• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے موضوع پر کالم کوئی نئی بات نہیں، اس موضوع پر قبل ازیں سینکڑوں کالم لکھے جا چکے ہیں مگر کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ تاہم بیماری دائمی شکل اختیار کر لے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اسی سوچ کے زیر اثر میں نے پرانے موضوع کو چنا ہے کہ شاید فیصلہ سازوں کو عوام پر کچھ ترس آ جائے۔ 2024 کے وسط میں حکومتی اور عوامی سطح پر آئی پی پیز پر خوب لے دے ہوئی۔سرکاری سطح پر سیمینارز ہوئے۔ میڈیا پر ٹاک شوزکے ذریعے عوام الناس کو آئی پی پیز کی اصل کہانی سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت وقت اب اس مسئلےکو حل کر کے ہی دم لے گی مگر ہوا کیا ؟ چند دن شور و غوغا کے بعد کچھ کمپنیوں کے ساتھ معاملات میں رد و بدل کیا گیا ۔ یوں کنویں سے پانی کی چند بالٹیاں تو نکال دی گئیں مگر...! ۔ ستم دیکھئے کہ تمام تر ادراک کے باوجود کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے یہ معاہدے پاکستانی معیشت کیلئے زہر قاتل ہیں ، ہم اس کا تریاق نہ کر سکے ۔ حیرت ہے کہ پہلے تو ہمیں تیس بتیس برس بعد معلوم ہوا ہے کہ’’اوئے ہمارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ‘‘ مزید ستم یہ کہ احساس زیاں کے باوجود ہم اسی ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر سے معلوم ہوا کہ وزارت توانائی نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے... قارئین کرام ویسے تو یہ سنجیدہ موضوع ہے مگر آپ ہنسی روک رکھیے اور انتظار کیجئے کہ کب کسی کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے یا کم از کم چہروں سے پردہ ہی ہٹا دیا جائے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ Take or Pay کے اصول پر کیے گئے ان معاہدوں پر دستخط کرنیوالے ہمارے لوگ اتنے بھولے تھے کہ ’’پروڈکٹ لیں نہ لیں مگر ادائیگی ضرور کریں‘‘ جیسی شرط پر دستخط کر دیے اور ستم در ستم یہ کہ کپیسٹی چارجز ادا بھی فارن کرنسی یعنی ڈالرز میں کیے جائیں گے۔ ایسے معاہدے کرنے والے نہ جانے کس گمان میں تھے کہ انہیں پاکستان اور پاکستانی عوام کا ذرا بھی خیال نہ آیا ۔ جناب یہ کوئی عامیانہ معاہدے نہیں ہیں یہ پچیس کروڑ عوام کے استحصال کا معاملہ ہے۔ یہ پاکستان کے معاشی زوال کا مسئلہ ہے ۔جو جو بھی ان معاہدوں میں ملوث ہے اس نے ملک و قوم کو ایک نہ ختم ہونے والے Vicious circle میں دھکیل دیا ہے۔ پاکستان پرجو197 ارب روپے کے قرضے ہیں اس کا بنیادی سبب ایسے معاہدے ہی ہیں۔ گھریلو صارفین جو مہنگی بجلی کے ہاتھوں ہلکان ہیں، صنعتیں جو مہنگی بجلی کے باعث بند ہیں ، بے روزگاری اور بے روزگاری کے باعث بڑھتے ہوئے جرائم ، اور سب سے بڑھ کر جو ہر سال بڑھتا ہوا Circular debt ہے یہ سب انہی معاہدوں کا کیا دھرا ہے ۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ میں 73 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا جو گزشتہ مالی سال کے چار ماہ کی نسبت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 256 فیصد اضافہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے تمام تر پروگراموں کے باوجود ، بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے ، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور جرمانوں ، بھاری بھرکم بیرونی قرضوں کے باوجود اگر مالی خسارا بڑھ رہا ہے تو بحیثیت قوم اور خاص طور پر ارباب اختیار کوسوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ کدھر جا رہے ہیں ؟ اور آگے کیا ہوگا ؟ ظاہر ہے پھٹی جیب میں جتنی مرضی دولت انڈیلتے جائیں ، جیب خالی ہی رہے گی۔ قومی خزانے میں آئی پی پیز کی صورت میں جو چھید پڑا ہے وہ کبھی قومی معیشت سنبھلنے نہیں دے گا۔ ذرا سوچئے کہ پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز سے بجلی خریدنے کے پس منظر میں آخر کیا فلسفہ کار فرما تھا ؟ ظاہر ہے ملک میں بجلی کی کمی تھی، لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی تھی لہٰذا آئی پی پیز سے بجلی خریدنے میں ہی عافیت سمجھی گئی تاکہ ہماری فیکٹریاں چلتی رہیں ، اندھیرے ختم ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا عشروں بعد بھی یہ سب اہداف حاصل ہوئے ؟ کیا ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی ؟ ان سب کا جواب ہے نہیں ! مزید سوال یہ ہے کہ پھر ہم آئی پی پیز کو آخر کیوں گلے لگائے بیٹھے ہیں؟ اب بھی دیگر اخراجات چھوڑ کر آئی پی پیز کو ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ مہنگی بجلی کے ستائے لوگوں نے جیسے تیسے اپنی چھتوں پر سولر پینل لگا کر قدرے سکھ کا سانس لیا تھا اور اضافی بجلی گرین میٹرز کے ذریعے قومی گرڈ کو دینا شروع کی تو ان آئی پی پیز کو جان کے لالے پڑ گئے کہ اگرایسا ہوتا رہا تو ہماری مہنگی بجلی کون خریدے گا ؟چنانچہ سولر استعمال کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور گرین میٹر سے 22 روپے فی یونٹ خریدنے کی بجائے نصف قیمت پر خریدے جانے کی شنید ہے تاکہ عوام سے پیسہ اکٹھا کرکے آئی پی پیز کو بروقت اور پوری ادائیگیاں کی جا سکیں ۔ عوام کے مقابلے میں آئی پی پیز کو نوازنے کا سلسلہ 2026 میں بھی جاری رہے گا۔ تازہ ترین یہ ہے کہ CPPA یعنی سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فی یونٹ قیمت بڑھانے کی درخواست دائر کر دی ہے جس پر نیپرا نے غور شروع کر دیا ہے جسکے بعد اگلے برس بھی نہ صرف بجلی کے مہنگے دام برقرار رہیں گے بلکہ ان میں مزیداضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ٹھیک ہے جناب اگر ایسے ہی کام چلانا ہے تو چلاتے جائیں ۔ عوام کو اندھیرے دے کر،فیکٹریاں بند کر کے، مہنگی بجلی بیچ کر، آئی ایم ایف کے قرضوں سے، عوام کے جمع شدہ ٹیکسوں سے۔ اگر آئی پی پیز کو بروقت ادائیگیاں کرنی ہیں تو کرتے جائیں۔ عوام توکچھ نہیں کر سکتے ۔ شاید کبھی خود ہی ان آئی پی پیز کا جی بھر جائے اور خدا حافظ کہہ دیں۔آئیے اس وقت کا انتظار کرتے ہیں۔

تازہ ترین