زندہ قومیں اپنے ماضی کی اپنے مستقبل سے زیادہ نگہبانی کیا کرتی ہیں۔آج کی نوجوان نسل جو پاکستان کے سیاسی معاشی اور معاشرتی حالات سے مایوس ہو کر بد دل ہو چکی ہے پاکستان کو فار گرانٹڈلیتی ہے لیکن اگر انہیں معلوم ہو پائے کہ اس مملکتِ خداداد کے حصول کے لیے کن کن حالات و مصائب سے گزر کر آزادی جیسی بیش بہا نعمت میسر آئی تو شاید نوجوان نسل حالات سے دلبرداشتہ ہو کر مایوس ہونے کی بجائے عز م و حوصلہ پائے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے اس ولولے اور پختہ عزم سے ہمکنار ہو سکے جو پاکستان کے قیام کا باعث بنا ۔ایسے وقت جب انگریزوں کے تسلط اور ہندوئوں کے مکارانہ حربوں نے مسلمانوں کو اپنے ہی علاقوں میں تیسرے درجے کا شہری بنا رکھا تھا،مسلمانوں کو انکے جائز حقوق ،خود مختاری اور جداگانہ شناخت کیلئے اکٹھا کرنا ،انہیں ایک تحریک میں منظم کرنا اور اس تحریک کی کامیابی کیلئے جہدِ مسلسل کے ساتھ ساتھ اس تحریک کی کامیابی کیلئے مادی اور مالی وسائل اکٹھا کرنا جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔گِنے چنے مسلمان رئوسا جن میں چند ایک کاروباری اور زمیندار تھے مصلحتوں کا شکار اور مسلمانوں کے اس عظیم ترین مشن میں کھل کر مددگار کے طور پر سامنے آنے سے عاجز تھے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح سمیت مسلم لیگ کے چند مخلص اور بے لوث رہنما اس عظیم مقصدکیلئے دامے درمے سخنے ہر طرح سے ایثار کا مظاہرہ کر رہے تھے۔اس وقت جب لاہور میں پچانوے فیصد تعلیمی اداروں پر ہندوئوں انگریزوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا اجارہ تھا محض پانچ فیصد کے قریب مسلمانوں کے تعلیمی ادارے قائم تھے جنکی حیثیت ثانوی درجے کی تھی۔ بینکنگ ،سرکاری ملازمتوں، انتظامی عہدوں ،صنعتوں اور کاروباری انجمنوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی۔مسلمان تجارتی انجمنوں میں معمولی ملازمتوں پر انحصار کر رہے تھے یا پھر دھوبی ،نائی ،نانبائی ،راج مستری اور اسی طرح کے معمولی پیشوں سے منسلک تھے۔ ہندوئوں، انگریزوں اور سکھوں کے تعصب کا شکار مسلمان معاشرتی اور سیاسی طور پر بھی مفلوک الحال تھے یہاں تک کہ لاہور کے مسیحا کہلانے والے سر گنگا رام اپنے ٹرسٹ میں کسی مسلمان ورکر کو رکھنے کے روادار نہیں تھے۔دیگر اہم اداروں اور انجمنوں میں بھی یہی حالت تھی۔ پھر انگریزوں اور ہندوئوں کے مقابل جدوجہد جاری رکھنا اور اس کے اخراجات برداشت کرنا مسلمانوں کیلئے کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ تحریکِ آزادی کے ان حالات و واقعات کو تاریخ نے کسی حد تک محفوظ کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن بہت سے اہم کرداروں کو تاریخ نے انتہائی بے دردی سے فراموش بھی کر ڈالا ۔قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ بعد میں بھی ان کرداروں کو اس طرح اجا گر نہیں کیا جا سکا جسکے وہ حق دار تھے۔ ایسے ہی کرداروں میں ایک کردار نوجوان مسلمان صنعتکار رفیع بٹ کا بھی تھا رفیع بٹ جس نے سولہ سال کی عمر میں حادثاتی طور پر عملی زندگی میں قدم رکھا ایک چھوٹے سے آلاتِ جراحی کی مرمت کے کام سے کاروباری حلقوں میں داخل ہوا۔ غیر معمولی صلاحیتوں ،انتھک محنت اور جدید رجحانات سے رغبت کی بدولت رفیع بٹ نے نہ صرف خود بے تحاشا ترقی کی بلکہ معاشی چیلنجز کا شکار مسلمانوں کو بھی معاشی ترقی میں اپنے ہم قدم رکھا ۔رفیع بٹ نے محض پچیس سال کی عمر میں برصغیر کی سب سے بڑی آلاتِ جراحی سازی کی صنعت قائم کی اور صرف ستائیس سال کی عمر میں مسلمانوں کا پہلا سینٹرل ایکسچینج بینک قائم کر کے مسلمانوں کو مسابقت کی دوڑ میں شامل کیا۔ تیس سال کی عمر میں رفیع بٹ مسلمانوں کی خود مختاری کی تحریک سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے عظیم قائد مسٹر محمد علی جناح سے متعارف ہوئے اور اپنے تمام تر مالی وسائل کو تحریکِ آزادی کیلئے وقف کر ڈالا۔قائدِ اعظم محمد علی جناح سے عمروں کے واضح فرق کے باوجود رفیع بٹ اور قائدِ اعظم کے مابین قرابت اور ذہنی ہم آہنگی اس بات کا ثبوت تھی کہ قائد اس نوجوان کی ترقی پسند جارحانہ سوچ اور جذبہ ایثار سے بے حد متاثر تھے۔
رفیع بٹ نے تحریکِ آزادی کیلئے نا صرف اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کیا بلکہ کاروباری حلقوں میں موجود اپنے حلقہِ احباب کو بھی اس مقصدکیلئے تیار کیا۔ بہت سی اہم مسلمان کاروباری ، صنعتی اور سیاسی شخصیات کو رفیع بٹ نے مسلم لیگ میں متحرک کیا اور انکی قائد سے ملاقاتوں اور قرابت کا انتظام کیا۔ ان شخصیات میں بیشتر شخصیات کو تاریخ میں تحریکِ پاکستان کے سرکردہ کرداروں میں شمار کیا گیا لیکن تاریخ کا جبر دیکھیے کہ ان لوگوں کو تحریکِ آزادی میں لانے اور قائد سے ملوانے والے رفیع بٹ کو تاریخ نے انکے بے تحاشا ایثار کے باوجود فراموش کر دیا۔قائد آسانی سے کسی سے تحفہ بھی قبول نہیں فرماتے تھے لیکن رفیع بٹ کی طرف سے دئیے گئے تحائف خندہ پیشانی سے قبول فرماتے ایک بار تو قائد نے اُنہیں اور محترمہ فاطمہ جناح کو تحائف بھجوانے پر باقاعدہ خط لکھ کر رفیع بٹ کا شکریہ ادا کیا ۔رفیع بٹ نے اپنی سرجیکل فیکٹری میں ایک نئے یونٹ کا آغاز کیا تو اس کا افتتاح خود قائدِ اعظم محمد علی جناح نے فرما کر ان سے اپنے دیرینہ تعلق کا ثبوت فراہم کیا۔ انگریزوں اور ہندوئوں کے پراپیگنڈا کا موثر جواب دینے اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی جدوجہد کے اغراض و مقاصد کی تشہیر کیلئے رفیع بٹ نے ایک انگریزی روزنامے کے اجراکیلئے ابتدائی خطیر سرمایہ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ تکنیکی اور عملی کردار بھی ادا کیا یہی کردار مسلمانوں کے باوقار انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز کا محرک ثابت ہوا۔رفیع بٹ نے مسلم لیگ کی پلاننگ کمیٹی کا حصہ ہوتے ہوئے مجوزہ مملکت کے معاشی اقتصادی اور صنعتی خطوط کو واضح کرنے کیلئے انتھک محنت کی اور مسلم لیگ پلاننگ کمیٹی کی ذیلی کمیٹیوں کے سربراہ کے طور پر تحقیقاتی رپورٹس اور سفارشات قائد کو پیش کر کے ابتدائی بنیادیں استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ افسوس مسلمانوں اور پاکستان کا یہ عظیم محسن قیامِ پاکستان کے محض ایک سال اور قائد کی رحلت کے محض دو ماہ بعد 26نومبر 1948ءکو کراچی سے لاہور آتے ہوئے وہاڑی کے قریب فضائی حادثے کا شکار ہو گیا ۔ہماری تاریخ اور ہم نے اس بے بدل کردار کو فراموش کرنے میں روایتی بے حسی دکھائی ۔ آج تک رفیع بٹ کی خدمات پاکستانیوں پر قرض ہیں زندہ قومیں ایسے قرض چکانے میں دہائیاں نہیں لگایا کرتیں۔