• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں اختلاف رائے کی گنجائش ہمیشہ رہی ہے، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنکے بارے میں ایک بات ماننی پڑتی ہے کہ وہ اقتدار کو محض علامت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ شہباز شریف کا شمار انہی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان پر تنقید کی جا سکتی ہے، انکے فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ کام کرنیوالے وزیراعظم ہیں۔ انکی سیاست کا محور نعرہ نہیں بلکہ انتظامی حرکت، فیلڈ میں موجودگی اور ریاستی مشینری کو فعال رکھنارہا ہے۔ لاہور میں وزیراعظم آفس کے پبلک افیئرز یونٹ، یا یوں کہیے کیمپ آفس، کا قیام اسی عملی طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے بھی، معیشت کے اعتبار سے بھی اور سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی۔ ایسے صوبے کے مسائل کو محض اسلام آباد میں بیٹھ کر سمجھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ فائلوں، سمریوں اور بریفنگز میں درج اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر عوام کے اصل دکھ درد، مہنگائی کا دباؤ، بیروزگاری کی اذیت، سرکاری دفاتر کے چکر اور نظام سے مایوسی ان کاغذی رپورٹوں سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کیلئے لاہور میں وزیراعظم کا کیمپ آفس ایک عملی قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایک کہاوت ہے: دیر آید، درست آید۔ لاہور میں کیمپ آفس اسی کہاوت کا عملی اظہار بن سکتا ہے۔وزیراعظم آفس کے تحت پبلک افیئرز یونٹ کا قیام، چمبہ ہاؤس کو اس کا مرکز بنانا، اور اس یونٹ کو محض ایک رسمی دفتر کے بجائے فعال رابطہ مرکز بنانے کی کوشش قابلِ توجہ ہے۔ شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر برائے پبلک افیئرز یونٹ عمران گورائیہ اور کوآرڈینیٹر توصیف شاہ کا کیمپ آفس میں روزانہ بیٹھنااس بات کی علامت ہے کہ حکومت اس دفتر کو محض تختی لگانے تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔خاص طور پر عمران گورائیہ جیسے سیاسی کارکن کی تعیناتی اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ محض افسر شاہی کے ذریعے عوامی مسائل کو مکمل طور پر سمجھنا اور حل کرنا ممکن نہیں۔ عمران گورائیہ جیسے سیاسی کارکن محض کوآرڈینیٹر نہیں بلکہ ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں عوام اور اقتدار کے درمیان۔ یہ بھی قابلِ غور ہے کہ وزیراعظم نے پبلک افیئرز یونٹ کو مکمل طور پر افسر شاہی کے سپرد کرنے کے بجائے سیاسی کوآرڈینیٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران گورائیہ اور توصیف شاہ کی براہِ راست وزیراعظم کو رپورٹنگ اس بات کی علامت ہے کہ عوامی شکایات کو محض ایک انتظامی بوجھ نہیں بلکہ سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ فکر روایتی گورننس سے ایک قدم آگے کی سوچ کا عکاس ہے۔شہباز شریف کے کام کرنے والے وزیراعظم ہونے کا تاثر کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ انکے پورے سیاسی کیریئر کا خلاصہ ہے۔ بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان کا انداز ہمیشہ یہی رہا کہ وہ فیلڈ میں جا کر کام دیکھتے، اچانک دورے کرتے، افسران سے جواب طلبی کرتے اور موقع پر فیصلے کرتے۔ان پر مائیکرو مینجمنٹ کا الزام بھی لگتا رہا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انکے دور میں انتظامی مشینری سست نہیں پڑتی تھی۔ یاد رہے کہ کیمپ آفس یا عوامی شکایات کے ازالے کا تصور پاکستان میں نیا نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیراعظم ہاؤس عوام کیلئے نسبتاً کھلا تھا اور یہی عوامی رابطہ ان کی سیاست کا اہم ستون تھا۔میاں نواز شریف کے ادوار میں بھی وزیراعظم سیکریٹریٹ میں شکایات سیل کو فعال کیا گیا۔جس سے گویا کہ یہ اصول ضرور تسلیم کیا گیا کہ ریاست کی ذمہ داری صرف حکمرانی نہیں بلکہ عوام کی سنوائی بھی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں چیف ایگزیکٹو کمپلینٹ سیل قائم کیا گیا مگر شکایت سننے اور انصاف دینے کے درمیان فاصلہ برقرار رہا۔یوسف رضا گیلانی کے دور میں بھی وزیراعظم ہاؤس میں عوامی درخواستوں کیلئے مخصوص اوقات رکھے گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے توانائی بحران کے دوران فیلڈ میں جا کر فیصلے کیے اور عملی سیاست کی مثال قائم کی۔ ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو وزیراعظم عوام سے جڑا رہا، اس نے کم از کم یہ کوشش ضرور کی کہ شکایات سنی جائیں۔لاہور میں کیمپ آفس کا قیام دراصل اسی روایت کو ایک منظم اور ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے ۔تاہم، واضح رہنا چاہیے کہ دفاتر بنانا کافی نہیں ۔ اصل امتحان عملدرآمد کا ہے۔ اگر یہ پبلک افیئرز یونٹ محض درخواستیں جمع کرنے، رسیدیں دینے اور فائلیں آگے بھیجنے تک محدود رہا تو عوامی مایوسی بڑھے گی۔ لیکن اگر یہاں سے فیصلے ہوں، متعلقہ محکموں کو ڈیڈ لائنز دی جائیں، اور نتائج سامنے آئیں تو یہ ماڈل نہ صرف کامیاب ہوگا بلکہ دوسرے شہروں کیلئے مثال بھی بنے گا۔پاکستان جیسے معاشرے میں اصل مسئلہ اکثر وسائل کی کمی نہیں بلکہ رسائی کی کمی ہوتا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہے، مگر یہ نہیں جانتے کہ بات کہاں کی جائے۔ کیمپ آفس میں عمران گورائیہ جیسے سیاسی کارکن کی موجودگی اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ عوام تک پہنچنےکیلئے پروٹوکول کم اور انسانی رابطہ زیادہ ضروری ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ لاہور میں وزیراعظم آفس کا کیمپ آفس نہ صرف شہباز شریف کے کام کرنیوالے وزیراعظم ہونے کے تاثر کو مضبوط کرتا ہے بلکہ یہ حکمرانی کے ایک مختلف ماڈل کی طرف اشارہ بھی ہے۔پاکستان کو بلا شبہ اس وقت نعروں سے زیادہ ایسے نظام کی ضرورت ہے جو چلتے نظر آئیں۔لاہور میں وزیراعظم کا کیمپ آفس اسی سمت ایک قدم ہے۔ اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ یہ قدم محض اعلان ثابت ہوتا ہے یا واقعی عوامی خدمت کی ایک مضبوط مثال بن جاتا ہے۔

تازہ ترین