مختلف سوشل میڈیا پر وائرل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ملبے تلے جسدِ خاکی کی وائرل تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نکلی۔
ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے مبینہ جسدِ خاکی کو ملبے تلے دکھانے والی ایک تصویر کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے رد و بدل کے واضح شواہد ملے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد ملبے سے نکالا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور فیس بک پر یکم مارچ کو متعدد صارفین نے مذکورہ تصوریر کو شیئر کیا۔
یکم مارچ کو ایک صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملبے تلے شہید آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے رہنما نے جان قربان کر دی، لیکن امتِ مسلمہ نے سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی امام حسین کے پیروکاروں کا سودا کیا۔ اس پوسٹ کو 48 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا اور 30 ہزار صارفین نے پسند کیا۔
اسی نوعیت کی تصویر دیگر صارفین نے بھی شیئر کی، جن میں سے ایک پوسٹ کو 20 لاکھ ویوز اور 16 ہزار لائکس ملے، جبکہ ایک اور پوسٹ کو 46 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔
تصویر میں متعدد امدادی کارکنوں کو بھاری کنکریٹ کے ملبے پر کھڑے دکھایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر ایرانی سُپریم لیڈر کا جسدِ خاکی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل تصویر اور دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے فیکٹ چیک کیا گیا۔ کی ورڈز کے ذریعے تلاش کرنے پر کسی مستند ایرانی یا بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی جانب سے مذکورہ تصویر کی اشاعت یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تصویر کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ ایک ریسکیو اہلکار غیر معمولی انداز میں کنکریٹ کے ٹکڑے پر پورا وزن ڈالے کھڑا دکھائی دے رہا ہے، جو حقیقی امدادی کارروائیوں کے برعکس ہے، کیونکہ امدادی کارروائیاں نہایت احتیاط سے کی جاتی ہیں۔
مزید فرانزک تجزیے کے لیے مختلف اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز استعمال کیے گئے، ان تمام ٹولز نے تصویر کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا۔
تصویر میں ’سینتھ آئی ڈی‘ کا واٹرمارک بھی موجود ہے، جو گوگل کے اے آئی امیج جنریشن ٹولز میں استعمال ہونے والا نشان ہے۔
تصویر کے اگلے حصے میں لکڑی کے شہتیر پر رکھے ہاتھ کی انگلیاں 6 دکھائی دیتی ہیں، جو اے آئی سے تیار کردہ تصاویر میں عام غلطی سمجھی جاتی ہے۔ مزید باریک بینی سے جائزہ لینے پر کنکریٹ سے نکلتی سریوں کی ساخت اور لکڑی کے شہتیروں کی ترتیب بھی غیر معمولی اور بگڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ تصویر پر 2 عربی واٹرمارکس بھی موجود ہیں، جنہیں کسی بھی ڈیجیٹل فائل پر آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے اور یہ تصویر کی صداقت کی تصدیق نہیں کرتے۔
لہٰذا یہ دعویٰ کہ وائرل تصویر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی امریکی اسرائیلی مشترکہ فضائی حملے کے بعد ملبے سے ملنے والے جسدِ خاکی کی ہے، غلط اور بے بنیاد ہے۔