• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

صبح 9بجے کے قریب ارشد میرے کمرے میں داخل ہوا اور اس نے آہستگی سے مجھے جگایا میں نے آنکھیں ملتے ہوئے ارشد کی طرف دیکھا تو اسکا دھندلا دھندلا سا چہرہ نظر آیا اور پھر آہستہ آہستہ یہ چہرہ صاف ہوتا چلا گیا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئیں اور چہرے پر اداسی کی لکیریں بہت گہری تھیں لگتا تھا جیسے وہ بھی رات بھر نہیں سو سکا تھا۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور سلیپر گھسیٹتا ہوا ٹائلٹ کی جانب چل پڑا، منہ ہاتھ دھو کر اور دانتوں کی صفائی وغیرہ سے فراغت کے بعد میں واپس اپنے کمرے کی جانب آنے لگا تو ارشد نے برابر کے کمرے سے پکارا ادھر آ جاؤ میں نے ادھر کا رخ کیا تو وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا اس نے برابر والی کرسی میرے لئے سرکائی اور میں اس پر براجمان ہو گیا دودھ کے دو گلاس اور کچھ سینڈوچ ایک پلیٹ میں پڑے تھے میز کے درمیان میں لکڑی کا ایک خوبصورت گلدان دھراتھا جس میں تازہ پھول دھرے ہوئے تھے۔ میں ناشتے کی میز پر بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ ارشد نے دودھ کا گلاس میری طرف سرکایا اور بیمار لہجے میں پوچھا کیا دیکھ رہے ہو۔

کچھ نہیں میں یہ دیکھ رہا تھا کہ اس قوم کو پھولوں سے کس قدر محبت ہے۔

میں سمجھا تم ناشتے کی میز پر ایلس کی راہ دیکھ رہے ہو صبح صبح اس کا والد اسے آکر لے گیا تھا انہیں کہیں جانا تھا جواد بھی ان کیساتھ ہے وہ کہہ رہی تھی میری طرف سے عطا سے معذرت کر لینا، ارشد نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔

واپسی پر گھر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہم کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے ڈرائنگ روم میں ایلس کھڑی نظر آئی جواد پنگھوڑے میں لیٹا تھا اور وہ ایک ہاتھ سے اسے ہلا رہی تھی اس نے ہمیں دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کی طرف گیا اور قریب پہنچ کر ’’ہیلو‘‘ کہا اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور ہیلو کہہ کر کمرے سے نکل گئی ۔ارشد دور کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی تھی اس نے آگے بڑھ کر ایلس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور پھر اسے کھٹ سے بند کر دیا کچھ دیر بعد دونوں کی آوازیں باہر سنائی دینے لگیں ارشد کا لہجہ منت سماجت کا تھا اور ایلس زور زور سے چیخ رہی تھی نہیں ...نہیں ...نہیں کافی دیر تک یہ شور سنائی دیتا رہا پھر یہ آوازیں آہستہ آہستہ کم ہوتی گئیں اور پھر کمرے میں مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ ارشد نے کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا میں کمرے میں ایک میگزین پر نظریں جمائے اپنا دھیان اس جھگڑے سے ہٹانے کی کوشش میں مشغول تھا مگر شدت احساس کے باعث میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا ارشد میرے سامنے بچھی چارپائی پر آکر بیٹھ گیا۔

عطا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے؟ اسکی آنکھیں ایک بار پھر ویرانیوں کے کھنڈر میں بھٹک رہی تھیں، کہو میں نے میگزین سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا ۔


ایلس تمہارے بے وقت آنے پر کل سے کچھ خفا ہے ....تم.....

پہلے ایک بات بتاؤ میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا اس کی خفگی کی صرف یہی ایک وجہ ہےیااس کا باعث تمہارے اپنے الجھے ہوئے خانگی حالات ہیں۔

کچھ سمجھ لو میں تم سے صرف یہ گزارش کرنے لگا تھا مگر پہلے وعدہ کرو کہ برا نہیں مانو گے!

مجھے تم سے کوئی شکایت نہ ہو گی میں نے مظلومیت کی اس تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا تم ایلس سے معذرت کرلو اسکا غصہ فرو ہو جائے گا گو وہ بہت سنکی عورت ہے مگر دل کی صاف ہے۔ ارشد من منایا۔

مگر کس بات کی معذرت !میں نے اس سارے عرصے کے دوران پہلی بار غصے سے بے قابو ہو کر کہا ۔یہی رات کو لیٹ پہنچنے کی خدا کیلئے میری خاطر اس کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور لہجے میں بے چارگی رچی ہوئی تھی ۔

میں نے اٹھ کر اپنا بکھرا ہوا سامان ایک کونے میں جمع کیا اور ارشد کا بازو پکڑ کر کہا ’’آؤ ‘‘ ایلس اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی تھی اور چیخنے چلانے کے باعث اترے ہوئے میک اپ کو درست کرنے میں مصروف تھی اس نے ہمیں دیکھا تو منہ دوسری طرف پھیر لیا میں نے دل پر پتھر رکھ کر اسے مخاطب کیا ’’ایلس‘‘ مجھے افسوس ہے میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف پہنچی میں اس کیلئے معذرت خواہ ہوں اس کیساتھ ہی دوسرے کمرے میں پہنچ کر میں نے اپنا سامان اٹھایا اور واپس ارشد کے پاس آکر کہا ’’میں اب چلتا ہوں مجھے اجازت دو‘‘

نہیں اب تم نہیں جاؤ گے ایلس نے آگے بڑھ کر کہا اس کے چہرے پر فتح وکامرانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی طمانیت جھلک رہی تھی۔

ارشد بت بنا کھڑا تھا ۔

نہیں ایلس میں نہیں رک سکتا مجھے بہرحال آج ہی جانا ہے بہت بہت شکریہ میں تمہیں نہیں روکوں گا اچانک ارشد نے آگے بڑھ کر بھیگی آنکھوں سے کہا آؤ میں تمہیں خدا حافظ کہوں اور اس کیساتھ ہی اس نے مجھے گلے سے لپٹا لیا میرے شانوں پر آنسوؤں کے دو قطرے جذب ہوئے اور تیر کی طرح دل میں اتر گئے ،اس شام ایمسٹرڈیم کو جانیوالی ٹرین میں بیٹھا میں لہلہاتے کھیتوں اور مہکتے پھولوں کی اس بستی کو اداس نظروں سے دیکھ رہا تھا آپل دارن کے خوبصورت قصبے نے مجھے وہی کچھ دیا تھا جو خوبصورت لوگ چاہتوں کے صلے میں دیتے آئے ہیں ۔ (ختم شد)

تازہ ترین