• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب کے دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال، 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر

پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال برقرار ہے، سیلابی پانی سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہوگئی جبکہ صوبے میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں اموات کی تعداد 33 ہوچکی ہے۔

دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف، احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آگئیں۔متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔

 دریائے چناب سے جھنگ کے گاؤں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ 

مظفرگڑھ میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، بیشتر لوگ ریلیف کیمپوں میں منتقل نہیں ہوئے۔

پنجاب کو اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا ہے: ڈی جی پی ڈی ایم اے

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کو اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے ستلج پر قصور کے مقام پر پانی کم ہو رہا ہے، 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا قصور سے گزر رہا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں شدید سیلابی صورتِ حال ہے، تریموں بیراج پر پانی کا بہاؤ تین لاکھ 61 ہزار 633 کیوسک ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ساری توجہ انسانی جانوں کو محفوظ کرنے میں ہے، 20 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں، ریلیف کیمپس میں موجود افراد کو تمام سہولتیں دی جا رہی ہیں، تمام افسران فیلڈ میں موجود ہیں، عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 33 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، سیلاب کے ساتھ بارشیں بھی ہو رہی ہیں، بارش کی وجہ سے نکاسی میں وقت لگے گا، بارش کی وجہ سے اربن فلڈنگ کی صورتِ حال سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث 2200 دیہات متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد اور لاکھوں مویشیوں کا انخلا کیا۔

قومی خبریں سے مزید