انتخاب کے دو ماہ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت گرنے لگی۔ گیلپ کے مطابق ان کی مقبولیت 47 فیصد سے گھٹ کر 43 فیصد ہو گئی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ پروجیکٹ 2025، ٹیرف کی دھمکیوں اور عجیب و غریب خیالات جیسے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش نے امریکیوں کو مایوس کیا ہے۔
علاوہ ازیں ایلون مسک کی بےلگام مداخلت اور سگنل گیٹ اسکینڈل نے بھی تنازعات کو ہوا دی۔
پولز بتاتے ہیں کہ صرف 38 فیصد لوگ ان کی تجارتی پالیسیوں سے مطمئن ہیں جبکہ معیشت اور دیگر امور پر بھی حمایت کم ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا دوسرا دور پہلے کی طرح افراتفری اور غیر یقینی سے بھرپور ہے۔
اس دوران ہارورڈ-ہیریس ایکس کے ایک تازہ سروے کے مطابق مسک کی مقبولیت فروری سے مارچ کے دوران 10 پوائنٹس کم ہو گئی، کیونکہ پورے ملک میں ٹیسلا کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔