حکومت کی طرف سے بجلی کے نرخوں میں کمی کے وعدے کے تناظر میں ایک طرف عوام ریلیف پیکیج کے لئے ہمہ تن انتظار ہیں تو دوسری طرف بعض عناصر کی طرف سے اس باب میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے تناظر میں خیال آرائیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری کو میڈیا کے سامنے یہ کہنا پڑا کہ ہم زبان کے پکّے ہیں، بجلی کی قیمتیں کم ہوں گی، وزیراعظم جلد خوشخبری سنائیں گے۔ منگل کے روز 120KWفاسٹ چارجنگ اسٹیشن کے افتتاح کے موقع پر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی نرخوں میں کمی کی خوشخبری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اسٹاف لیول معاہدے کے بعد سنائی جائے گی۔ بدھ کے روز پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین پہلے جائزہ مذاکرات کی کامیابی اور ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایف ایف) کے تحت 28مہینے کی مدت کیلئے ایک نیا معاہدہ طے پانے کے بعد (جس کے تحت موسمیاتی تبدیلی و قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ایک ارب 30کروڑ ڈالر فراہم ہوں گے) پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کے ضمن میں حکومتی سرگرمی وفاقی کابینہ کے ایک فیصلہ کی صورت میں نمایاں ہوئی۔ واضح رہے کہ اس ماہ پیٹرول نرخوں پر نظرثانی کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا وژن یہ تھا کہ فی الحال اندرون ملک ان نرخوں میں تبدیلی لائے بغیر آئل قیمتوں میں کمی کا فائدہ بجلی نرخوں میں کمی کی صورت میں عوام کو منتقل کیا جائے۔ وزیراعظم پیر کے روز بھی بجلی کے نرخوں میں کمی کے پیکیج کے جلد اعلان کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شمسی توانائی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی اور ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایسے عالم میں، کہ پچھلے عشروں کے دوران بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے آئی پی پیز سے عجلت میں کئے گئے معاہدوں کے نتیجے میں جہاں گردشی قرضہ بڑھتا رہا ہے اور پاکستانی صارفین خطے کے تمام ملکوں سے زیادہ بجلی کے نرخ ادا کرنے پر مجبور ہیں وہاں بین الاقوامی ادارے کی بعض شرائط بھی بجلی نرخوں میں فوری کمی کی راہ میں مزاحم محسوس ہوئیں۔ حکومت کو اس باب میں اعلان سے پہلے احتیاط کے پہلو ملحوظ رکھنے تھے۔ اب جبکہ آئی ایم ایف نے بھی اپنے اعلامیہ میں یہ توقع ظاہر کی ہے کہ سخت معاشی نظم و نسق سے دیگر فوائد کے علاوہ توانائی کے نرخوں میں کمی آئے گی تو پیٹرولیم نرخوں میں کمی کا فائدہ بجلی صارفین کو منتقل کرنے کا وفاقی کابینہ کا فیصلہ برمحل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا حجم بجلی صارفین کیلئے نرخ کم کرنے اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (پی پی اے) کو بیگاس پر چلنے والے پاور پلانٹس کیساتھ معاہدوں پر نظرثانی شدہ شرائط کے مطابق دستخط کرنے کی اجازت دیدی گئی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں دی گئی بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 29آئی پی پیز سے کامیاب مذاکرات مستقبل میں 3.498کھرب روپے کی بچت کا ذریعہ بنیں گے۔ مزید 75بجلی گھروں سے ،جن میں زیادہ تر سولر اور ونڈ پاور پلانٹس شامل ہیں، اپریل یا مئی کے آخر تک بات چیت مکمل کی جائیگی۔ آئی پی پیز معاہدوں پر دوبارہ بات چیت صرف بچت نہیں بلکہ گردشی قرضے ختم کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صورتحال کے تمام پہلو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی سستی کرنے کا جو پیکیج دیں گے اس سے وقتی فوائد جو بھی ہوں، مستقبل میں بہتر نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قدرت کی طرف سے سورج کی روشنی کی صورت میں جو بے بہا خزانہ ہمیں عطا کیا گیا ہے اُسے بروئے کار لانے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت ماحول دوست توانائی کا ہر شعبے میں استعمال یقینی بنایا جائے اور عوامی ریلیف کا پہلو کسی حالت میں نظرانداز نہ کیا جائے۔