27 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جس نے قوم کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا اور دائمی زخم چھوڑا۔ یہ دن صرف ایک سیاسی رہنما کی شہادت کا نہیں بلکہ جمہوریت، وفاق، عوامی سیاست اور ریاستی تسلسل کے خلاف کی گئی ایک گھناؤنی سازش کی یاد دہانی بھی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید محض ایک فرد نہیں تھیں، وہ ایک نظریہ، ایک تسلسل اور ایک علامت تھیں۔ ان کی سیاست ذاتی مفاد، وقتی مقبولیت یا طاقت کے حصول کے گرد نہیں گھومتی تھی بلکہ وہ ریاستِ پاکستان کو درپیش حقیقی چیلنجز، دہشت گردی، انتہاپسندی، صوبائی محرومیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں ایک متوازن اور مدبرانہ راستہ اختیار کرنے کی قائل تھیں۔بینظیر بھٹو کی سیاست کی بنیاد آئین، پارلیمان اور وفاق پر تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں طاقت کا اصل سرچشمہ عوامی مینڈیٹ ہے، اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہر آمرانہ دور میں بھی سیاسی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ انہوں نے قید و بند، جلاوطنی اور کردار کشی سب کچھ برداشت کیا مگر ریاست کو کمزور کرنے یا اداروں کو آمنے سامنے لانے کی سیاست نہیں کی۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کی قائل نہیں تھیں۔ ان کا وژن یہ تھا کہ مضبوط فوج، فعال پارلیمان اور آزاد عدلیہ ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاست کا تقابل اگر عمران خان اور نواز شریف کی سیاست سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ نواز شریف کی سیاست ابتدا میں اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پروان چڑھی، بعد ازاں طاقت کی کشمکش نے انہیں اداروں سے محاذ آرائی کی طرف دھکیل دیا۔ ان کے بیانیے میں وقت کے ساتھ تضاد بڑھتا گیا۔ کبھی وہ خود کو ووٹ کو عزت دو کا علمبردار کہتے ہیں اور کبھی مفاہمت کے نام پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی سیاست زیادہ تر اقتدار کے گرد گھومتی رہی، جبکہ ریاستی اصلاحات، نچلی سطح پر جمہوریت اور سماجی انصاف ان کے ایجنڈے میں ثانوی رہے۔دوسری جانب عمران خان کی سیاست جذبات، نعرے اور فوری مقبولیت پر مبنی رہی۔ انہوں نے خود کو نظام کے خلاف ایک انقلابی کے طور پر پیش کیا، مگر عملاً ان کی حکمرانی ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بجائے تصادم کی علامت بنی۔ کبھی پارلیمان کو بے وقعت کیا گیا، کبھی عدلیہ پر دباؤ ڈالا گیا اور کبھی ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹا گیا۔ عمران خان کی سیاست میں مستقل مزاجی اور ریاستی بلوغت کا فقدان نظر آیا۔ خارجہ پالیسی ہو یا داخلی سلامتی، ہر معاملے میں جذباتی بیانات نے پاکستان کو غیر ضروری مشکلات سے دوچار کیا۔اس کے برعکس بینظیر بھٹو کا انداز ریاستی ذمہ داری اور سیاسی بلوغت کا مظہر تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک واضح اور مضبوط مؤقف کی ضرورت ہے، مگر ایسا مؤقف جو قومی مفاد کے مطابق ہو، نہ کہ وقتی نعروں کی بنیاد پر۔ وہ افواجِ پاکستان کے کردار سے بخوبی آگاہ تھیں اور سمجھتی تھیں کہ ملک کی سلامتی، سرحدوں کا تحفظ اور داخلی استحکام فوج کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کبھی فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ادارہ جاتی توازن پر یقین رکھا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بینظیر بھٹو شہید ان چند سیاسی رہنماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے عسکری قیادت کے ساتھ اختلاف کے باوجود ریاست کے مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ انہوں نے کبھی فوج کو کمزور کرنے یا بدنام کرنے کی سیاست نہیں کی۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ مضبوط فوج ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے، اور مضبوط پاکستان ہی جمہوریت کے فروغ کا ضامن ہو سکتا ہے۔ یہی سوچ پیپلز پارٹی کی مجموعی سیاست کا بھی حصہ رہی ہے، جس میں ہمیشہ وفاق، سلامتی اور جمہوری تسلسل کو مرکزی حیثیت دی گئی۔27 دسمبر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے ردعمل کی سیاست کے بجائے صبر، برداشت اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ اگر اس وقت پارٹی چاہتی تو ملک کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی تھی، مگر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ثابت کیا کہ پیپلز پارٹی اقتدار سے زیادہ ریاست کو اہمیت دیتی ہے۔ یہ وہ سیاسی بلوغت ہے جو آج کی سیاست میں نایاب ہو چکی ہے۔بینظیر بھٹو کا اصل ورثہ یہی ہے کہ انہوں نے سیاست کو ذاتی انا سے بلند کر کے قومی مفاد سے جوڑا۔ انہوں نے خواتین، اقلیتوں اور محروم طبقات کو سیاسی دھارے میں شامل کیا اور پاکستان کو ایک معتدل، جمہوری اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج جب ہم عمران خان کی احتجاجی سیاست اور نواز شریف کی مفاداتی مفاہمت کو دیکھتے ہیں تو بینظیر بھٹو کی اصولی اور نظریاتی سیاست کی قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے۔27 دسمبر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ شہادتیں نظریات کو ختم نہیں کرتیں بلکہ انہیں مزید مضبوط کرتی ہیں۔ بینظیر بھٹو آج بھی زندہ ہیں، اپنے نظریے میں، اپنے مؤقف میں اور اس سوچ میں کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے جمہوریت، مضبوط ادارے اور باوقار افواج کا امتزاج ضروری ہے۔ یہی ان کا ورثہ ہے اور یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔