ہمارے معاشرے میں کوئی بات ایسی نہیں جس پر سب متفق ہوں۔ ہومیوپیتھک والےایلوپیتھک ڈاکٹروں کو نہیں مانتے، ڈاکٹر ہومیوپیتھک والوں کے خلاف ہیں، حکیم دونوں کے خلاف ہیں، روحانی علاج کرنے والے تینوں کے خلاف ہیں۔ ایک صبح آپ اٹھتے ہیںاخبار کھولتے ہیں،لکھا ہے کہ دل کے امراض میں بائی پاس کرانے کی ضرور ت نہیں کیونکہ ہمارے پاس بغیر آپریشن علاج کی سہولت موجود ہے۔آپ خوش ہوجاتے ہیں اور یہ بات سب کو بتاتے ہیں اتنے میں کوئی صاحب آپ کی ساری خوشی غارت کرتے ہوئے مکمل دلائل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ کس طرح فراڈ کرتے ہیں اور مریض کی صحت سے کھیلتے ہیں۔مشورہ عام طور پر اس لیے لیا جاتاہے تاکہ اسکی روشنی میں اپنی کوئی رائے مرتب کی جاسکے لیکن مشورہ دینے والے اکثر احباب اپنے مشورے کی بے قدری پر سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ میرے ایک محلے دار کو عادت ہے کہ ان سے مشورہ نہ بھی مانگا جائے تو وہ فی سبیل اللّٰہ مشورے بانٹتے پھرتے ہیں جو اِنکے مشورے پر عمل نہیں کرتا اسکی زندگی کی تمام تر ناکامیوں کو اپنے مشورے کی ناقدری سے تعبیر کردیتے ہیں۔مثلاً ایک دفعہ ایک محلے دار نے گاڑی خریدنی تھی۔فرمایاکہ چھوٹی گاڑی مت لیجئے گا۔ محلے دار کے پاس شائد بجٹ کم تھا لہٰذا انہوں نے چھوٹی گاڑی ہی خرید لی۔ اُنہیں اِس گستاخی کا علم ہوا تو دانت پیس کر رہ گئے۔ کچھ دنوں بعد محلے دار کو شدید بخار ہوگیا۔اس کی عیادت کیلئے تشریف لائے اور طنزیہ لہجے میں بولے”اور خریدیں چھوٹی گاڑی.....“
٭ ٭ ٭
کیا ایک عام بندہ اچانک امیر ہوسکتا ہے؟یا یوں کہہ لیجئے کہ ایک غریب انسان کے پاس امیر ہونے کیلئے کوئی اُمید ہے؟قانونی طور پر تو صرف پرائز بانڈ ہی ایک ایسا آسرا ہے جسکے بل بوتے پر سہانے خواب دیکھے جاسکتے ہیں لیکن بانڈ عموماً اُنہی کے نکلتے ہیں جنکے پاس پہلے سے اچھا خاصا مال موجودہوتاہے۔ تو پھر ایک عام بندے کے پاس بہتر زندگی گزارنے کی کیا امید ہوتی ہے؟ اس کے دو تین جوابات ہیں۔ایک تو یہ کہ والد صاحب نے کو ئی گھر بنایا ہواور ساری زندگی یہ امید رکھی جائے کہ کب بزرگوار اللّٰہ کو پیارے ہوتے ہیں اور کب جائیداد میں سے حصہ ملتاہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اسی امید پر زندگی گزارتے ہیں کہ جب انہیں حصہ ملے گا تو وہ اس رقم سے کوئی گھر بنائیں گے یا کاروبار کریں گے۔لیکن عموماً جب ایسا موقع آتاہے تو حصے داروں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاتھ میں صرف اتنے پیسے ہی آتے ہیں جن سے صرف کچھ عرصے کیلئے بجلی کا بل باقاعدگی سے ادا کیا جاسکتاہے۔یعنی طے ہوا کہ صرف اور صرف محنت کے بل بوتے پر ہی چار پیسے جوڑے جاسکتے ہیں ورنہ اچانک سے کہیں بڑی رقم ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ جوا کھیلا جاسکتاہے وہ بھی قانونی طور پر ممنوع ہے۔ویسے بھی جواء کھیلنے والے خوشحال ہوبھی جائیں تو اگلے دن کنگال بھی ہوجاتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
مجھے یاد ہے جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو چھوٹی چھوٹی سی بات پر ماسٹر صاحب ڈنڈا اٹھا لیا کرتے تھے، تھپڑمارنا تو ان کا معمول تھا لیکن کبھی کوئی بچہ گھر جاکر ماں باپ سے شکایت نہیں کرتا تھا۔ میں نے جب بھی ابا جی سے ماسٹر صاحب کی شکایت کی انہوں نے الٹا دو تھپڑ مزید مجھے جڑ دیے کہ یقیناً تم نے ہی کچھ کیا ہوگا۔اُس دور میں والدین بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کراتے وقت ماسٹر صاحب کو بطور خاص یہ جملہ کہا کرتے تھے”کھال آپ کی اور ہڈیاں ہماری“۔ اس کا سیدھا سیدھا سا مطلب ہوا کرتا تھا کہ ہمارے بچے کو انسان بنا دیں ۔اُس وقت کے جو بچے انسان بنے وہ پھر ساری زندگی حیوان نہیں بن سکے۔آج کل پرائیویٹ اسکولوں کا دور ہے ماں باپ بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں اسی لیے کوئی بچہ فیل نہیں ہوتا۔ پرائیویٹ اسکول والوں کو پتا ہے کہ اگر انہوں نے کسی بچے کو فیل کر دیا تو ان کے ہاتھ سے کمائی کا ایک ذریعہ نکل جائیگا۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ کلاس میں کوئی پوزیشن حاصل کرے، اس کا حل بھی پرائیویٹ اسکول والوں نے نکال لیا ہے پہلے پوری کلاس میں کوئی ایک بچہ فرسٹ پوزیشن حاصل کرتا تھا، آج کل پوری کلاس کو تین پوزیشنوں میں تقسیم کر دیا جاتاہے یعنی اگر بیس بچوں کی کلاس ہے تو دس بچوں کی فرسٹ پوزیشن، پانچ بچوں کی سیکنڈ پوزیشن اور پانچ بچوں کی تھرڈ پوزیشن۔والدین بھی خوش اورا سکول کی بھی موجیں....!!!
٭ ٭ ٭
میں نے کئی لوگ دیکھے ہیں جو سارا سارا دن طوفانی تیزی کے ساتھ میسجنگ کرتے ہیں اور اسی بدحواسی میں کہیں کا میسج کہیں بھیج بیٹھتے ہیں اور بعد میں صفائیاں پیش کرتے پھرتے ہیں۔پچھلے دنوں رات تین بجے مجھے ایک دوست کا میسج آیا”سبحان اللّٰہ!ذرا کلوز اپ تو دکھاؤ“۔میں نے حیرت سے میسج کو پڑھا‘ پھر سوچا شائد موصوف میری شکل سے اداس ہوگئے ہیں لہٰذا بیڈ پر لیٹے لیٹے فرنٹ کیمرے سے اپنے چہرے کے انتہائی خوفناک کلوز کی تصویر بنا کر انہیں بھیج دی۔ فوراً ہی ان کا جواب آیا”سوری! یہ میسج تمہارے لیے نہیں تھا۔“اسی طرح ایک دفعہ میرے پروڈیوسر کا میسج آیا”بس اب تو زندگی میں اداسی ہی اداسی ہے‘ کاش کوئی لڑکی مجھے بھی پیار کرتی“۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ موصوف اب تک ڈیڑھ دو درجن عشق فرما چکے تھے‘ میں نے فوراً پوچھا”بھائی صاحب! مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“ اِن کا جواب بھی ٹھاہ کرکے آیا”سوری! غلطی سے آپ کو میسج چلا گیا“۔موبائل فون کے میسجز نے ہر بندے کو عجیب سے ذہنی تناؤ میں گرفتار کر دیا ہے جو بات ایک منٹ کی کال میں کی جاسکتی ہے اس کیلئے ایک گھنٹہ تک میسجنگ کی جاتی ہے اور دونوں طرف کے لوگ پھر بھی اصل بات نہیں کر پاتے۔