• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’آؤ پھر یارِعزیزاں ہی سےمیخانہ جہاں گرم کریں...دیر کے بعد یہ محفل توجمی، ہم نفسو ‘‘شکر کرویہ پہلی جنوری مجھے مسکرانے کا مشورہ دے رہی ہے۔میں اس بچی کا چہرہ دیکھ کر آنکھیں پھاڑے بیٹھی ہوں جسکی یتیمی کا سودا، ایک دہشت گرد کے طور پر کل ہی توکیا جارہا تھا۔ ادھر36سالہ شہید میجر اپنی ماں کے سامنے کہہ رہا ہے۔نیا سال ہے میرے بچوں کو اپنی گود میں چھپالو۔ یہ اداسی کی کیفیت اس لئے بھی ہے کہ25دسمبر کو یوم قائد اور یوم ابن مریم علیہ السلام پہ زبان کھولتے ہوئے شرمندگی ہورہی ہے کہ اسکے دودن بعدبی بی بینظیر بھٹو کی شہادت بالکل کل ہی کی بات تو لگتی ہے۔18سال ہوگئے، بہت لوگ یتیم ہوئے، زندہ درگور ہوئے،بموں سے اڑائے گئے۔ مگر بی بی کا زخم کسی صورت مندمل نہیں ہوتا۔ میرا کلیجہ شق ہوتا ہے جب آصفہ کو ضبط کے ساتھ بیٹھے دیکھتی ہوں۔ زرداری صاحب سے لیکر خود مشرف نے دبئی جاکر منع کیا کہ پاکستان مت جاؤ۔ وہ تو اندر سے جلی بھنی بیٹھی تھی کہ اسے دودفعہ وزیر اعظم بنانے کا کھیل کھیلاگیا، اب بھی اگر یہی کھیل تیسری مرتبہ کھیلنا ہے تو یہ بازی ہارکر بھی میں جیت جائونگی۔ ہنستی ہوئی صبر کرونگی، جانتی ہوں کہ ملکی اور غیر ملکی ساری بدنیت قوتیں میرے خون کی پیاسی ہیں۔ انہی نے مجھے گاڑی میں کھڑے ہونے کا کہا۔وفورِ الفت محبت ملک پاکستان میںوہ کھڑی ہوتے ہی اپنے گرم خون میں نہا کر بھی ہنستی رہی۔ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔ طاہرہ نے مجھے چونکایا، ورنہ میں تو مجسم بی بی بنی گزرےسَموں کو یاد کرتی ہوئی کبھی ہنس پڑتی اور کبھی بلاول کو گود میں بٹھا کر بختاور کو چاکلیٹ اور آصفہ کی گردن اونچی کرتی۔ اب تک ان اٹھارہ برسوں میں، ملک میں ہر روز دہشت گردوں کی گردنیں مجھ پہ ہنستی ہوئی کہتی ہیں’’ منع کیا تھا پاکستان مت جاؤ‘‘۔ یہ ملک ہمارا ہے‘‘۔ میں چونک پڑتی ہوں، اونچی آواز میں اعتماد کے ساتھ بلاول بول رہا تھا۔ اور زمین پہ زرداری صاحب شاید بی بی کی روح کو مٹی میں تلاش کررہے تھے۔کیا سبب ہے ہمیں آج تک قائد اعظم نہیں بھولتے، جبکہ چین میں لوگ ماؤزے تنگ کو بھول رہے ہیں۔ انڈیا میں مہاتما گاندھی کی محنت پہ پھٹکار کی جاتی ہے۔ ترکی میں کمال اتاترک کانام زندہ ہے اور پاکستان کے غریب نہ فاطمہ جناح کو بھولتے ہیں، نہ بھٹو کی شہادت،بی بی تو اپنے دونوں بھائیوں کے خون کو اوڑھ کر ماں کے آخری لمحات بھی نہ دیکھ سکی۔ پاکستان میں بہت سارے آئے، ستارے بن کر خود کو رنگا رنگ طریقوں سے پیش کرتے اور پھر عسکری دوستیاں پال کر، گوشہ سکون میں جاکر سگار سلگا کر کہتے ’’ آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ‘‘۔بی بی ! میں تمہاری شہادت کے چار روز بعد تم سے ملنےگئی تھی۔ گیلی مٹی پر بہت سے پھول رورہے تھے۔ غریب عورتیں چیخ رہی تھیں’’ہمیں تو روٹی دیتی تھی دیکھ تو گئی ہے تو لہسن ادرک بھی نہیں ملتا۔ تونے ہمیشہ دوپٹہ بھرکے آٹا دیاتھا‘‘۔ اور بی بی میں کھڑی تم سے باتیں کررہی تھی۔ تم نے فرسٹ ویمن بینک کا افتتاح اپنی والدہ سے کروایا تھا۔ بہت مرد بینکر سڑ گئے تھے۔ تم نے مجھے اور فہمیدہ ریاض کو شائننگ پوسٹوں پررکھا تھا۔ سارے افسروں کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔ پھر تم نے رعنا کو اول چیئرمین ٹی وی لگایا اور پھر سیکرٹری ثقافت، تمہارے کہنے پہ بیگم کلنٹن کے لنچ پہ ایک دفعہ شیماکرمانی کو کہا وہ تمہاری کلاس فیلو تھی اور پھر ایک دفعہ ناہید کا کلاسیکی ڈانس کروایا تھا۔ تمہیں یہ پسند نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے بی ایم کی گیلری میں سنڈے کے سنڈے سب دوست جمع ہوتے، بیگم بھٹو تمہیں ساتھ لاتیں مجھے کئی دفعہ بیگم بھٹو نے بتایا کہ پنکی کو مجمع پسند نہیں آتا، مگر وہ بار بار اسے تقریبات میں لیکر جاتیں۔ یاد ہے جب بی ایم کو ہچکی لگی تم نے اسے آسٹریلیا علاج کیلئےپریس سیکرٹری بناکر بھیجا۔ وہ تو بی ایم تھا نہ شراب چھوڑی نہ ہچکی، واپس آکر پینٹ کرتے کرتے ایک صبح وہ نہیں تھا۔بی بی ! تمہیں یاد ہے،انڈیا میں فہمیدہ ریاض کیلئےاپنی شادی کا کارڈ بھجوایا تھا، وہی سفارت خانے والے جنہوں نے میری شکایت کی تھی کہ میں فہمیدہ، غدار وطن سے ملی ہوں، اب انہیں اسی غدار کو دعوت نامہ ہی نہیں بلکہ اسکی واپسی کا سارا انتظام کرنا پڑا تھا۔ بی بی !تمہیں ریشماں اور عابدہ پروین کاگانا پسند تھا۔ تمہارا دل کرتا تو کبھی خود بھی انگریزی میں شاعری کرلیتی تھیں اور تمہیں براڈ کاسٹر ہونے کا بھی شوق تھا۔تم پر سکھر جیل میں جب اندوہناک مظالم ہوئے تب تم ایک جوان دوشیزہ تھیں۔تم نے اپنی جوانی اور شادی شدہ زندگی میں سب کچھ سہنے کے باوجود، بس ایک دوانگریز دوستوں کو کچھ بتایا، ورنہ بختاور کے بہت چاکلیٹ کھانے پہ پریشان رہتی تھیں۔اچھااب سنو پاکستان میں بڑے بڑے سرمایہ دار اور نوابزادے آئے ہیں اور یہاں کے سارے سونے اور چاندی کے علاوہ ساری معدنیات کو انگریزوں کی طرح جھولیاں بھرکر لیجانے کے ارادے سے بڑیی بڑی بگڑیاں پہن کر آرہے ہیں۔ ادھر ٹرمپ صاحب ہمیشہ کی طرح بونگیاں ماررہے ہیں۔ بار بار جنگیں بند کرانے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ کبھی کہیں صلح کرواتے، کہیں ایرانیوں کو بڑھکیں مارتے ہیں۔بے چارے صومالیہ والوں کو بندکررہے ہیں۔ جنوبی امریکی ممالک کو کوئی بھی اپنی پسند کی زندگی گزارنے نہیں دےرہا ہے۔اب آخر میں فلموں کی ایک بی بی 91سال کی عمر میں مرگئی ہے۔ وہ اس قدر بے حجابانہ ڈریس اپ ہوتی کہ مرد چسکے لیتے اور عورتیں بھی کھڑکی توڑ رش میں شامل ہوتی تھیں۔ بہت شہرت اور باتوں سے گھبرا کر اس نے فلم لائن چھوڑی اور جانوروں کی پرورش کرتی رہی۔ بڑے مقدمے بھی لڑتی رہی۔ اسکا شوہر بھی مدد کرتا ، کبھی خرگوشوں کو نہلاتا، کبھی ہرن کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا، یہ بی بی فرانس میں رہی اور آخری سانس بھی وہیں لی۔ ہماری بی بی بے نظیر نے بھی کیا جوانی میں اسکی فلمیں دیکھی تھیں۔ہمارے ابا تو منع کرتے تھے یادیں کیسے پھیلتی اور سمٹتی آئیں۔ بی بی تم پرفتح محمد ملک نے بھی کتاب مرتب کی ہے۔ میں سناؤں گی۔

تازہ ترین