا اور ایلس سے اس کی شناسائی یہیں ہوئی تھی کچھ عرصہ بعد ارشد امریکہ چلا آیا مگر اس کی شناسائی نے یہاں بھی اس کا پیچھا کیا اور یہ قضیہ بالآخر شادی پر ختم ہوا شادی کے بعد یہ خاتون خاصی ’’پاور فل‘‘ لیڈی ثابت ہوئی اور ارشد دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اشاروں کا پابند ہو کر رہ گیا میاں بیوی کچھ عرصہ امریکہ ہی میں رہے مگر ایلس کو ہالینڈ کی یاد مسلسل ستاتی رہی اور بالآخر وہ ارشد کو واپس ہالینڈ لے جانے میں کامیاب ہو گئی واپسی پر ان کی محبت کا ایک بلبلاتا ثبوت بھی ان کے ہمراہ تھا جس کا نام انہوں نے جواد تجویز کیا۔

امریکہ سے روانگی سے قبل ٹیلی فون پر ارشد سے میری بات چیت ہوئی تھی اور میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان جاتے ہوئے تم سے ملاقات کیلئے آئوں گا احتیاطاً اس کا ٹیلی فون نمبر بھی میں نے نوٹ کر لیا تھا یہ نمبر اس کے سسرال کا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اسٹیشن سے مجھے یہاں اطلاع دے دینا مجھے پیغام مل جائے گا اور میں تمہیں لینے آ جائوں گا چنانچہ میں نے جیب سے پچیس سینٹ کا سکہ نکالا اور قریبی ٹیلی فون بوتھ سے ارشد کا دیا ہوا نمبر ملایا ’’ٹرن، ٹرن‘‘ دوسری طرف سے گھنٹی سنائی دی اورپھر کسی مرد نے ریسیور اٹھایا ’’ہالو‘‘

یہ یقیناً ارشد کا سسر تھا اور اس نے یہ ’’ہالو‘‘ اتنے زور سے کہا تھا کہ میرے کان میں خارش ہونے لگی۔

میں ارشد کا دوست ہوں اور امریکہ سے آیا ہوں میں نے کان میں انگلی پھیرتے ہوئے اپنا حدوداربعہ بیان کیا۔’’نو انگلش.. نو انگلش‘‘ بٹ، ارشد، فرینڈ، امریکہ‘‘ میں نے شارٹ ہینڈ میں اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کی جو قدرے کامیاب ہوئی اور پھر ادھر سے شارٹ ہینڈ ہی میں جواب موصول ہوا۔ (جاری ہے)

تازہ ترین