حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ سندھ کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے ماضی کے کسی دھندلے فریم کو سامنے رکھ لیتے ہیں۔ پچیس، تیس برس پہلے کا لاڑکانہ، سکھر، روہڑی، حیدرآباداور پھر اسی تصویر کو آج کے سندھ پر منطبق کر دیتے ہیں۔ میں خود بھی اسی فکری جمود کا شکار رہا ۔ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے ہم وہی پرانی لائن دہراتے رہے کہ‘‘روٹی، کپڑا اور مکان’’محض نعرہ تھا، سندھ کی حالت نہیں بدلی۔مگر اس بار جب میں اندرونِ سندھ گیا، تو چونک کر رہ گیا۔ یہ وہ سندھ نہیں تھا جسے میں برسوں سے ذہن میں بسائے پھر رہا تھا۔سکھر پہنچتے ہی سب سے پہلا جھٹکا سڑکوں نے دیا۔ کشادہ، ہموار، منظم ایسی سڑکیں جن پر سفر کرتے ہوئے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ آپ کسی محروم خطے میں ہیں۔ شہر کے اندر داخل ہوں تو منظر کسی ترقی پذیر نہیں بلکہ اعتماد سے کھڑے شہر کا لگتا ہے۔ معروف قومی اور بین الاقوامی برانڈز کے شوروم، گاڑیوں کے جدید ڈیلرشپس، منظم بازار، شاپنگ ایریازیہ سب کچھ سکھر میں موجود ہے۔دل کے جدید اسپتال، بچوں کا الگ اسپتال، اعلیٰ تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں، خواتین یونیورسٹیز، معیاری اسکول اور کالجز جو سہولتیں ہم بڑے شہروں کے نام لکھتے ہیں، وہ سب سکھر میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی غربت کے تاثر میں نظر آئی۔ وہ پرانی محرومی، وہ بوسیدہ لباس، وہ جھکی ہوئی نگاہیںاب کم دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ بہتر لباس میں، بہتر سواریوں میں، بہتر گھروں میں نظر آتے ہیں۔ کھیتوں میں ہریالی ہے، نہریں رواں ہیں، دریائے سندھ کے کنارے زندگی پوری آب و تاب سے سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ سب خودبخود نہیں ہوا۔اس تبدیلی کے پیچھے پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس کی قیادت کا کردار صاف دکھائی دیتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی بصیرت، آصف علی زرداری کی دور اندیش حکمتِ عملی، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی انتظامی گرفت یہ سب مل کر سندھ کی ترقی کی تصویر بناتے ہیں۔ مگر سکھر اور روہڑی کی بات ہو تو ایک نام بار بار ابھرتا ہے، سید ناصر حسین شاہ وزیر بلدیات سندھ، سکھر اور روہڑی سے تعلق رکھنے والے سید ناصر حسین شاہ نے اربوں روپے کی ترقیاتی اسکیمیں متعارف کروائیں اور سب سے اہم بات کہ یہ اسکیمیں فائلوں میں دفن نہیں ہوئیں، زمین پر بولتی نظر آئیں۔ سڑکیں، اسکول، کالجز، شہری اور دیہی سہولتیںیہ سب محض دعویٰ نہیں بلکہ مشاہدہ ہے۔انکے صاحبزادے سید کمیل حیدر شاہ، جو ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین اور لارڈ میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نوجوان قیادت کی ایک سنجیدہ مثال ہیں۔ دیہی سندھ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی، بلدیاتی نظام کی بحالی اور عوامی رابطہ یہ ان کی سیاست کی پہچان بنتی جا رہی ہے، مجھے سب سے زیادہ متاثر ان کے عوامی اندازِ سیاست نے کیا۔ نہ پروٹوکول کا شور، نہ اقتدار کا فاصلہ۔ آج بھی ان کے آبائی گھر پر روزانہ سینکڑوں لوگ اپنے مسائل لے کر آتے ہیں، اور کام ہوتے نظر آتے ہیں۔ سیاست اگر خدمت بن جائے تو اس کا رنگ یہی ہوتا ہے۔نوڈیرو میں محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر شرکت نے ایک اور منظر دکھایا۔ سکھر سے روانہ ہونے والا قافلہ، راستے بھر کھیتوں سے نکلتے لوگ، موٹر سائیکلیں، گاڑیاںجوق در جوق جلسہ گاہ کی طرف رواں تھے۔نوجوانوں کی تعداد نمایاں تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کا اعتماد نئی نسل میں بھی زندہ ہے۔جلسہ گاہ میں نظم و ضبط، اتحاد اور پارٹی ڈسپلن نمایاں تھا۔ قیادت ایک ہی فرش پر، عوام کے بیچ یہ منظر خود ایک پیغام تھا۔ خواتین میں محترمہ بینظیر بھٹو کی مقبولیت آج بھی عروج پر ہے، اور آصفہ بھٹو اس ورثے کو خاموش وقار کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اب صرف ایک نام نہیں، ایک سیاسی امید بن چکے ہیں۔سچ یہ ہے کہ اندرونِ سندھ میں‘‘روٹی، کپڑا اور مکان’’اب نعرہ نہیں رہا، ایک حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کا گمبٹ میں جگر اسپتال اور کیڈٹ کالج سمیت درجنوں منصوبے سندھ کی ترقی کا سبب ہیں اسی لیے سندھ سے پیپلز پارٹی کو جدا کرنا آسان نہیں۔ یہ رشتہ اب ترقی، شناخت اور اعتماد کا رشتہ بن چکا ہے۔
روہڑی سے خیرپور تک سفر کرتے ہوئے احساس مزید گہرا ہوتا گیا۔ خیرپور اب محض ایک تاریخی ریاستی شہر نہیں رہا، بلکہ سندھ کے تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیمی اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ میڈیکل یونیورسٹی، انڈسٹریل زون، کالجز اور تعلیمی ادارے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ شہر ماضی سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک روایت ہےوہ روایت جسکی بنیاد سید قائم علی شاہ نے رکھی، جسے آج نفیسہ شاہ وقار اور فہم کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں، جبکہ اسجد شاہ بھی علاقے میں عملی سیاست اور عوامی رابطے میں متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ خیرپور، روہڑی اور سکھریہ تینوں شہر آج پیپلز پارٹی کی جڑوں کی مضبوطی کی زندہ مثال ہیں۔البتہ ایک بات کہنا ضروری ہے۔اگر یہی نیت، یہی منصوبہ بندی اور یہی توجہ کراچی کو بھی مل جائے، تو سندھ مکمل ہو جائے گا۔آخر میں پورے یقین سے کہتا ہوں’’سندھ بدل چکا ہےاور سندھ فی الحال پیپلز پارٹی کا ہی رہے گا‘‘۔