• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب: جہاں زندگی سانس لیتی تھی، وہاں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 280 دیہات ڈوب گئے

پنجاب میں سیلاب سے 280 دیہات ڈوب گئے، جہاں زندگی سانس لیتی تھی، وہاں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، کھڑی فصلیں پانی میں بہہ گئیں، مکینوں کے آشیانے ڈوب گئے، ہزاروں افراد گھر بار چھوڑ کر رستوں پر آگئے۔

تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیےجھنگ کے ریواز برج کے قریب دھماکا کرکے شگاف ڈال دیا گیا۔

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے اور پانی کی سطح میں کمی ہورہی ہے۔

دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 55 ہزارکیوسک ہے، دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، ہیڈ بلوکی میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے سے قریبی دیہات میں پانی آگیا ہے۔

لاہور کی مختلف آبادیوں میں راوی کا پانی داخل ہوگیا، گلی، محلے اور سڑکیں ڈوب گئیں، شہریوں کی سامان اور مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقلی کردی گئی۔

شاہدرہ کے مقام پر نالے میں گندگی کے ڈھیر کی وجہ سے نالا اوور فلو ہوگیا، بارہ دری، ٹھوکر نیاز بیگ، بادامی بادامی باغ، چوہنگ، بابو صابو، رنگیل پور، لوہاراں والا کھوہ سمیت کئی علاقے زیر آب آگئے۔

دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب نے مختلف آبادیوں کو لپیٹ میں لے لیا، آبادی، محلے، گلی اور گھروں تک کو سیلابی پانی نے گھیر لیا، چوہنگ اور ملحقہ آبادیوں کے رہائشیوں نے اپنا سامان محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

بابو صابو انٹرچینج کے قریب بستیاں پانی میں ڈوب گئيں، لوگ اپنے گھر چھوڑ کر موٹروے کے کنارے منتقل ہوگئے۔

گھر بار چھوڑنے پر مجبور ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید