بھارتی لوک سبھا میں متنازع وقف ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں 12 گھنٹے بحث کے بعد منظور کیا گیا جس کی حمایت میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔
وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں منظوری کے بعد آج ہی راجیہ سبھا میں پیش ہو گا۔
کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وقف ترمیمی بل آئین پر حملہ ہے، مودی حکومت ملک کو کھائی میں گھسیٹ رہی ہے، مودی حکومت آئین کو بھی برباد کرنا چاہتی ہے۔
سونیا گاندھی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ صحیح بات کے لیے لڑتے رہیں۔
رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں وقف بل کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ بل آرٹیکل 25، 26 کی خلاف ورزی ہے، وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں اور مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں، ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کا پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔
یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔