تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیر اعظم پیتونگاترن شیناوترا کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیتونگاترن شیناوترا کو صرف ایک سال اقتدار میں رہنے کے بعد قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کے الزام پر عہدے سے ہٹا دیا اور اُن کی کابینہ کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت کے مطابق جون میں کمبوڈیا سے مسلح سرحدی تنازع کے دوران پیتونگاترن شیناوترا کی ایک فون کال لیک ہوئی تھی، جس میں انہوں نے دشمن ملک کے سابق رہنما ہُن سین کے موقف کی تائید کی تھی اور انہیں ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیتونگاترن شیناوترا کو لیک شدہ ٹیلی فون کال میں اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ مشکلات کا شکار پیتونگاترن شیناوترا سیاسی خاندان کے لیے ایک اور دھچکا ہے، جس سے ہنگامہ آرائی کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب پیتونگاترن شیناوترا خاندان سے تعلق رکھنے والی یا ان کی حمایت یافتہ چھٹی ایسی وزیراعظم بن گئی ہیں جنہیں فوج یا عدلیہ نے برطرف کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب سے قبل اب موجودہ نائب وزیر اعظم عبوری طور پر اس عہدے کی باگ دوڑ سنبھالیں گے۔