• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست، جمہوریت، آئین ، پارلیمنٹ، عدلیہ اورمیڈیا، انا للہ....۔ ضمنی انتخابات کے نتائج،سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے ، باقی سب اچھا کی خبر ہے۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈٹ کر خوارج کا صفایاکررہی ہے۔ شہباز کی اتحادی حکومت معاشی و سفارتی میدانوں میں سرپٹ گھوڑے دوڑائے جارہی ہے۔ مریم نواز کی پنجاب حکومت چاروں طرف چھائی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر چوکے ، چھکے لگا رہی ہے۔ ایم کیو ایم ہمیشہ کی طرح ہلکی پھلکی بانسری بجا رہی ہے۔ بڑے مولانا صاحب کو بھی جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت توستائیسویں ترمیم کی یاد ستا نے لگی ہے۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف اپنے بائیکاٹ کے اعلان پر حسب معمول پچھتا رہی ہے اوردھاندلی کے الزامات بھی لگا رہی ہے۔ ان حالات میں نظام بخیروخوبی پوری رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان دینے کے وعدے، دعوے، سندھ سے پنجاب تک سنائی دے رہے ہیں اور عوام گھر بیٹھے چین کی بانسری بجارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی نئی نویلی حکومت بارے راوی کوئی قیاس آرائی کرنے سے ابھی تک گریزاںہے کیونکہ انہیں عوام سے زیادہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش ہے۔ گنڈا پور کیا گئے ہیں کہ تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں اپنے سیاسی گڑھ ہری پور کی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ جب پلوں کے نیچے سے پانی گزر گیا تو سب بڑے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کیا سے کیا ہوگیا ؟ کسی کو یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کا بیانیہ تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اب ایک دوسرے کو طعنے، کوسنے دیئے جارہے ہیں کہ ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیوں اور کس نے کیا؟ اللہ اللہ خیر سلا، میدان سیاست کا ہو یا کھیل کا شکست کے بعد یاد آنے والا تھپڑ کسی نہ کسی کے نصیب میں ضرور آتا ہے۔

پی ٹی آئی والے پہلے بھی احمقوں کی جنت میں رہتے تھے اور اب بھی رہتےہیں ان کے ہاں ہمیشہ کنفیوژن ہی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ جیل کاٹ رہے ہیں۔ بھائی سے بہنوں کی ملاقات کی درخواستیں آئینی عدالت اور سول عدالتوں سے بھی مسترد کی جاچکی ہیں،بہنیںہر شام اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر واپس لوٹ جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی میں کوئی عقل مند بندہ میدان میں نہیں ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج اللہ اللہ۔ شیر اک واری فیر۔ باقی سارے تیتر بٹیر۔ عوام کہیں سانوں کیہ، سب ہیر پھیر، نظام توپھر بھی پُوری تیز رفتاری سے چلتا جا رہا ہے۔ شہباز کی وفاق میں اونچی پرواز، مریم نواز کا نیا پنجاب، سب کو واضح طور پر نظر آرہا ہے،جسے نہیں آتا وہ اپنی آنکھوں کا علاج کرائے پھر پنجاب کی سیر کو آئے۔ کشادہ سڑکیں، خوب صورت پارکس اور باغات، تاریخی عمارتوں کی بحالی، تجاوزات کا مکمل خاتمہ، رسہ گیروں، بدمعاشوں کی قسمت کے رات کی تاریکی میں فیصلے، پبلک ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام، امن و امان پر مکمل اطمینان۔ دیہات میں سہولیات ، عوام کو کاروبار کرنے میں آسانی کے لئے قرضوں کی فراہمی۔ طلبہ وطالبات کے لئے آگے بڑھنے کے لئے بہترین مواقع، لیکن.... پی ٹی آئی والوں کو ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ، ہری پوراور لاہور کے انتخابی معرکوں میں شکست سے فرصت ملے تو ہم کچھ کہیں اوراب انہیں کون سمجھائے کہ نتائج کچھ بھی ہوں دشمن کے لئے میدان خالی چھوڑنا سب سے بڑی سیاسی حماقت ہوتی ہے مگر جس پارٹی کے ڈی این اے میں بائیکاٹ بائیکاٹ، دھرنا و احتجاج ،توڑ پھوڑ اور ہر وقت کا رونا پیٹنا شامل ہوآپ اس سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ کاش! کوئی انہیں مشورہ دیتا کہ بائیکاٹ کرنا تھا تو ڈنکے کی چوٹ پر کرتے۔ اگر انتخاب لڑنا تھا تو بہتر حکمت عملی اپناتے جس سے عوام کی دلچسپی بھی بڑھتی ، حکومتی کارکردگی کا نتارا بھی ہو جاتا۔بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو انتخابی مہم سونپی جاتی تو وہ آزادی سے اپنے مایوس ووٹرز ، سپورٹرز کو دوبارہ سے متحرک کرسکتی تھیں۔

’’بدترین جمہوریت ‘‘کے دوران بہترین انتقام لینے کا یہی جمہوری طریقہ تھا مگر یہ سبق پی ٹی آئی والوں کو کون یاد کرائے کہ ماضی میں خان اعظم کے دور ِاقتدار میں (ن) لیگ نے ضمنی انتخابات کے دوران یہی حکمت عملی اپنائی تھی۔ ویسے تو وہ عورتوں کے حقوق کے علمبردار بنتے ہیں لیکن اندر سے کہتے ہیں ’’سیاست کھیڈ نئیں زنانیاں دی‘‘،اگر احتجاجی تحریک چلانے کا ارادہ تھا تو کھل کر میدان میں آتے۔ پی ٹی آئی والے نظا م کے خلاف بولتے ہیں اوراس سے صلح کی توقعات بھی رکھتے ہیں۔ اب اِدھر کے رہے ہیں نہ اُدھر کے۔ ہر طرف الجھاؤ ہی الجھاؤ ہے۔ ایک طرف بانی سے ان کی بہنوں، وکیلوں اور سہیل آفریدی کی ملاقات نہیں ہو پا رہی تو دوسری طرف کوئی ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کو بھی تیار نہیں۔ بانی کی عوامی پارٹی کو تانگا پارٹی بنانے میں سب اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان حالات میں جنگل کا بادشاہ ببر شیر اک واری فیر جاگ اٹھا ہے۔ وہ بانی پی ٹی آئی اور انہیں اقتدار میں لانے والوں پر خوب گرجا برسا ہے۔ اس کا دکھ بہت گہرا ہے۔ اس کے دل پر گہرے گھاؤ لگے ہیں۔ وہ محلاتی سازشوں سے بےزار نظر آتا ہے۔

وہ سب کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا کہہ رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ پھر کوئی طاقت ور ماضی کی درد ناک کہانیاں نہ دہرائے۔ اسے خوش حالی کے دن یاد آتے ہیں وہ چاہتا ہے کہ اس کی ریاست میں جنگل کا قانون ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے ۔وہ خوش ہے کہ چھوٹا شیر اور شیرنی جنگل میں لگی آگ ٹھنڈی کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں، وہ اپنے وزیروں، مشیروں، خیرخواہوں کے رعایا بارے فیصلوں پر مطمئن دکھائی دیتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ مانگ رہا ہے کیا وہ موجودہ نظام اسے دے پائے گا؟

تازہ ترین