وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کا ردعمل آنا شروع ہوگیا، مغربی ممالک نے امریکی اقدامات کی حمایت کی ہے جبکہ چین، روس اور ایران نے سخت مذمت کی ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے وینزویلا میں صدر مادورو کے دور کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مادورو کو غیرقانونی صدر سمجھتے تھے، ان کے جانے پر کوئی افسوس نہیں۔ وینزویلا میں پُرامن اور محفوظ انتقالِ اقتدار کےخواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی خواہشات کی عکاس حکومت کی حمایت کرتے ہیں، برطانیہ آئندہ دنوں امریکا سے صورتحال پر مشاورت کرے گا۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی جائز ہے، امریکی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہیں تاہم فوجی مداخلت آمریت کے خاتمے کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی نے وینزویلا کے صدر کی خود ساختہ انتخابی فتح کو تسلیم نہیں کیا، اٹلی وینزویلا میں جمہوری انتقالِ اقتدار کی حمایت کرتا ہے۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کی قانونی جانچ میں وقت لگے گا جبکہ اسپین نے وینزویلا کے معاملے کے پُرامن حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی پُرامن اور جمہوری ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں اپوزیشن رہنما ایڈمنڈو گونزالیز جلد از جلد عبوری عمل کی قیادت سنبھالیں۔ وینزویلا سے متعلق علاقائی شراکت داروں سے بات چیت جاری ہے۔
وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون کی پاس داری کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک بیان میں مارک کارنی نے کہا کہ وینزویلا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔
ادھر روس، چین، ایران، کولمبیا اور کیوبا نے وینزویلا پر امریکی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ لاطینی امریکا کو زون آف پیس رہنا چاہیے، ضروری ہے مزید کشیدگی کو روکا جائے، بات چیت کے ذریعے صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جائے۔
چین نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ایسے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
ایران نے امریکی حملے کو وینزویلا کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کرنے اور ذمے داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔