حسن البصری اپنے شاگردوں کو مسجد میں لیکچر دے رہے تھے، لیکچر اپنے اختتام کو تھا کہ اچانک ایک طالب علم نے عجیب سا سوال داغ دیا، کہنے لگا، استاد محترم، ہمارے ہاں ایک جماعت ایسی پیدا ہوچکی ہے جس کا ماننا ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف لوگوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والے کے لئے بھی نجات کا دروازہ کھلا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ جیسے کسی کافر کی عبادت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح کسی مسلمان کا گناہ اسے کوئی ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کی تلافی نہ ہوسکے، آپ کی رائے میں سچائی کا راستہ کیا ہے؟‘‘ اس سے پہلے کہ حسن البصری جواب دیتے، حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھا اور بولا: ’’گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے والا شخص ایمان کے دائرے سے باہر سمجھا جائے گا اور نہ ہی وہ سچا مسلمان مانا جائے گا، اسے ایمان اور کفر کے درمیان کی ایک ’’منزل‘‘ میں رکھا جائے گا۔‘‘ یہ کہنے کے بعد وہ نوجوان مسجد کے دوسرے سرے کی جانب گیا اور وہاں موجود طلبا کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے لگا، نوجوان کا نام واصل ابن عطا تھا۔ حسن البصری نے ایک نگاہ اس کی جانب ڈالی اور بولے ’’یہ شخص ہم میں سے نکل گیا‘‘۔ اس وقت سے واصل ابن عطا اور ان کے پیروکاروں کو ’’معتزلین‘‘ کہا جاتا ہے، واصل ابن عطا ’’المعتزلہ‘‘ تحریک کا بانی ہے۔
یہ شخص بلا کا ذہین تھا، اس نےمذہب کو عقلی بنیاد پر پرکھنے کی روایت ڈالی اور دقیق دینی اور فلسفیانہ موضوعات پر ایسی رائے دی جس نے عام مسلمان کو بے حد متاثر کیا۔ واصل کی گردن ذرا لمبی تھی جسے دیکھ عمر ابن عبید نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’ایسی لمبی گردن والے شخص میں کوئی خیر نہیں ہوسکتا۔‘‘ واصل عربی کا حرف ’’ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا لہٰذا گفتگو میں اس بات کا خاص خیال رکھتا کہ زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ پھسل جائے جس میں ’’ر‘‘ آتا ہو، مگر اس کے باوجود اس قدر روانی سے بولتا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے، اس نے ایک ضخیم مقالہ بھی تحریک کیا مگر اس پورے مقالے میں کہیں ایک جگہ بھی ’’ر‘‘ کا استعمال نہیں کیا۔ واصل کی عقلیت پسندی اس کے عقائد میں جا بجا جھلکتی ہے، مثلاً انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر وہ اپنی رائے یوں دیتا ہے کہ خدا عاقل اور انصاف پسند ہے، شر اور ناانصافی اس کی صفات میں شامل کی ہی نہیں جاسکتیں، اس بات کا جواز کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جس بات کا حکم دے اس کی مرضی اس کے برعکس ہو، لہٰذا خیر اور شر، کفر و الحاد، فرمانبرداری اور گناہ اس کی مخلوق کے اعمال ہیں، یعنی مخلوق ہی اپنے اعمال کی خالق و مختار ہے لہٰذا انہی کی بنیاد پر اسے سزا و جزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا، یہ ناممکن ہے کہ غلام کو آقا کی طرف سے کوئی ایسا حکم بجا لانے کو کہا جائے جو اس کے بس سے باہر ہو، بندے کو وہی کرنے کو کہا جاتا ہے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے عظیم مفکر ابن حزم نے واصل کےان خیالات کے بارے میں کہا تھا کہ معتزلین نے انسان کی مجبوری و مختاری کے مسئلے پر نہایت عمدہ کام کیا ہے، اگر انسان کو اپنے معاملات میں کلی طورپر مختار مان لیا جائے تو شریعت کی عمارت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔
معتزلین کی عقلیت پسندی میں بظاہر بڑی کشش نظر آتی ہے مگر ان کے ناقدین کی رائے میں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے ان تمام تصورات کو رد کردیا جو عقل کے پیمانے میں سموتے نہیں تھے، وہ یہ بات نظر انداز کر گئے کہ عقل انسانی بھی اسی طرح خدا کا ایک تحفہ ہے جیسے انسان کو ودیعت کی گئیں دیگر حسیات، جس طرح انسان کے دیگر ذرائع علم کی اپنی حدود ہیں اسی طرح عقل کی بھی کچھ حدود ہیں اور ضروری نہیں کہ آفاقی سچائی عقل سے ہی سمجھ میں آجائے۔ بقول شیکسپیئر
"There are more things in heavan and earth, Horizon, than are dreams of in your philosophy"
عباسی حکمرانوں، خاص طورسے خلیفہ مامون الرشید نے معتزلین کی کافی سرپرستی کی اور عقلیت پسندی کو عوامی سطح پر روشناس کروایا۔ معتزلین سچائی اور حقیقت کو محض عقل کی کسوٹی پر ہی پرکھنے پر مصر رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ایمان کو بھی خالصتاً فلسفے کے انداز میں جانچنا شروع کردیا، انہوں نے یہ حقیقت یکسر بھلا دی کہ مذہب کے بنیادی عقائد کو کبھی بھی عملاً منطقی اعتبار سے ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کا عقلی ثبوت مہیا کیا جاسکتا ہے۔ مذہب کے بنیادی عقائد کا تعلق چند فوق الادراک سچائیوں سے ہے جنہیں پہلے ہمیں وحی کی بنیاد پر ماننا پڑے گا، اس کے بعد انسانی عقل کی حدود شروع ہوں گی، اگر ہم ہر عقیدے کو ہی عقل کی کسوٹی پر جانچیں گے تو یہ کسوٹی اس کے لئے درست نہیں ہوگی کیونکہ عقل ایمان کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اس ضمن میں کانٹ کی دلیل دلچسپ ہے، کانٹ کے زمانے میں چرچ خدا کے بیٹے کا وجود ثابت کرنے کے لئے عقلی دلائل تلاش کررہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو پایا، کانٹ نے پادریوں کی مشکل حل کردی، اس نے کہا کہ خدا نے انسان کو pracital reason دی ہے pure reason ودیعت نہیں کی، practical reason ہمارے مسائل کا حل تو کرسکتی ہے مگر خدا کی ذات کا تعلق pure reason سے ہے اور وہ ہمیں نہیں ملی۔
عارف اورعالم دونوں ہی سچائی کے راستے تک لے جاتے ہیں مگر عارف کا ذریعہ عرفان ہے جبکہ عالم کا عقل، یہ ذرائع درست بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی، مولانا روم کے بقول عقلی استدلال شیطانی بھی ہوسکتا ہے اور رحمانی بھی، مگر غلطی کے امکان کے باوجود انسان نے ترقی کی ہے، چونکہ یہ دنیا احساسات کی دنیا ہے اس لئے علم کے اس ذریعے کو فوقیت دی جاتی ہے جو عقل پر مبنی ہے۔ دوسری طرف عرفان کا تعلق صرف مذہب سے نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وجدان سے کام لیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم کوئی فیصلہ عقلی اعتبار سے درست معلوم ہونے کے باوجود اس لئے نہیں کرتے کہ دل نہیں مانتا حالانکہ اس کی کوئی عقلی توجیح نہیں ہوتی۔
عقل و عشق کے معرکے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم وجدان کا قائل ہونے کے لئے بھی بہرحال عقلی دلائل کا ہی سہارا لیتے ہیں، تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عقل اور عشق دونوں کی منزل ایک ہی ہے مگر بقول اقبال، عقل ہمیں دھیرے دھیرے اس مقام تک لے جاتی ہے جبکہ عشق ایک یہ جست میں تمام منازل پار کرلیتا ہے، اسی لئے روزمرہ زندگی کے فیصلے ہمیں عقل کی رو سے کرنے چاہئیں جبکہ بڑے فیصلے دل سے کرنے چاہئیں۔ وہ مقام کب آتا ہے جب دل سے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کا ذکر پھر کبھی۔
نوٹ: اس کالم میں معتزلین کے بارے میں حقائق، پروفیسر میر ولی الدین، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد دکن، کے مقالے سے حاصل کئے گئے ہیں۔