• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری رحمان اللہ لکنوال نے فائرنگ کر کے دو امریکی نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا۔ نتیجتاً خاتون اہلکار دم توڑ گئی جبکہ مرد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ فوراً بعد صدر ٹرمپ نے تمام افغان شہری جو صدر بائیڈن دور میں "آپریشن اتحادی خوش آمدید" کے تحت امریکہ میں بسائے گئے تھے کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنے اور شہریت کے حوالے سے تمام درخواستوں پر فیصلے معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ تیسری دنیا کے 19 ممالک سے تارکینِ وطن کی امریکہ منتقلی کو مستقل طور پر روکنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حالیہ فائرنگ کو صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے ایسے غیر ملکیوں کو امریکہ سے نکالا جا سکے جو ملکی مفاد میں نہ ہوں یا امریکہ سے محبت نہ کرتے ہوں۔ واقعہ کے فوراً بعد ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا اور وائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن کر کے نیشنل گارڈ کی مزید 500 نفری منگا لی گئی جبکہ ہفتہ قبل ہی دارالحکومت میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی امریکی عدالت نے "ہوم رول قانون" کے تحت روکنے کا حکم دیا تھا۔ "آپریشن اتحادی خوش آمدید" ایسے افغانوں کو امریکہ میں بسانے کے لیے تھا جنہوں نے افغانستان میں امارتِ اسلامی افغانستان حکومت گرانے اور ناجائز امریکی قبضے کو قائم رکھنے میں معاونت کی تھی۔ امریکہ کو خوف تھا کہ طالبان اقتدار میں آ کر ان غداروں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنائیں گے لہٰذا قریباً دو لاکھ افغانوں کو امریکہ میں پناہ دی گئی۔ ان میں رحمان اللہ لکنوال بھی تھا جس نے افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کیا تھا۔ 2021 میں آنے والے رحمان اللہ نے 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی جو منظور ہو گئی تھی۔ بظاہر اس کی ایسی کوئی بات یا امریکہ سے ناراضی معلوم نہیں ہوئی جس کے باعث رحمان اللہ نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ البتہ ٹرمپ انتظامیہ کو اس واقعے کی آڑ میں بہت کچھ کر گزرنے کا جواز مل گیا۔

جس سُرعت سے صدر ٹرمپ نے تارکینِ وطن افغانوں اور ان کی آڑ میں دیگر ممالک کے تارکینِ وطن کی ناطقہ بندی کی اس سے حالیہ فائرنگ کے پیچھے سازش کا عنصر نمایاں نظر آ رہا ہے ویسے بھی رحمان اللہ ان کا اپنا ہی تربیت یافتہ بندہ تھا۔ جب سے صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کا اعلان کیا ہے افغانستان کے معاملات بگڑتے ہی جا رہے ہیں۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دورِ اقتدار میں، امریکی چھتر چھایا تلے آئی ایس آئی ایس، داعش، القاعدہ جیسی دیگر دہشت گرد تنظیموں کو پنپنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ خطے میں امریکی اثر رسوخ قائم رکھنے، سی پیک اور چینی مفادات کو ذک پہنچانے، افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے بھی ان تظیموں کی بھرپور آبیاری کی گئی۔ دوسری جانب ہندوستان بھی ٹی ٹی پی کا قیام، تربیت اور مالی معاونت کر کے پاکستانی ریاست کی بقاء و سلامتی پر حملہ آور ہوگیا ۔ آج امریکہ میں افغان شہری کی بظاہر بلاجواز فائرنگ ہو یا تاجکستان کی سرحد کے قریب تین چینی باشندوں کی افغانیوں کے ہاتھوں ہلاکت، پاکستان میں ٹی ٹی پی کی نام نہاد تنظیموں کے نام پر دہشت گردی کی وارداتیں ہوں یا افغان حکومت کے پاکستان سے بے وجہ بگڑتے تعلقات، طالبان کی اپنے غلط مؤقف پر ہٹ دھرمی ہو یا ثالثوں کی کاوشوں کی بے قدری۔ سب سے واضح ہے کہ اب طالبان کی صفوں میں بھی دشمن زور پکڑ چکا ہے اور انہیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت بتدریج تنہا کی جا رہی ہے جبکہ مزاحمت کے دور میں اپنے اعلیٰ مقصد پر یکسو رہنے کے باعث تنہا ہونا نسبتاً آسان تھا۔ تاہم اب جبکہ امارتِ اسلامی افغانستان حکومت پر ریاست اور عوام کی ذمہ داری ہے، ایسے تجاہل عارفانہ رویوں کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا ہوگی۔ چار دہائیوں سے بے یقینی اور انتشار کے شکار افغان عوام کا حق ہے کہ وہ بالآخر اب تو امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔ باوجود کہ ماضی میں متعدد افغان حکومتوں اور پاکستان کے تعلقات آپس میں کشیدہ بھی رہے لیکن پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے رویے اور عمل سے افغان عوام سے محبت، بھائی چارے و اخوت کا ثبوت دیا ہے۔ آج عام پاکستانی دہشت گردی کی اس لہر کا بری طرح سے شکار ہے۔ اس کے بچے سکولوں، کیڈٹ کالجوں، مدرسوں میں غیر محفوظ ہیں جبکہ اسے اپنے روزگار، جان و مال تک کے حوالے سے غیر یعنی صورتحال کا سامنا ہے۔ لامحالہ وہ برسوں کے اس بھائی چارے و اخوت کے رشتے کو فراموش کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ پاکستان مخالف عاقبت نااندیش افغانوں کے فتنہ و شر انگیز بیانات کا پاکستان کی جانب سے جواب کا نتیجہ مزید شر، ہیجان اور انتشار کے سوا کچھ نہیں۔ افغان طالبان کو ادراک ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے توسیع پسندانہ اور کمزور ممالک کو دبانے کے رویے کے باعث کوئی ہمسایہ بھی اس سے خوش یا راضی نہیں۔ ایران سے دوستانہ تعلقات کی آڑ میں بیشتر ایرانی قیادت کو 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں ختم کروانے کا بھی ہندوستان ذمہ دار ہے۔ قطر اور دیگر عرب ممالک میں بھی اس کے کارندے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ ادھر پاکستان پر مئی میں بلا جواز حملہ آور ہو کر منہ کی کھانے کے باوجود وہ ڈھٹائی سے بلوچستان اور کے پی کے میں بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ محمود غزنوی، غوری، احمد شاہ ابدالی، تیمور وغیرہ کو صدیوں بعد آج تک اپنا بدترین دشمن گرداننے والا ہندوستان اپنا بغض چھپا کر افغان طالبان میں موجود ایک گروہ کے ذریعے پراپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کی ترویج کر رہا ہے۔ امریکہ سے 10 سالہ دفاعی معاہدے کی تجدید کر کے دونوں ممالک پس پردہ رہ کر افغانستان میں بگرام ائر بیس لینے کو تیار ہیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ امریکہ کو بگرام بیس چین پر نظر رکھنے کے لیے چاہیے حالانکہ اس کے برعکس یہ ایئر بیس ہندوستان اور اسرائیل کو پاکستان کے جوہری اثاثوں کی نگرانی اور ایران کی ممکنہ جوہری صلاحیت پر کڑی نظر رکھنے کے واسطے درکار ہے۔ چین کا اس بیس کے قریب ایسا کوئی اہم مقام یا تنصیب ہی نہیں جس کی نگرانی کرنا مقصود ہو ۔

افغان طالبان کو اپنے اندر کی کالی بھیڑوں سے فوری نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ معاملات قابو سے باہر ہو جائیں گے اور دشمن ایسی صورتحال میں من مرضی کا فائدہ اٹھا لے گا۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ طالبان میں سنجیدہ اور مخلص افغانوں سے بات چیت کرے۔ افغانوں کی روایات کے مطابق جانبین کے دیرپا امن کے لئے زمینی حقائق کے تناظر میں معاملات طے کرے۔ سب طالبان کو ایک جیسا نہ سمجھے، اپنا مؤقف با اختیار، فہم و فراست والی افغان قیادت یعنی ملاہبت اللہ اخونزادہ کے سامنے رکھے نا کہ ہندوستان سے مالی مفادات لے کر افغان مفادات تک کا سودا کرنے والوں کے بیانیے پر جزباتی ردِ عمل دے۔ امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت افغانستان اور پاکستان کو آپس لڑا کر، وسط ایشیا تک ہماری رسائی روک کر، سی پیک منصوبے کو تباہ کر کے حسبِ عادت خود پتلی گلی سے نکل جائیں گے ۔

؎خوار از مہجوری قرآن شدی

شکوہ سنج گردش دوران شدی

تازہ ترین