وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ذمہ دار ریاست ہے، ہمیشہ کوشش کی کہ ہمسائیوں سے بہتر تعلقات رکھے، افغانستان سے بہت عرصے سے دہشتگردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے۔
پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنے لوگوں کے جان و مال کی تحفظ کےلیے ہر طرح کی کارروائی کر رہا ہے، کارروائیاں پاکستان کے اندر بھی جاری ہیں۔ 70 ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کارروائیوں میں مختلف قسم کے لوگ گرفتار ہوئے، دہشتگرد ہلاک ہوئے، یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی، 3 مختلف مقامات اور 7 جگہوں پر کی گئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشتگرد مارے گئے ہیں، بہت سارے شواہد موجود ہیں، زیادہ تر ہلاک دہشتگردوں کی شناخت پاکستان کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور اسکی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتی، دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کروایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف بھی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، لیکن افغانستان دہشتگردی روکنے میں ناکام رہا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان سے یہ شکایت اب صرف پاکستان کی نہیں ہے، مختلف ممالک بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بھی تصدیق کرچکا، ڈھائی درجن کے قریب گروپس افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں، سفارتی کوششوں میں پاکستان نے بہت کوشش کی، ملٹری ٹو ملٹری بھی بہت ساری بات چیت ہوئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سعودی عرب نے دوحہ میں ترکیہ میں بات چیت کی لیکن افغانستان ہمیشہ اپنا فرض نبھانے میں ہچکچاتا رہا۔
انہوں نے کہا اس میں کیا حرج ہے کہ افغانستان سامنے آکر کہے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے مجرم ہیں۔ پاکستان کا افغانستان سے یہی مطالبہ رہا جس میں وہ ناکام رہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو دوسرے آپشن استعمال کرنے پڑے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانی میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں انکا فرض ہے کہ پاکستان اور اس کے شہریوں کے تحفظ کےلیے ایک آواز بن کر سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ ہے لیکن ایپکس کمیٹی اجلاس میں اچھی خبر سامنے آئی، کے پی حکومت نے میٹنگ میں باور کرایا کہ دہشتگردی کی جنگ میں ساتھ کھڑے ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہر سیاسی جماعت، ہر پاکستانی دہشتگرد کی اس جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے پیچھے پاکستان کو محفوظ بنانے کےلیے ایک بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔