نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قرآن کریم امّتِ مسلمہ کا روحانی ورثہ ہے، نوجوان قرآن کریم کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط بنائیں۔
اسحاق ڈار نے کنونشن سینٹر میں پاکستان میں پہلے بین الاقوامی مقابلہ قراّت کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قراّت کے روح پروَر اجتماع میں شرکت میرے لیے باعث فخر ہے، عالمی سطح پر مقابلہ قراّت کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان میں ہر سال محفل قرآت کا انعقاد ہوتا ہے، اس سال بین الاقوامی مقابلہ قرات وزارت مذہبی امور نے کروایا، اگلے سال اسلامی دنیا کے علاوہ پوری دنیا کے قرآء کو پاکستان میں دعوت دی جائے گی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی ویژن کے باعث یہ مقابلے کا انعقاد ہوا، وزیرِاعظم شہباز شریف مصروفیت کے باعث اس بابرکت محفل میں شریک نہیں ہو سکے، وزیراعظم نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے مجھے اس ایونٹ میں شرکت کا کہا۔
اِن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والے قراء کرام نے اپنے ممالک کی خوبصورت انداز میں نمائندگی کی، تمام ججز نے مقابلہ قرآت میں بہترین فرائض انجام دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقابلہ قراّت امت کے اتحاد کے لیے پاکستان کی کوششوں کا مظہر ہے، پاکستان واحد ملک ہے جو کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، قرآن ہمیں امن، یکجہتی، رحمت اور عدل کا درس دیتا ہے، نوجوانوں بچوں بہنوں کو نصحیت کرتا ہوں کہ قرآن سے رابطہ مضبوط رکھیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ اور زندہ معجزہ ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں قرآن کو ہم نے نصیحت کے لیے آسان بنا دیا، ہمارا آئین کہتا ہے اللّٰہ کی حاکمیت ہے۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، ہمیں قرآن کہتا ہے ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، قرآن کہتا ہے ایک زندگی کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، قرآن پر عمل کرنا لازم ہے، قرآن میں فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے۔
نائب وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جس نے پاکستان سے عذاری اور اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی وہ عبرت کا نشان بنے، پاکستان کو دولخت کرنے والے نشان عبرت بنے، امت کو ایک اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں میزائل اور ایٹم بم کی طاقت سے نوازا۔