• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

اگر میں اپنی کہانی لکھنے بیٹھ ہی گیا ہوں تو مجھے یہ بھی بتانا پڑے گاکہ میں نے اور میرے دوست سمیع نے سات سال کی عمر میں سگریٹ نوشی شروع کر دی تھی، سمیع وزیر آباد میں میرا ہمسایہ تھا اور بہت عزیز دوست تھا ہم دونوں سگریٹوں کے ’’ٹوٹے‘‘ ادھر ادھر سے تلاش کرتے اور سمیع کے گھر کی سیڑھیوں کے نیچے بیٹھ کر سوٹے لگاتے تھے، سوٹے خاک لگانا تھے، لوگ اتنے کمینے تھے کہ وہ سگریٹ کے آخری کونے تک پہنچ کر اس وقت اس کی جان چھوڑتے تھے جب ان کی انگلیاں جلنے لگتی تھیں چنانچہ ان ٹوٹوں سے فی ٹوٹا فی کش ہی کشید کر پاتے تھے۔ میں نے دسویں جماعت میں اپنی جیب خرچ سے ایک عدد ’’مکمل‘‘ سگریٹ دکان سے خریدا اور دکان پر ٹنگی ایک سلگتی ہوئی رسی سے سلگایا۔ یہ رسی ایک سگریٹ خریدنے والوں کی سہولت کیلئے ہر دکان پر لٹکی ہوتی تھی کہ دکاندار جانتے تھے ایک سگریٹ کیلئےایک ماچس خریدنے کی عیاشی کون کرسکتا تھا، مگر میں نے ابھی دو کش ہی لئے تھے کہ ایک زناٹے کا تھپڑ کسی نے میرے منہ پر مارا، میں نے مڑ کر دیکھا تو یہ میرے بھائی جان ضیاء الحق قاسمی تھے۔ اس ایک تھپڑ کے بعد اللہ جانے میں نے دوسرا سگریٹ کب پیا اور پھر وہ کون سا مہینہ یا سال تھا کہ میں نے موسلادھار سگریٹ نوشی شروع کی، بس اتنا یاد ہے کہ تین پیکٹ روزانہ یعنی ساٹھ سگریٹ یومیہ تک نوبت آگئی تھی۔ مجھے یو ایس آئی ایس کے پروگرام کے تحت چھ ہفتے کیلئے امریکہ جانا پڑا جس میں دوسرے کئی ملکوں کے نمائندے بھی شامل تھے ہم سب کو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں لے جاکر امریکی نظام تعلیم اور دوسرے موضوعات کے حوالے سے لیکچر سننا پڑتے تھے، سو ’’زادِ راہ‘‘ کے طور پر تین پیکٹ روزانہ کے حساب سے میں نے ساڑھے تین سو گولڈ لیف کے پیکٹ ساتھ رکھے حالانکہ سگریٹوں کے صرف دو ڈنڈے یعنی بیس سگریٹ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی۔ نیو یارک ایئر پورٹ پر کسٹم کے ایک افسر نے جب میرے اٹیچی کیس میں سگریٹوں کی یہ ریل پیل دیکھی تو اس نے حیران ہو کر پوچھا کہ تم اتنے سارے سگریٹ ساتھ لے جا رہے ہو، یہ خلاف قانون ہے۔ میں نے کہا جانتا ہوں مگر میں ان کے بغیر رہ نہیں سکتا، اس بلیک کسٹم افسر نے پوچھا کیا تم یہ سارے سگریٹ خود پیو گے، میں نے کہا جی خود ہی پیئوں گا۔ افسر نے کچھ دیر سوچا اور پھر ’’او کے‘‘ گاڈ بیلس یو کے دعائیہ کلمات کے ساتھ سگریٹ ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔

سگریٹ نوشی کی اس عادت بد نے مجھے دوران سفر ایک خطرناک مرحلے سے دو چار کیا۔ یہ یو ایس آئی ایس کے ٹور سے واپسی کا واقعہ ہے ، میں جب صبر کی ساری حدیں عبور کرچکا تو میں نے ایک سگریٹ اپنی جیب میں ڈالا اور واش روم میں جا کر اپنی یہ حس پوری کی، اس کے بعد میں واپس اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور خوش کہ کسی کو میری اس حرکت کا پتہ نہیں چلا، چنانچہ اسی سرخوشی کے عالم میں میں نے دوبارہ واش روم کا رخ کیا اور ابھی تین کش ہی لگائے تھے کہ سارا جہاز گھنٹیوں سے گونجنے لگا اور ساتھ ہی ایک ایئر ہوسٹس نے میرے واش روم کا دروازہ کھولا اور رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ میں اس کی معیت میں واپس اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔ جہاز کے مسافر مجھے نفرت کی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جہاز جب سانس لینے کیلئے کسی ملک کے ایئر پورٹ پر اترا تو اس میں سے بہت سے مسافر یہاں اتر گئے کہ ان کی منزل مقصود یہی ملک تھا۔ میں بھی ذرا ٹانگیں سیدھی کرنے کیلئے جہاز سے اترا تو دو بہت ہینڈ سم امریکنز نے اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ میرا استقبال کیا، ایک میرے دائیں اور دوسرا بائیں جانب چل رہا تھا اور ان کے چہروں سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ وہ اپنے معزز مہمان سے بہت محبت اور یگانگت کا اظہار کر رہے ہیں مگر یہ تو میں ہی جانتا تھا کہ وہ مجھے گالیاں دے رہے تھے۔ بہرحال وہ مجھے ایئر پورٹ کے ایک کمرے میں لے گئے، وہاں ان کے چہروں کی مسکراہٹ کی جگہ کرختگی نے لے لی تھی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جہاز میں سگریٹ نوشی کتنا بڑا جرم ہے، تمہیں اس کی پاداش میں تاعمر جہاز کی سہولت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ سواری ہمیشہ کیلئے تمہارے واسطے بین ہوگی، مگر ہم تمہیں صرف وارننگ دے کر جانے دے رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک معافی نامہ پر مجھےسے دستخط کرائے اور کمرے سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ ان لمحوں میں مجھے وہ زمانہ یاد آیا جب جہاز میں سگریٹ نوشی کی اجازت تھی، مگر ان اچھوتوں کی نشستیں سب سے آخر میں ہوتی تھیں،ایک ایسے ہی سفر کے دوران میں سگریٹ نوشی سے فضا کو آلودہ کر رہا تھا ، انور مسعود میرے ساتھ تھے ، کہنے لگے یار سگریٹ نوشی کم کر دو، میں نے کہا کہ کر دوں گا، بولے نہیں ابھی کم کرو، ایک مجھے دو!۔سگریٹ نوشی کے حوالے سے آخر میں ایک واقعہ سن لیجئے، بھائی جان ضیاء الحق قاسمی جنہوں نے مجھے سگریٹ پینے کی پاداش میں ایک کرارا ساتھپڑ رسید کیا تھا،بالآخر وہ خود بھی ’’بلا نوش‘‘ ہوگئے ، مزاحیہ مشاعروں کی نظامت کے دوران بھی ان کے ہاتھ میں سلگتا ہوا سگریٹ ہوتا تھا، ایک دن وہ کراچی سے لاہور مجھے ملنے کیلئےآئے، جہاں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا، میں نے انہیں ہسپتال میں داخل کرایا ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے کہا کہ آئندہ وہ سگریٹ نہیں پئیں گے۔ مگر وہ میرے بھائی جان تھے، ایک دن انہوں نے دیکھا کہ ان کے ارد گرد کوئی ڈاکٹر نہیں، وہ بیڈ سے نیچے اترے اور تین چار سو گز کے فاصلے پر سگریٹ کی ایک دکان تھی وہاں تک چل کرگئے اور وہاں کھڑے کھڑے تین سگریٹ پی کر دوبارہ ہسپتال کے بیڈ پر آ کر لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر رائونڈ پر نکلا اور بھائی جان کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد کہنے لگا قاسمی صاحب ، ماشا اللہ آپ کی حالت آج بہت بہتر ہے، بس پرہیز اسی طرح جاری رکھیں۔

پس نوشت:میری ان سطور سے سگریٹ نوشی کا جواز تلاش نہ کریں کہ یہ سطور موجودہ غم زدہ ماحول میں آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لانےکیلئےہیں چنانچہ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ بھائی جان اسی اسموکنگ کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوئے اور جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے اس سگریٹ نوشی سے جتنے نقصانات سے پالا پڑا ہے اس کی تفصیل پھر کبھی بیان کروں گا۔

تازہ ترین